افغان امن کوششوں میں پیش رفت کا امکان
افغان مسئلہ غیر معمولی سفارتی اور سیاسی بریک تھرو کا متقاضی ہے۔
افغان مسئلہ غیر معمولی سفارتی اور سیاسی بریک تھرو کا متقاضی ہے۔ فوٹو : فائل
پاک افغان ورکنگ گروپ کے اجلاس میں اسٹرٹیجیکل اور ٹیکٹیکل شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور کثیرجہتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک امریکا عسکری ذرایع نے بھی اجلاس میں ورکنگ گروپوں کے مابین اجلاس اور مشاورت کی تفصیل جاری کی ہے۔
خوش آیند حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور خطے مین استحکام کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا پیغام امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی مخالف حکمت عملی پر نتیجہ خیز گفتگو ناگزیر ہے ، پاک فوج سے قریبی رابطہ جاری ہے، وہ سمجھتے ہیں انگیجمنٹ کے لیے تعلقات میں گہرائی ٹرمپ کی جنوبی ایشائی پالیسی میں اہم کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ فوجی رابطہ جب کہ امن کوششوں میںدونوں ملکوں کی ملٹری ٹو ملٹری بات چیت مثبت نتائج پیدا کرے گی۔ واضح رہے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان وفودکی سطح کی بات چیت کے لیے اتوار کو کابل پہنچ چکی تھیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق مذاکرات افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کے تحت ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کابل پہنچنے کے فوری بعد اظہارخیال کرتے ہوئے تہمینہ جنجوعہ نے کہا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات سے محض دو روزقبل افغانستان میں میری موجودگی اے پی اے پی پی ایس کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کی عکاس ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ اجلاس مین ورکنگ گروپوں نے سفارتی، سیاسی،انٹیلی جنس شیئرنگ ، دہشت گردی مخالف میکنزم، سیکیورٹی، مصالحتی پیش رفت ،دوطرفہ ٹرانزٹ تجارت سے متعلق امور، مواصلات، ٹرانسپورٹ کے معاملات زیر بحث آئے، افغان پناہ گزینوں کے مسائل اور ان کی وطن واپسی، دونوں ملکوں کے عوام میں رابطے کا جائزہ لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ کی سینئراہلکار ایلس ویلس نے امریکی ایوان نمایندگان کی خارجہ امورکمیٹی میں کہا تھاکہ امریکا نے افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کی مکمل حمایت کی ہے۔
پاک افغان تعلقات کے سیاق وسباق میں امریکا کے تبدیل ہوتے ہوئے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے نتیجہ خیز تعلقات کی تجدید کی ضرورت کا ادراک کرچکی ہے، افغان مسئلہ غیر معمولی سفارتی اور سیاسی بریک تھرو کا متقاضی ہے، اس لیے ضرورت پاکستان، افغانستان اور امریکا کو مذاکرات کے میز کی طرف لانے کی ہے ، جنرل ووٹل نے صائب بات کی ہے کہ بات چیت ضروری ہے جب کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی بات چیت میں امریکا اسی گرم جوشی کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور امن کوششوں میں پیش رفت کا منتظر ہے، خطے میں امن کی یہی مثبت حکمت عملی ہے۔جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔
خوش آیند حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور خطے مین استحکام کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا پیغام امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی مخالف حکمت عملی پر نتیجہ خیز گفتگو ناگزیر ہے ، پاک فوج سے قریبی رابطہ جاری ہے، وہ سمجھتے ہیں انگیجمنٹ کے لیے تعلقات میں گہرائی ٹرمپ کی جنوبی ایشائی پالیسی میں اہم کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ فوجی رابطہ جب کہ امن کوششوں میںدونوں ملکوں کی ملٹری ٹو ملٹری بات چیت مثبت نتائج پیدا کرے گی۔ واضح رہے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان وفودکی سطح کی بات چیت کے لیے اتوار کو کابل پہنچ چکی تھیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق مذاکرات افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کے تحت ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کابل پہنچنے کے فوری بعد اظہارخیال کرتے ہوئے تہمینہ جنجوعہ نے کہا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات سے محض دو روزقبل افغانستان میں میری موجودگی اے پی اے پی پی ایس کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کی عکاس ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ اجلاس مین ورکنگ گروپوں نے سفارتی، سیاسی،انٹیلی جنس شیئرنگ ، دہشت گردی مخالف میکنزم، سیکیورٹی، مصالحتی پیش رفت ،دوطرفہ ٹرانزٹ تجارت سے متعلق امور، مواصلات، ٹرانسپورٹ کے معاملات زیر بحث آئے، افغان پناہ گزینوں کے مسائل اور ان کی وطن واپسی، دونوں ملکوں کے عوام میں رابطے کا جائزہ لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ کی سینئراہلکار ایلس ویلس نے امریکی ایوان نمایندگان کی خارجہ امورکمیٹی میں کہا تھاکہ امریکا نے افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کی مکمل حمایت کی ہے۔
پاک افغان تعلقات کے سیاق وسباق میں امریکا کے تبدیل ہوتے ہوئے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے نتیجہ خیز تعلقات کی تجدید کی ضرورت کا ادراک کرچکی ہے، افغان مسئلہ غیر معمولی سفارتی اور سیاسی بریک تھرو کا متقاضی ہے، اس لیے ضرورت پاکستان، افغانستان اور امریکا کو مذاکرات کے میز کی طرف لانے کی ہے ، جنرل ووٹل نے صائب بات کی ہے کہ بات چیت ضروری ہے جب کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی بات چیت میں امریکا اسی گرم جوشی کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور امن کوششوں میں پیش رفت کا منتظر ہے، خطے میں امن کی یہی مثبت حکمت عملی ہے۔جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