ماڑی پور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فعال
ملک میں ہر طرح کے قدرتی عوامل میسر ہونے کے باوجود انتظامی سطح پر غفلت و لاپرواہی نے مسائل کو گنجلک بنادیا ہے۔
ملک میں ہر طرح کے قدرتی عوامل میسر ہونے کے باوجود انتظامی سطح پر غفلت و لاپرواہی نے مسائل کو گنجلک بنادیا ہے۔ فوٹو:انٹرنیٹ
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کردیا، ماڑی پور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ یومیہ 77 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرے گا، جس کے ذریعے ملیر، کورنگی، لیاری، ہارون آباد اور ماڑی پور کے سیوریج کے پانی کو صاف کرکے سمندر برد کیا جائے گا۔
بلاشبہ کراچی کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی مثبت کام ہے جس کا آغاز چیف جسٹس صاحب کی طرف سے کیا گیا، آج کی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جس کے باعث نہ صرف موسموں میں تغیرات بلکہ کئی انسانی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس نے بالکل صائب کہا کہ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کو بچانے کے لیے پانی دینا ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں،کیا ہم نے اپنے وسائل کی قدر کی، ہمیں اپنے لوگوں کے لیے یہ پانی بچانا ہے، پانی آیندہ نسلوں کی امانت ہے، گلگت بلتستان میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں، ہم اپنے سمندر کو آلودہ کررہے ہیں جو ہم سب کے لیے خطرناک ہے۔ چیف جسٹس نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے افتتاح کے بعد پودا بھی لگایا۔
واضح رہے کہ ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کئی سال سے غیر فعال تھا۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ ملک میں ہر طرح کے قدرتی عوامل میسر ہونے کے باوجود انتظامی سطح پر غفلت و لاپرواہی نے مسائل کو گنجلک بنادیا ہے۔
جناب چیف جسٹس ملک میں پانی کے ذخائر کی کمی اور دیگر عوامی مسائل کی جانب اپنی نگاہ کررہے ہیں جو کہ ایک خوش آیند امر ہے، انھوں نے اپنی ذمے داریوں سے آگے بڑھ کر ملک کے حالات بہتر کرنے کی ٹھانی ہے جس کی قدر کی جانی چاہیے۔
مذکورہ ٹریٹمنٹ پلانٹ یومیہ 77 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرے گا جس کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ سمندر کی آلودگی میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مسائل پر سیاست چمکانے کے بجائے عوام کی دادرسی کی جائے اور انسانی مسائل کو گنجلک ہونے سے روکا جائے۔
بلاشبہ کراچی کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی مثبت کام ہے جس کا آغاز چیف جسٹس صاحب کی طرف سے کیا گیا، آج کی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جس کے باعث نہ صرف موسموں میں تغیرات بلکہ کئی انسانی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس نے بالکل صائب کہا کہ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کو بچانے کے لیے پانی دینا ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں،کیا ہم نے اپنے وسائل کی قدر کی، ہمیں اپنے لوگوں کے لیے یہ پانی بچانا ہے، پانی آیندہ نسلوں کی امانت ہے، گلگت بلتستان میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں، ہم اپنے سمندر کو آلودہ کررہے ہیں جو ہم سب کے لیے خطرناک ہے۔ چیف جسٹس نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے افتتاح کے بعد پودا بھی لگایا۔
واضح رہے کہ ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کئی سال سے غیر فعال تھا۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ ملک میں ہر طرح کے قدرتی عوامل میسر ہونے کے باوجود انتظامی سطح پر غفلت و لاپرواہی نے مسائل کو گنجلک بنادیا ہے۔
جناب چیف جسٹس ملک میں پانی کے ذخائر کی کمی اور دیگر عوامی مسائل کی جانب اپنی نگاہ کررہے ہیں جو کہ ایک خوش آیند امر ہے، انھوں نے اپنی ذمے داریوں سے آگے بڑھ کر ملک کے حالات بہتر کرنے کی ٹھانی ہے جس کی قدر کی جانی چاہیے۔
مذکورہ ٹریٹمنٹ پلانٹ یومیہ 77 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرے گا جس کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ سمندر کی آلودگی میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مسائل پر سیاست چمکانے کے بجائے عوام کی دادرسی کی جائے اور انسانی مسائل کو گنجلک ہونے سے روکا جائے۔