عباس اطہر میدان صحافت کا شہسوار
ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس کا کبھی اختتام نہیں ہوتا اور شاہ جی بھی اسی لڑائی کے ایک سپاہی تھے.
barq@email.com
اپنے شاہ جی عباس ا طہر بھی ہمارا ساتھ چھوڑ گئے، زندگی کی یہ راہ ہے ہی اتنی کٹھن اور جان لیوا کہ آخر کار انسان کو کہیں نہ کہیں تو گرنا ہی پڑتا ہے، کوئی کب تک بانجھ امیدوں اور لاحاصل کاؤشوں میں لگا رہ سکتا ہے
عالم غبار وحشت مجنوں ہے سربسر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
کل کی امید میں ہم آج جیسے تیسے کر کے جیتے ہیں لیکن انسان کے پاس عمر کے سکے اتنے کم ہوتے ہیں کہ نہایت احتیاط اور کنجوسی سے خرچ کرنے پر بھی بالآخر ختم ہو جاتے ہیں اور شاہ جی تو اتنے طویل فاصلے اتنے دشت و بیابان اور اتنے دشوار گزار راستے طے کرتے رہے ہیں کہ کوئی اور ہوتا تو بہت پہلے ہی گر چکا ہوتا لیکن وہ چلتے رہے لڑکھڑاتے رہے پھسلتے رہے اٹھتے اور پھر گرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اتنی تھکان اپنی درماندگی اور اپنی تکالیف اور دکھوں کے ساتھ وہ ساتھ چلنے والوں کو ہر ہر منزل پر بچھڑتے ہوئے بھی دیکھتے رہے ان کے بے شمار ساتھی
تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار گر گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
لیکن شاہ جی ماتم یک شہر آرزو کے بعد دوبارہ سنبھلتے اٹھتے اور چل پڑتے، اس امید میں کہ شاید کہیں اس منزل کو پا لیں جو ہم سب کی آرزو ہوتی ہے انسانیت کے صحیح مقام کی منزل انسان کی فردوش گم گشتہ کی منزل ۔۔۔۔ جو شاید کہیں موجود ہی نہیں ہے لیکن اہل قلم تو اپنی طبع سے مجبور ہوتا ہے وہ پھر بھی کوشش کرتا رہتا ہے کہ شاید کبھی وہ منزل مل ہی جائے، اہل قلم کی آرزو ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہو جس میں انسان ایک انسان کی طرح رہے، ظلم جبر استحصال اور تجاوز نہ ہو ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق مل جائیں ایک ایسا معاشرہ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
بہشت آں جا کہ آزار ے نہ باشد
کسے را با کسے کار ے نہ باشد
ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس کا کبھی اختتام نہیں ہوتا اور شاہ جی بھی اسی لڑائی کے ایک سپاہی تھے جو بعد میں اپنی محنت خلوص اور لگن سے سالار بن گئے، انھوں نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے معاشرے کی بہتری کی لڑائی کے لیے وقف کر دی تھی اور اس لڑائی میں طرح طرح کے دکھ جھیلے، زخم کھائے اور تکالیف اٹھائیں لیکن بقول رحمٰن بابا (ترجمہ)
یعنی میں کسی درخت کی طرح اپنے مقام پر ''مستقیم'' کھڑا ہوں چاہے خزاں آئے یا بہار
شاہ جی نے بھی صحافت کے اس خار زار میں بڑی کٹھنائیاں جھیلیں، بھوک پیاس کا سامنا کیا بلکہ لٹے پٹے بھی ۔۔۔ لیکن اپنے نظریوں اور عقیدوں سے نہیں ہٹے اور صرف ایک ہی نعرہ لگاتے رہے کہ
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانے
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
