11 مئی تاریخ کا نیا ورق
کیا آج ہونے والے انتخابات ملک کو بصیرت سے لیس قیادت دے سکیں گے؟
tauceeph@gmail.com
ISLAMABAD:
11 مئی کا دن ملک کی تاریخ کا منفرد دن ہے۔ آج پاکستان کے عوام 10 ویں بار اپنے حکمرانوں کو منتخب کرنے کا حق استعمال کررہے ہیں۔
آج عوام کی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا بظاہر کردار نہیں ہے مگر دہشت گردی کے ہتھیار کے ذریعے انتخابی نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ 2008ء میں منتخب ہونے والی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرکے رخصت ہوئی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے سے پرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ طے ہوا ہے۔ اس طرح 1970ء میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کے تحت ہونے و الے انتخابات کے بعد سے 9 ویں مرتبہ ہونے والے انتخابات میں عوام دہشت گردی کے ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
2008ء میں ہونے والے انتخابات میں مذہبی انتہاپسندوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر کے ملک میں اعلیٰ قیادت کے بحران کو شدید کردیا تھا۔ کیا آج ہونے والے انتخابات ملک کو بصیرت سے لیس قیادت دے سکیں گے؟ اس کا فیصلہ اگلے 24 گھنٹوں میں ہو جائے گا۔ ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی انتخابات مقررہ تاریخوں پر نہیں ہوسکے۔ اسٹیبلشمنٹ نے 30 سال سے زیادہ عرصے تک اقتدار کو اپنے آہنی پنجوں میں اسیر رکھا اور منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1997ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو سابق صدر فاروق لغاری نے برطرف کیا، 1999ء میں فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اٹک قلع میں قید کیا اور پھر میاں نواز شریف جلاوطن ہوئے۔
بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ جب تک آئین میں منتخب حکومت کو برطرف کرنے کی شق ختم نہیں ہوگی،خودمختار الیکشن کمیشن نہیں ہوگا اور غیر جانبدار عبوری حکومت کے بابت تفصیلات واضح طور پر درج نہیں ہونگی نہ تو منتخب حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرسکے گی اور نہ ہی شفاف انتخابات ممکن ہونگے۔ 2005ء میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت کے تحت آئین میں 18ویں، 19ویں اور 20 ویں ترامیم ہوئیں۔ منتخب حکومت کی آئینی مدت کے مکمل ہونے ،آزاد الیکشن کمیشن کے قیام اور غیر جانبدار نگراں حکومت کے قیام کے لیے آئین میں واضح لائحہ عمل وضع ہوا مگر طالع آزما قوتوں کے حواریوں نے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے شروع کردیے۔
دہشت گردی کے نہ رکنے والے سلسلے نے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات کو تقویت دی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات کا مقصد عوام کو انتخابی عمل سے دور کر کے جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنا تھا مگر انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کا سہرا سابقہ منتخب جماعت پیپلز پارٹی اور سابقہ حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کو جاتا ہے۔ صدر زرداری اور میاں نواز شریف کی بصیرت کی بناء پر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہوئے۔ کچھ عناصر انتخابات کے انعقاد کا سہرا فوج کے سربراہ جنرل کیانی کو دیتے ہیں جو ہمیشہ انتخابات کے انعقاد کے لیے فوج کے تعاون کا اعادہ کرتے رہے مگر تاریخ کے طالب علم فوج کے اس مثبت رویے کو عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے منسلک کرتے ہیں۔
اگرچہ 11 مئی کو 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق انتخابات منعقد ہورہے ہیں مگر ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں کوئی ماہر قطعی طور پر کوئی حتمی بات کرنے سے گریزاں ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران کرکٹر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف ایک موثر پریشر گروپ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ تحریکِ انصاف کے پنجاب اورخیبر پختون خواہ میں بہت بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے ہیں مگر تحریک انصاف سندھ میں کمزور نظر آرہی ہے اور بلوچستان میں بھی یہ جماعت خاصی کمزور ہے مگر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تحریکِ انصاف کے بڑے بڑے جلسے اور عمران خان کی جوشیلی تقاریر نوجوان ووٹرز پر کتنا اثر کریں گی، آج رات گئے تک ظاہر ہوجائے گا۔
1970ء کے بعد سے پہلی دفعہ پیپلز پارٹی انتخابی سرگرمیوں میں سرفہرست نظر نہیں آئی، دہشت گردی کی بناء پر پیپلز پارٹی بڑے جلسے اور جلوس منعقد نہیں کرپارہی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے نمایندے ووٹروں سے براہِ راست رابطے کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے روایتی ووٹروں کے لیے ہے جو ہر صورت میں پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔ یوں اے این پی اور ایم کیو ایم کی انتخابی مہم بھی اس صورتحال کی زد میں آ کر متاثر ہوئیں۔
