قومی دولت کے ایک ایک پیسے کا آڈٹ ضروری ہےسپریم کورٹ
آڈٹ میں حکومت نے مددنہیں کی،وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈکیس میں ریمارکس
آڈٹ میں حکومت نے مددنہیں کی،وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈکیس میں ریمارکس. فوٹو: فائل
سپریم کورٹ میں میڈیا کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ فنڈزکے آڈٹ کیلیے وفاقی حکومت نے اب تک عدالت کی کوئی مدد نہیں کی۔
آئین کے تحت قومی دولت کے ایک ایک پیسے کا آڈٹ کیا جانا ضروری ہے۔آڈیٹر جنرل کوآئین نے حکومتی اخراجات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا ہے۔اسی لیے آڈیٹر جنرل سے حلف چیف جسٹس لیتا ہے صدر نہیں۔انھوں نے کہاکہ10 ماہ ہوگئے فنڈزکو خفیہ رکھنے سے متعلق وزارت اطلاعات کی جانب سے کوئی قانون نہیں بتایا گیا ۔
ساڑھے 3 ارب کی رقم کا 3 سال میںآڈٹ نہیں ہوا تاہم آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ29اپریل کو آڈٹ کر دیا تھا جس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تاہم عدالت نے کہاکہ یہ رپورٹ قواعدکے تحت آفس میں جمع کرائی جائے۔
آئین کے تحت قومی دولت کے ایک ایک پیسے کا آڈٹ کیا جانا ضروری ہے۔آڈیٹر جنرل کوآئین نے حکومتی اخراجات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا ہے۔اسی لیے آڈیٹر جنرل سے حلف چیف جسٹس لیتا ہے صدر نہیں۔انھوں نے کہاکہ10 ماہ ہوگئے فنڈزکو خفیہ رکھنے سے متعلق وزارت اطلاعات کی جانب سے کوئی قانون نہیں بتایا گیا ۔
ساڑھے 3 ارب کی رقم کا 3 سال میںآڈٹ نہیں ہوا تاہم آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ29اپریل کو آڈٹ کر دیا تھا جس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تاہم عدالت نے کہاکہ یہ رپورٹ قواعدکے تحت آفس میں جمع کرائی جائے۔