الیکشن میں شہریوں کو پر امن ماحول فراہم کیا جائے آئی جی
امیدواروں، پولنگ اسٹاف اور سامان کا تحفظ یقینی بنایا جائے،اجلاس سے خطاب
صوبے میں14ہزار900 پولنگ اسٹیشنوں پر84 ہزار سیکیورٹی اہلکارتعینات ہوں گے. فوٹو: فائل
انسپکٹر جنرل پولیس سندھ شاہد ندیم بلوچ کی زیر صدارت الیکشن کنٹی جینسی پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سینٹرل پولیس آفس میں اہم اجلاس ہوا۔
آئی جی سندھ نے ہدایات دیں کہ شہریوں کو حق رائے دہی کے استعمال کے موقع پر نہ صرف پر امن اور آزادانہ ماحول کی فراہمی ممکن بنائی جائے بلکہ ان کے ساتھ تمام امیدواروں، پولنگ اسٹاف اور پولنگ مٹیریل کی سیکیورٹی کو بھی انتہائی ٹھوس اور غیر معمولی بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس اور الیکشن منتظمین کے ذریعے ان تمام مقامات کی جہاں پبلک اکٹھی ہوگی ویڈیو ریکارڈنگ کے اقدامات کیے جائیں، اس ضمن میں کنٹرول روم میکنزم سے بھی مانیٹرنگ کو ممکن بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ سندھ پولیس الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی پابند ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسران سے رابطوں کے ذریعے ضابطہ اخلاق کی ممکنہ خلاف ورزی کی روک تھام کے ساتھ قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
انھوں نے ہدایات دیں کہ الیکشن سیکیورٹی پلان کے تحت ایڈوانس انٹیلی جنس کلیکشن یونٹس کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات و تحفظات کا بروقت انسداد ممکن ہوسکے، انھوں نے کہا کہ پولنگ مٹیریل کی ترسیل اور پولنگ اسٹاف کی اسٹیشنوں تک رسائی اور مکمل سیکیورٹی کے حوالے سے ضلعی ایس ایس پیز متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران سے روابط کو لازمی بنائیں گے جبکہ رینج ڈی آئی جیز اپنی نگرانی میں پلان پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ الیکشن عمل کی مانیٹرنگ کے لیے آنے والے غیر ملکی مبصرین و ماہرین کی سیکیورٹی کے لیے ہر سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں، اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں تقریباً14ہزار900 پولنگ اسٹیشنوں پر84 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس افسران کو مامور کیا گیا ہے جس میں11 ہزار سے زائد ریزرو فورس بھی شامل ہے، اسی طرح تمام پولنگ بلڈنگ اور پولنگ اسٹیشنوں کے اطراف موبائل پٹرولنگ کیلیے 15 ہزار 350 سے زائد پٹرولنگ پارٹیاں فرائض انجام دیں گی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد بالترتیب تقریباً 3915, 4500, 2235, 2145 ہے جن کے لیے بالترتیب 25150, 23520, 8855, 13280, 13095 سے زائد پولیس افسران اور جوانوں کو سیکیورٹی فرائض پر مامور کیا گیا ہے جبکہ ریزرو پلاٹون کی تعداد بالترتیب 1300, 3335, 1125, 2900, 2510 سے زائد ہے ، اسی طرح موبائل پٹرولنگ پر بالترتیب 5150, 3640, 1230, 2155, 3200 سے زائد پولیس پارٹیوں کو مامور کیا گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق کراچی کے تینوں زونز حیدرآباد ، میرپور خاص ، سکھر اور لاڑکانہ میں انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد تقریباً 9600 ہے۔
آئی جی سندھ نے ہدایات دیں کہ شہریوں کو حق رائے دہی کے استعمال کے موقع پر نہ صرف پر امن اور آزادانہ ماحول کی فراہمی ممکن بنائی جائے بلکہ ان کے ساتھ تمام امیدواروں، پولنگ اسٹاف اور پولنگ مٹیریل کی سیکیورٹی کو بھی انتہائی ٹھوس اور غیر معمولی بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس اور الیکشن منتظمین کے ذریعے ان تمام مقامات کی جہاں پبلک اکٹھی ہوگی ویڈیو ریکارڈنگ کے اقدامات کیے جائیں، اس ضمن میں کنٹرول روم میکنزم سے بھی مانیٹرنگ کو ممکن بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ سندھ پولیس الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی پابند ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسران سے رابطوں کے ذریعے ضابطہ اخلاق کی ممکنہ خلاف ورزی کی روک تھام کے ساتھ قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
انھوں نے ہدایات دیں کہ الیکشن سیکیورٹی پلان کے تحت ایڈوانس انٹیلی جنس کلیکشن یونٹس کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات و تحفظات کا بروقت انسداد ممکن ہوسکے، انھوں نے کہا کہ پولنگ مٹیریل کی ترسیل اور پولنگ اسٹاف کی اسٹیشنوں تک رسائی اور مکمل سیکیورٹی کے حوالے سے ضلعی ایس ایس پیز متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران سے روابط کو لازمی بنائیں گے جبکہ رینج ڈی آئی جیز اپنی نگرانی میں پلان پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ الیکشن عمل کی مانیٹرنگ کے لیے آنے والے غیر ملکی مبصرین و ماہرین کی سیکیورٹی کے لیے ہر سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں، اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں تقریباً14ہزار900 پولنگ اسٹیشنوں پر84 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس افسران کو مامور کیا گیا ہے جس میں11 ہزار سے زائد ریزرو فورس بھی شامل ہے، اسی طرح تمام پولنگ بلڈنگ اور پولنگ اسٹیشنوں کے اطراف موبائل پٹرولنگ کیلیے 15 ہزار 350 سے زائد پٹرولنگ پارٹیاں فرائض انجام دیں گی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد بالترتیب تقریباً 3915, 4500, 2235, 2145 ہے جن کے لیے بالترتیب 25150, 23520, 8855, 13280, 13095 سے زائد پولیس افسران اور جوانوں کو سیکیورٹی فرائض پر مامور کیا گیا ہے جبکہ ریزرو پلاٹون کی تعداد بالترتیب 1300, 3335, 1125, 2900, 2510 سے زائد ہے ، اسی طرح موبائل پٹرولنگ پر بالترتیب 5150, 3640, 1230, 2155, 3200 سے زائد پولیس پارٹیوں کو مامور کیا گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق کراچی کے تینوں زونز حیدرآباد ، میرپور خاص ، سکھر اور لاڑکانہ میں انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد تقریباً 9600 ہے۔