لیکن اہل سیاست کو یہ بات کبھی راس نہیں آتی کیوں کہ ان کا تو سارا مفاد ہی نفرتوں، عداوتوں اور لڑاؤ اور حکومت کے اس اصول پر چلتا ہے اس لیے وہ محبت کا پرچار کرنے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتے، یہی سلسلہ شاہ جی کے ساتھ بھی رہا انھوں نے اپنی عمر گراں مایہ صحافت پر وار دی لیکن نہ کبھی جھکے نہ بکے اور نہ ہی تھکے، بس چلتے رہے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
صحافت بھی ان علوم اور پیشوں میں ہے جن کو اگر ایمان و ضمیر کی رہنمائی میں صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو عبادت ہے لیکن اگر اسے محض تن پروری نام و نمود اور کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو ایک ایسا زہر بن جاتا ہے جو ایک طرف معاشرے کو زہریلا بنا دیتا ہے تو دوسری طرف خود استعمال کرنے والے کے ایمان و ضمیر کو بھی ہلاک کر دیتے ہیں یعنی
علم را بر دل زنی یا رے بود
علم را برتن زنی مارے بود
علم کو دل پر لیا اور دل کی رہنمائی میں استعمال کیا تو ''یار'' ہے لیکن اسے دل کے بجائے جسم کے لیے استعمال کیا تو مار ''سانپ'' ہے اور سانپ آخر کار خود اپنے استعمال کرنے والے ہی کو ہلاک کرتا ہے، شاہ جی بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے قلم کو صرف ''دل'' سے استعمال کیا اور تن پروری کا ذریعہ نہیں بنایا انھوں نے متعدد اخباروں میں کام کیا ملک کے لگ بھگ سارے ہی قابل ذکر اخباروں سے منسلک رہے لیکن صحافت کے اصولوں پر کبھی سودا بازی نہیں کی، ان کا قلم ہمیشہ اپنے صحیح راستے پر چلتا رہا اور کسی فرد یا پارٹی یا ادارے کا غلام نہیں بنا بلکہ عوام کا ترجمان رہا ۔
جس کے نتیجے میں وہ اکثر دربدر رہے کبھی یہاں کبھی وہاں ۔۔۔ یوں کہئے کہ صحافتی خانہ بدوش رہے، ہمارا ان سے براہ راست اور بالمشافہ تعلق تو صرف ایکسپریس کے ذریعے پیدا ہوا لیکن بالواسطہ شناخت ایک زمانے سے تھی اس لیے جب وہ ایکسپریس میں ہمارے ساتھ ہوئے یا ہم ان کے ساتھ ہوئے تو پھر بہت قریب سے جاننے کا موقع ملا، ایکسپریس نیوز نے جب ایک پروگرام ''کالم کار'' کا آغاز کیا تو اس ٹاک شو کے اینکر یا کنڈکٹر شاہ جی ہوئے بلکہ یہ آئیڈیا بھی ان ہی کا تھا۔
جس میں ملک بھر کے کالم نگاروں کو بٹھا کر مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی تھی دو چار مرتبہ ہمیں بھی اس پروگرام میں شرکت اور شاہ جی کی صحبت کا موقع ملا بلکہ ان کی وساطت سے ملک کے دوسرے بڑے بڑے صحافیوں اور کالم نگاروں سے ملنے جلنے کا شرف حاصل ہوا جیسے جناب عبدالقادر حسن، مجیب الرحمٰن شامی، ہارون الرشید جیسے نامی گرامی لکھنے والے پروگرام میں آن ایئر تو جو کچھ ہوتا رہا وہ ایک دنیا کو معلوم ہے کیوں کہ جب صحافت کے نامی گرامی ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں اور پھر ان کی سربراہی شاہ جی جیسی ہستی کے ذمے ہو تو پروگرام کی نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