اے این پی اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیوں کے باوجود میدان میں موجود ہے۔ الطاف حسین لندن سے اپنے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے اپنے مخالفین کے دانت کھٹے کرتے رہے مگر مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے پورے ملک میں بغیر کسی رکاوٹ کے انتخابی مہم چلا ئی۔ بلوچستان میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور دوسری قوم پرست جماعتیں شدید مشکل میں رہیں مکران ڈویژن میں ڈاکٹر مالک سب سے خطرناک صورتحال میں ہیں۔
آزادئ بلوچستان کے حامی نوجوان ان کی زندگی کو ختم کرکے پاکستان کے وفاق پر یقین رکھنے والے ہر شخص کو اپنی بندوقوں سے کچلنا چاہتے ہیں۔ اس انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف کا مستقبل کی جمہوری حکومت کی خودمختاری کے بارے میں واضح لائحہ عمل انتہائی مثبت ہے۔ میاں صاحب واضح کرچکے ہیں کہ ملک کے آئین کے تحت مسلح افواج کو منتخب حکومت کی اطاعت کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ وہ اس امید کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ جنرل کیانی اپنی ملازمت میں توسیع کی خواہش نہیں کریں گے۔ میاں صاحب نے انتخابات کے دوران جمہوری حکومت کی خودمختاری کے بارے میں واضح پالیسی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح میاں صاحب نے بھارت سے خوشگوار تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح 1999ء میں دوستی بس کے ذریعے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور آئے تھے اب وہ اقتدار میں آگئے تو پھر سے دونوں ممالک کے تعلقات ویسے ہی خوشحال ہونگے۔ یہ ایک قومی رہنما کی بصیرت ہے۔
ووٹروں کو اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی جدید دنیا میں حیثیت اور خطے میں امن کے بارے میں سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف مذہبی انتہاپسند انتخابات کو غیر اسلامی قرار دے کر بارود کے ذریعے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان مذہبی انتہاپسندوں کا عقیدہ ہے کہ موجودہ انتخابی طریقہ کار مغربی طرزِحکومت کی پیروری ہے۔ لہٰذا یہ اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس صورتحال میں ووٹروں کی ذمے داری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ووٹروں کا اس صورتحال میں کڑا امتحان ہے کہ وہ ان کیسے ان مذہبی عناصر کو مسترد کرتے ہیں جو جمہوری نظام پریقین نہیں رکھتے مگر محض اقتدار پر قابض ہونے کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ کوئی بھی جماعت انتخابات میں قطعی اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور ایک بار پھر مخلوط حکومتوں کے تجربات ہونگے مگر ہر صورت میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا چاہیے اور منتخب نمایندوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
11 مئی کا دن ملک کی تاریخ کا منفرد دن ہے۔ آج پاکستان کے عوام 10 ویں بار اپنے حکمرانوں کو منتخب کرنے کا حق استعمال کررہے ہیں۔
آج عوام کی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا بظاہر کردار نہیں ہے مگر دہشت گردی کے ہتھیار کے ذریعے انتخابی نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ 2008ء میں منتخب ہونے والی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرکے رخصت ہوئی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے سے پرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ طے ہوا ہے۔ اس طرح 1970ء میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کے تحت ہونے و الے انتخابات کے بعد سے 9 ویں مرتبہ ہونے والے انتخابات میں عوام دہشت گردی کے ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
2008ء میں ہونے والے انتخابات میں مذہبی انتہاپسندوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر کے ملک میں اعلیٰ قیادت کے بحران کو شدید کردیا تھا۔ کیا آج ہونے والے انتخابات ملک کو بصیرت سے لیس قیادت دے سکیں گے؟ اس کا فیصلہ اگلے 24 گھنٹوں میں ہو جائے گا۔ ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی انتخابات مقررہ تاریخوں پر نہیں ہوسکے۔ اسٹیبلشمنٹ نے 30 سال سے زیادہ عرصے تک اقتدار کو اپنے آہنی پنجوں میں اسیر رکھا اور منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1997ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو سابق صدر فاروق لغاری نے برطرف کیا، 1999ء میں فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اٹک قلع میں قید کیا اور پھر میاں نواز شریف جلاوطن ہوئے۔
بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ جب تک آئین میں منتخب حکومت کو برطرف کرنے کی شق ختم نہیں ہوگی،خودمختار الیکشن کمیشن نہیں ہوگا اور غیر جانبدار عبوری حکومت کے بابت تفصیلات واضح طور پر درج نہیں ہونگی نہ تو منتخب حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرسکے گی اور نہ ہی شفاف انتخابات ممکن ہونگے۔ 2005ء میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت کے تحت آئین میں 18ویں، 19ویں اور 20 ویں ترامیم ہوئیں۔ منتخب حکومت کی آئینی مدت کے مکمل ہونے ،آزاد الیکشن کمیشن کے قیام اور غیر جانبدار نگراں حکومت کے قیام کے لیے آئین میں واضح لائحہ عمل وضع ہوا مگر طالع آزما قوتوں کے حواریوں نے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے شروع کردیے۔
