انتخابات سے قبل فروخت حصص مارکیٹ 757 پوائنٹس نیچے 41000 کی حد گر گئی
الیکشن کے باعث سرمایہ کار محتاط، نئی پوزیشن لینے سے گریز،کاروبارشروع ہوتے ہی منافع کیلیے فروخت
322 میں سے237کمپنیوں کی قیمتیں گھٹ گئیں،سرمایہ کاروں کو1کھرب 23 ارب روپے کانقصان۔ فوٹو: آن لائن/فائل
ROME:
عام انتخابات سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے بجائے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دینے کے باعث پاکستان اسٹاک میں پیر کو شدید مندی چھائی رہی جس کے نتیجے میںانڈیکس کی 41000 کی نفسیاتی حد بھی کھو بیٹھی جبکہ 73.60 فیصدحصص کی قیمتیں گر گئیں جس سے سرمایہ کاروں کے 1 کھرب 23 ارب 40کروڑ 6 لاکھ روپے ڈوب گئے۔
گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیرکو کاروبارکا آغاز منفی زون میں ہوا اورٹریڈنگ کی ابتداسے ہی الیکشن قریب ہونے کے پیش نظر سرمایہ کار محتاط اور نئی پوزیشن لینے میں تذبذب کا شکار نظر آئے جس کے نتیجے میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور وقت گزرنے کے ساتھ فروخت کا دباؤ بڑھتا رہا جس کے نتیجے میں 41000 پوائنٹس کے ساتھ کئی حدیں یکے بعد دیگرے گرتی چلی گئیں، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 757.77پوائنٹس کی کمی سے 40463.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کے ایس ای 30 انڈیکس 425.40پوائنٹس گھٹ کر 19972.95،کے ایم آئی30 انڈیکس 1418.61پوائنٹس کی کمی سے 67407.85 اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 433.73پوائنٹس گھٹ کر29513.28پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
کاروباری حجم جمعہ کی نسبت51 فیصدکم رہا اورمجموعی طور 10 کروڑ 89لاکھ 99ہزار860 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیاں کا دائرہ کار 322 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جس میں سے69کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،237 کے بھاؤ میں کمی اور 16 کمپنیوں کے نرخوںمیںاستحکام رہا، مارکیٹ کیپٹل 1 کھرب 23 ارب 40 کروڑ 6 لاکھ روپے کی کمی سے 83 کھرب 52 ارب 80 کروڑ 98 لاکھ روپے رہ گیا۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے لحاظ سے سب سے زیادہ اضافہ رفحان میظ کے حصص میں ہوا جس کی قیمت 378.10روپے کے اضافے 7940.10روپے ہو گئی، اسی طرح فلپ موریس کے حصص کی قیمت 115روپے کے اضافے2415روپے ہو گئی جبکہ یونی لیورفوڈز کے حصص کی قیمت 404.99روپے کی کمی سے 7695 روپے اور نیسلے پاک 380.95 روپے کی کمی سے10628.30روپے ہوگئی۔
گزشتہ روزپاک انٹر بلک کی کاروباری سرگرمیاں 1 کروڑ 8لاکھ شیئرز کے حصص کے ساتھ سرفہرست رہیں جبکہ کے الیکٹرک، لوٹے کیمیکل، بینک آف پنجاب، ڈی جی خان سیمنٹ، پی آئی اے سی، جاہ صدیق کمپنی، اینگرو پولیمر، فوجی فوڈز اور ٹی آر جی پاک کے حصص کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں بھی نمایاں رہیں۔
عام انتخابات سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے بجائے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دینے کے باعث پاکستان اسٹاک میں پیر کو شدید مندی چھائی رہی جس کے نتیجے میںانڈیکس کی 41000 کی نفسیاتی حد بھی کھو بیٹھی جبکہ 73.60 فیصدحصص کی قیمتیں گر گئیں جس سے سرمایہ کاروں کے 1 کھرب 23 ارب 40کروڑ 6 لاکھ روپے ڈوب گئے۔
گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیرکو کاروبارکا آغاز منفی زون میں ہوا اورٹریڈنگ کی ابتداسے ہی الیکشن قریب ہونے کے پیش نظر سرمایہ کار محتاط اور نئی پوزیشن لینے میں تذبذب کا شکار نظر آئے جس کے نتیجے میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور وقت گزرنے کے ساتھ فروخت کا دباؤ بڑھتا رہا جس کے نتیجے میں 41000 پوائنٹس کے ساتھ کئی حدیں یکے بعد دیگرے گرتی چلی گئیں، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 757.77پوائنٹس کی کمی سے 40463.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کے ایس ای 30 انڈیکس 425.40پوائنٹس گھٹ کر 19972.95،کے ایم آئی30 انڈیکس 1418.61پوائنٹس کی کمی سے 67407.85 اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 433.73پوائنٹس گھٹ کر29513.28پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
کاروباری حجم جمعہ کی نسبت51 فیصدکم رہا اورمجموعی طور 10 کروڑ 89لاکھ 99ہزار860 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیاں کا دائرہ کار 322 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جس میں سے69کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،237 کے بھاؤ میں کمی اور 16 کمپنیوں کے نرخوںمیںاستحکام رہا، مارکیٹ کیپٹل 1 کھرب 23 ارب 40 کروڑ 6 لاکھ روپے کی کمی سے 83 کھرب 52 ارب 80 کروڑ 98 لاکھ روپے رہ گیا۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے لحاظ سے سب سے زیادہ اضافہ رفحان میظ کے حصص میں ہوا جس کی قیمت 378.10روپے کے اضافے 7940.10روپے ہو گئی، اسی طرح فلپ موریس کے حصص کی قیمت 115روپے کے اضافے2415روپے ہو گئی جبکہ یونی لیورفوڈز کے حصص کی قیمت 404.99روپے کی کمی سے 7695 روپے اور نیسلے پاک 380.95 روپے کی کمی سے10628.30روپے ہوگئی۔
گزشتہ روزپاک انٹر بلک کی کاروباری سرگرمیاں 1 کروڑ 8لاکھ شیئرز کے حصص کے ساتھ سرفہرست رہیں جبکہ کے الیکٹرک، لوٹے کیمیکل، بینک آف پنجاب، ڈی جی خان سیمنٹ، پی آئی اے سی، جاہ صدیق کمپنی، اینگرو پولیمر، فوجی فوڈز اور ٹی آر جی پاک کے حصص کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں بھی نمایاں رہیں۔