جن باتوں کو سوچتے ہوئے بھی لوگ کئی کئی بار سوچتے تھے وہ اس پروگرام میں بے دھڑک کہی جاتی تھیں، لیکن پس پردہ یعنی پروگرام کے پہلے اور بعد میں شاہ جی سے جو گفتگو رہتی تھی اس سے ہم نے بہت کچھ جانا اور پہچانا، خصوصاً ہم تو بڑے شہروں اور بڑے معاملات سے کافی فاصلے پر رہتے تھے اس لیے بہت سارے حالات سے واقف نہ تھے لیکن یہاں آ کر جاننے ماننے اور سیکھنے کا جو موقع ملا وہ بڑا ہی ناقابل فراموش ہے، شاہ جی بہت کم بولتے تھے کیوں کہ جن دنوں ہمارا ان سے ملن ہوا ان کے جسم و جاں کو بہت سارے روگ لاحق ہو چکے تھے۔
چنانچہ بہت کم بولتے تھے لیکن جو کچھ بھی بولتے تھے نہایت ہی کام کا بولتے تھے، ہمیں بہت ہی افسوس رہے گا کہ صحافت اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اس انسائیکلوپیڈیا سے مستفید ہونے کا موقع بہت کم ملا لیکن جتنا بھی ملا وہ ہر لحاظ سے بیش قیمت رہا، بہرحال یہ تو ایک دن ہونا ہی تھا کیوں کہ انسان جس وقت اپنی پہلی سانس لیتا ہے اسی وقت اس کی سانسوں کا کاونٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے جب پہلا قدم اٹھاتا ہے تو آخری قدم کا فاصلہ سمٹنے لگتا ہے لیکن سانسوں اور قدموں کے اس درمیانی سفر میں کچھ لوگ صرف چل رہے ہوتے ہیں اور کچھ قدم قدم پر اپنے نشان ثبت کرتے چلے جاتے ہیں شاہ جی اس دوسری قسم کے مسافروں میں سے تھے
بناکردند خوش رسمے بہ خوں و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را
بخاک و خون غلطیدن صرف یہ نہیں کہ انسان جسمانی طور پر خاک و خون میں لوٹ پوٹ ہو جائے بلکہ کچھ لوگ خصوصاً اہل قلم کے اندر ایک اور دنیا بھی ہوتی ہے اور شاہ جی کی وہ دنیا یا وہ اندر کی شخصیت ایسی ہی تھی
حال دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلاؤں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خون چکاں اپنا
پشتو کا ایک ٹپہ ہے کہ ''انگلیاں قلم کے ساتھ گلے مل کر رونے لگیں کہ ہمارا خط یعنی لکھا ہوا تو باقی رہے گا لیکن ہم تم خاک ہو جائیں گے''۔
عالم غبار وحشت مجنوں ہے سربسر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
کل کی امید میں ہم آج جیسے تیسے کر کے جیتے ہیں لیکن انسان کے پاس عمر کے سکے اتنے کم ہوتے ہیں کہ نہایت احتیاط اور کنجوسی سے خرچ کرنے پر بھی بالآخر ختم ہو جاتے ہیں اور شاہ جی تو اتنے طویل فاصلے اتنے دشت و بیابان اور اتنے دشوار گزار راستے طے کرتے رہے ہیں کہ کوئی اور ہوتا تو بہت پہلے ہی گر چکا ہوتا لیکن وہ چلتے رہے لڑکھڑاتے رہے پھسلتے رہے اٹھتے اور پھر گرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اتنی تھکان اپنی درماندگی اور اپنی تکالیف اور دکھوں کے ساتھ وہ ساتھ چلنے والوں کو ہر ہر منزل پر بچھڑتے ہوئے بھی دیکھتے رہے ان کے بے شمار ساتھی
تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار گر گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
لیکن شاہ جی ماتم یک شہر آرزو کے بعد دوبارہ سنبھلتے اٹھتے اور چل پڑتے، اس امید میں کہ شاید کہیں اس منزل کو پا لیں جو ہم سب کی آرزو ہوتی ہے انسانیت کے صحیح مقام کی منزل انسان کی فردوش گم گشتہ کی منزل ۔۔۔۔ جو شاید کہیں موجود ہی نہیں ہے لیکن اہل قلم تو اپنی طبع سے مجبور ہوتا ہے وہ پھر بھی کوشش کرتا رہتا ہے کہ شاید کبھی وہ منزل مل ہی جائے، اہل قلم کی آرزو ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہو جس میں انسان ایک انسان کی طرح رہے، ظلم جبر استحصال اور تجاوز نہ ہو ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق مل جائیں ایک ایسا معاشرہ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
