شام میں فضائیہ کی باغیوں پر بمباری

خلیج عرب کی تیل سے مالدار ریاست قطر نے شامی خانہ جنگی کو بند کرانے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔

عرب گروپ کا موقف ہے کہ شام کے اندر پُر تشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک 70 ہزار سے زاید افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

KARACHI:
دنیا میں قدیم ترین تہذیب کا حامل ملک شام کو داخلی ابتلا میں مبتلا ہوئے دو سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر ابھی تک اس قتل و غارت کو ختم کرانے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت سے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے خبر دی ہے کہ سرکاری جنگی طیاروں نے جمعرات کو شام کے دو شمالی صوبوں پر بمباری کی ہے جب کہ صدر بشار الاسد کے فوجی دستے باغیوں کے قبضے سے بعض علاقے خالی کرانے کے لیے برسرپیکار ہیں اور باغیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ خانہ جنگی میں تازہ اضافہ امریکا اور روس کی طرف سے 26 ماہ (یعنی دو سال دو ماہ) سے جاری داخلی تنازعے کو ختم کرانے کے لیے دونوں متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے بعد ہوا ہے۔

شام میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں قائم تنظیم نے بتایا کہ شامی فضائیہ نے الیپو اور اضلیب کے شہروں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ باغیوں نے الیپو کے باہر قائم فوجی اڈے کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔ یہ علاقہ ترکی کی سرحد کے قریب ہے جس پر باغیوں کا قبضہ ہو چکا تھا تاہم بشار حکومت نے اپنی ائر فورس استعمال کر کے اب (وقتی طور) پر یہ علاقہ خالی کرا لیا ہے۔ عرب ممالک کی افواج میں شامی فضائیہ کے معیار کو بہت اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔


الیپو کے پڑوسی صوبے اضلیب میں باغیوں کی سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شدت پیدا ہونے کی اطلاع ہے۔ دمشق میں سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ سرکاری فوج نے ایک اور گاؤں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ یہ علاقہ لبنان کی سرحد سے متصل ہے۔ اس صورت حال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شام میں امن و امان کی کیا ہے۔ اس وقت عملاً شام میں بدترین خانہ جنگی جاری ہے جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ سرکاری فوجوں کے ہاتھوں مرنے والے بھی شامی ہیں اور باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے بھی شامی ہیں۔

غیر ملکی طاقتیں آرام سے بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہیں۔ادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک عرب گروپ نے شام میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک یادداشت جمع کرا دی ہے جس پر اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی میں غور ہو گا۔ عرب گروپ کا موقف ہے کہ شام کے اندر پُر تشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک 70 ہزار سے زاید افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لیکن اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی قتل و غارت کو بند کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی یا پھر شاید کوئی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بعض مغربی ممالک نے شام کے بارے میں کوئی موثر فیصلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاہم چین اور روس جو مشترکہ طور پر اس وقت شامی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں انھوں نے شامی حکومت پر دباو ڈالنے سے اجتناب کیا۔ اگرچہ جہاں سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرار داد پر عمل درآمد لازمی ہوتا ہے وہاں جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرار داد پر عمل درآمد لازمی نہیں ہوتا۔ تاہم اس سے دنیا کی رائے عامہ کی عکاسی ضرور ہو جاتی ہے اور اس اعتبار سے اس قرار داد کا اخلاقی دباؤ خاصا بڑھ جاتا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے قطر کی طرف سے تیار کردہ قرار داد کا مسودہ گردش کر رہا ہے۔ خلیج عرب کی تیل سے مالدار ریاست قطر نے شامی خانہ جنگی کو بند کرانے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔

واضح رہے سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والی طاقتوں امریکا' برطانیہ' روس' چین اور فرانس کی طرف سے بھی شام میں سیاسی تصفیے پر زور دیا جا رہا ہے لیکن اصل معاملہ پھر وہی مفادات کا کھیل ہے۔سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والی قوتوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جب کہ عرب لیگ کے اپنے مفادات ہیں۔اس کھیل میں نقصان سراسر شام کا ہو رہا ہے۔ عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اب اپنے مفادات میں کوئی ہم آہنگی پیدا کریں تاکہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کوئی صورت نکل سکے۔جس کے نتیجے میں اس بدنصیب ملک میں قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
Load Next Story