دہشت گردی کے نہ رکنے والے سلسلے نے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات کو تقویت دی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات کا مقصد عوام کو انتخابی عمل سے دور کر کے جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنا تھا مگر انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کا سہرا سابقہ منتخب جماعت پیپلز پارٹی اور سابقہ حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کو جاتا ہے۔ صدر زرداری اور میاں نواز شریف کی بصیرت کی بناء پر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہوئے۔ کچھ عناصر انتخابات کے انعقاد کا سہرا فوج کے سربراہ جنرل کیانی کو دیتے ہیں جو ہمیشہ انتخابات کے انعقاد کے لیے فوج کے تعاون کا اعادہ کرتے رہے مگر تاریخ کے طالب علم فوج کے اس مثبت رویے کو عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے منسلک کرتے ہیں۔
اگرچہ 11 مئی کو 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق انتخابات منعقد ہورہے ہیں مگر ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں کوئی ماہر قطعی طور پر کوئی حتمی بات کرنے سے گریزاں ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران کرکٹر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف ایک موثر پریشر گروپ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ تحریکِ انصاف کے پنجاب اورخیبر پختون خواہ میں بہت بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے ہیں مگر تحریک انصاف سندھ میں کمزور نظر آرہی ہے اور بلوچستان میں بھی یہ جماعت خاصی کمزور ہے مگر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تحریکِ انصاف کے بڑے بڑے جلسے اور عمران خان کی جوشیلی تقاریر نوجوان ووٹرز پر کتنا اثر کریں گی، آج رات گئے تک ظاہر ہوجائے گا۔
1970ء کے بعد سے پہلی دفعہ پیپلز پارٹی انتخابی سرگرمیوں میں سرفہرست نظر نہیں آئی، دہشت گردی کی بناء پر پیپلز پارٹی بڑے جلسے اور جلوس منعقد نہیں کرپارہی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے نمایندے ووٹروں سے براہِ راست رابطے کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے روایتی ووٹروں کے لیے ہے جو ہر صورت میں پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔ یوں اے این پی اور ایم کیو ایم کی انتخابی مہم بھی اس صورتحال کی زد میں آ کر متاثر ہوئیں۔
اے این پی اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیوں کے باوجود میدان میں موجود ہے۔ الطاف حسین لندن سے اپنے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے اپنے مخالفین کے دانت کھٹے کرتے رہے مگر مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے پورے ملک میں بغیر کسی رکاوٹ کے انتخابی مہم چلا ئی۔ بلوچستان میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور دوسری قوم پرست جماعتیں شدید مشکل میں رہیں مکران ڈویژن میں ڈاکٹر مالک سب سے خطرناک صورتحال میں ہیں۔
آزادئ بلوچستان کے حامی نوجوان ان کی زندگی کو ختم کرکے پاکستان کے وفاق پر یقین رکھنے والے ہر شخص کو اپنی بندوقوں سے کچلنا چاہتے ہیں۔ اس انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف کا مستقبل کی جمہوری حکومت کی خودمختاری کے بارے میں واضح لائحہ عمل انتہائی مثبت ہے۔ میاں صاحب واضح کرچکے ہیں کہ ملک کے آئین کے تحت مسلح افواج کو منتخب حکومت کی اطاعت کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ وہ اس امید کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ جنرل کیانی اپنی ملازمت میں توسیع کی خواہش نہیں کریں گے۔ میاں صاحب نے انتخابات کے دوران جمہوری حکومت کی خودمختاری کے بارے میں واضح پالیسی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح میاں صاحب نے بھارت سے خوشگوار تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح 1999ء میں دوستی بس کے ذریعے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور آئے تھے اب وہ اقتدار میں آگئے تو پھر سے دونوں ممالک کے تعلقات ویسے ہی خوشحال ہونگے۔ یہ ایک قومی رہنما کی بصیرت ہے۔
ووٹروں کو اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی جدید دنیا میں حیثیت اور خطے میں امن کے بارے میں سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف مذہبی انتہاپسند انتخابات کو غیر اسلامی قرار دے کر بارود کے ذریعے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان مذہبی انتہاپسندوں کا عقیدہ ہے کہ موجودہ انتخابی طریقہ کار مغربی طرزِحکومت کی پیروری ہے۔ لہٰذا یہ اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس صورتحال میں ووٹروں کی ذمے داری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ووٹروں کا اس صورتحال میں کڑا امتحان ہے کہ وہ ان کیسے ان مذہبی عناصر کو مسترد کرتے ہیں جو جمہوری نظام پریقین نہیں رکھتے مگر محض اقتدار پر قابض ہونے کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ کوئی بھی جماعت انتخابات میں قطعی اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور ایک بار پھر مخلوط حکومتوں کے تجربات ہونگے مگر ہر صورت میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا چاہیے اور منتخب نمایندوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