ریکوڈک معاہدہ خلاف قانون اور غیر آئینی ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

معاہدے کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ نے پٹیشن خارج کردی تھی،149صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس نے تحریرکیاہے

7جنوری کومختصرفیصلے میں نئے سرے سے ٹھیکہ دینے کاحکم دیاگیاتھا،ٹی سی سی کوعالمی ثالثی عدالت سے بھی ریلیف نہیں ملا. فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ریکوڈک بلوچستان میں سونا وتانبا کے ذخائر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیرملکی فرم سے کیے گئے معاہدے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے ۔

تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے تحریرکیاہے جو 149 صفحات پر مشتمل ہے ۔تفصیلی فیصلے میں ریکوڈک ٹھیکے کوکالعدم قرار دینے کی وجوہات دی گئی ہیں،سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے رواں سال 7 جنوری کو بلوچستان کے علاقے ریکوڈک سے معدنیات نکالنے کا ٹھیکہ دینے کوکالعدم قرار دیتے ہوئے مختصرفیصلہ سنایاتھا،یہ ٹھیکہ ٹی تھیان کاپرکمپنی کو دیا گیاتھا جسے جماعت اسلامی بلوچستان کے سابق امیر مولانا عبدالحق بلوچ نے بلوچستان ہائیکورٹ میںچیلنج کیا تھا جہاں سے انکی پٹیشن خارج ہوگئی اس پرانھوں نے سپریم کورٹ میںاپیل دائرکی۔




اس دوران طارق اسد،اعظم سواتی سمیت دیگرافرادنے بھی درخواستیں دائرکر دیں جنکی کئی ماہ تک سماعت ہوئی ۔مولانا عبدالحق بلوچ کی جانب سے رضا کاظم پیش ہوئے،عدالت نے طرفین کے دلائل سننے کے بعد ٹی سی سی کو دیا گیا ٹھیکہ کالعدم قرار دیدیا تھا اور حکومت بلوچستان کو نئے سرے سے ٹھیکہ دینے کا حکم دیا تھا اس دوران کمپنی نے عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کیا تھا مگر وہاں سے بھی اسے ریلیف نہیں ملا ۔
Load Next Story