بہشت آں جا کہ آزار ے نہ باشد
کسے را با کسے کار ے نہ باشد
ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس کا کبھی اختتام نہیں ہوتا اور شاہ جی بھی اسی لڑائی کے ایک سپاہی تھے جو بعد میں اپنی محنت خلوص اور لگن سے سالار بن گئے، انھوں نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے معاشرے کی بہتری کی لڑائی کے لیے وقف کر دی تھی اور اس لڑائی میں طرح طرح کے دکھ جھیلے، زخم کھائے اور تکالیف اٹھائیں لیکن بقول رحمٰن بابا (ترجمہ)
یعنی میں کسی درخت کی طرح اپنے مقام پر ''مستقیم'' کھڑا ہوں چاہے خزاں آئے یا بہار
شاہ جی نے بھی صحافت کے اس خار زار میں بڑی کٹھنائیاں جھیلیں، بھوک پیاس کا سامنا کیا بلکہ لٹے پٹے بھی ۔۔۔ لیکن اپنے نظریوں اور عقیدوں سے نہیں ہٹے اور صرف ایک ہی نعرہ لگاتے رہے کہ
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانے
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
لیکن اہل سیاست کو یہ بات کبھی راس نہیں آتی کیوں کہ ان کا تو سارا مفاد ہی نفرتوں، عداوتوں اور لڑاؤ اور حکومت کے اس اصول پر چلتا ہے اس لیے وہ محبت کا پرچار کرنے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتے، یہی سلسلہ شاہ جی کے ساتھ بھی رہا انھوں نے اپنی عمر گراں مایہ صحافت پر وار دی لیکن نہ کبھی جھکے نہ بکے اور نہ ہی تھکے، بس چلتے رہے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
صحافت بھی ان علوم اور پیشوں میں ہے جن کو اگر ایمان و ضمیر کی رہنمائی میں صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو عبادت ہے لیکن اگر اسے محض تن پروری نام و نمود اور کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو ایک ایسا زہر بن جاتا ہے جو ایک طرف معاشرے کو زہریلا بنا دیتا ہے تو دوسری طرف خود استعمال کرنے والے کے ایمان و ضمیر کو بھی ہلاک کر دیتے ہیں یعنی
علم را بر دل زنی یا رے بود
علم را برتن زنی مارے بود
علم کو دل پر لیا اور دل کی رہنمائی میں استعمال کیا تو ''یار'' ہے لیکن اسے دل کے بجائے جسم کے لیے استعمال کیا تو مار ''سانپ'' ہے اور سانپ آخر کار خود اپنے استعمال کرنے والے ہی کو ہلاک کرتا ہے، شاہ جی بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے قلم کو صرف ''دل'' سے استعمال کیا اور تن پروری کا ذریعہ نہیں بنایا انھوں نے متعدد اخباروں میں کام کیا ملک کے لگ بھگ سارے ہی قابل ذکر اخباروں سے منسلک رہے لیکن صحافت کے اصولوں پر کبھی سودا بازی نہیں کی، ان کا قلم ہمیشہ اپنے صحیح راستے پر چلتا رہا اور کسی فرد یا پارٹی یا ادارے کا غلام نہیں بنا بلکہ عوام کا ترجمان رہا ۔
جس کے نتیجے میں وہ اکثر دربدر رہے کبھی یہاں کبھی وہاں ۔۔۔ یوں کہئے کہ صحافتی خانہ بدوش رہے، ہمارا ان سے براہ راست اور بالمشافہ تعلق تو صرف ایکسپریس کے ذریعے پیدا ہوا لیکن بالواسطہ شناخت ایک زمانے سے تھی اس لیے جب وہ ایکسپریس میں ہمارے ساتھ ہوئے یا ہم ان کے ساتھ ہوئے تو پھر بہت قریب سے جاننے کا موقع ملا، ایکسپریس نیوز نے جب ایک پروگرام ''کالم کار'' کا آغاز کیا تو اس ٹاک شو کے اینکر یا کنڈکٹر شاہ جی ہوئے بلکہ یہ آئیڈیا بھی ان ہی کا تھا۔
جس میں ملک بھر کے کالم نگاروں کو بٹھا کر مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی تھی دو چار مرتبہ ہمیں بھی اس پروگرام میں شرکت اور شاہ جی کی صحبت کا موقع ملا بلکہ ان کی وساطت سے ملک کے دوسرے بڑے بڑے صحافیوں اور کالم نگاروں سے ملنے جلنے کا شرف حاصل ہوا جیسے جناب عبدالقادر حسن، مجیب الرحمٰن شامی، ہارون الرشید جیسے نامی گرامی لکھنے والے پروگرام میں آن ایئر تو جو کچھ ہوتا رہا وہ ایک دنیا کو معلوم ہے کیوں کہ جب صحافت کے نامی گرامی ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں اور پھر ان کی سربراہی شاہ جی جیسی ہستی کے ذمے ہو تو پروگرام کی نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
جن باتوں کو سوچتے ہوئے بھی لوگ کئی کئی بار سوچتے تھے وہ اس پروگرام میں بے دھڑک کہی جاتی تھیں، لیکن پس پردہ یعنی پروگرام کے پہلے اور بعد میں شاہ جی سے جو گفتگو رہتی تھی اس سے ہم نے بہت کچھ جانا اور پہچانا، خصوصاً ہم تو بڑے شہروں اور بڑے معاملات سے کافی فاصلے پر رہتے تھے اس لیے بہت سارے حالات سے واقف نہ تھے لیکن یہاں آ کر جاننے ماننے اور سیکھنے کا جو موقع ملا وہ بڑا ہی ناقابل فراموش ہے، شاہ جی بہت کم بولتے تھے کیوں کہ جن دنوں ہمارا ان سے ملن ہوا ان کے جسم و جاں کو بہت سارے روگ لاحق ہو چکے تھے۔
چنانچہ بہت کم بولتے تھے لیکن جو کچھ بھی بولتے تھے نہایت ہی کام کا بولتے تھے، ہمیں بہت ہی افسوس رہے گا کہ صحافت اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اس انسائیکلوپیڈیا سے مستفید ہونے کا موقع بہت کم ملا لیکن جتنا بھی ملا وہ ہر لحاظ سے بیش قیمت رہا، بہرحال یہ تو ایک دن ہونا ہی تھا کیوں کہ انسان جس وقت اپنی پہلی سانس لیتا ہے اسی وقت اس کی سانسوں کا کاونٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے جب پہلا قدم اٹھاتا ہے تو آخری قدم کا فاصلہ سمٹنے لگتا ہے لیکن سانسوں اور قدموں کے اس درمیانی سفر میں کچھ لوگ صرف چل رہے ہوتے ہیں اور کچھ قدم قدم پر اپنے نشان ثبت کرتے چلے جاتے ہیں شاہ جی اس دوسری قسم کے مسافروں میں سے تھے
بناکردند خوش رسمے بہ خوں و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را
بخاک و خون غلطیدن صرف یہ نہیں کہ انسان جسمانی طور پر خاک و خون میں لوٹ پوٹ ہو جائے بلکہ کچھ لوگ خصوصاً اہل قلم کے اندر ایک اور دنیا بھی ہوتی ہے اور شاہ جی کی وہ دنیا یا وہ اندر کی شخصیت ایسی ہی تھی
حال دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلاؤں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خون چکاں اپنا
پشتو کا ایک ٹپہ ہے کہ ''انگلیاں قلم کے ساتھ گلے مل کر رونے لگیں کہ ہمارا خط یعنی لکھا ہوا تو باقی رہے گا لیکن ہم تم خاک ہو جائیں گے''۔