الیکشن کا سنگ میل اور صبر آزما حقائق

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن کمیشن بیرون ملک پولنگ کے انتظامات نہیں کرسکا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری بان کی مون نے تمام پاکستانی ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ان تاریخی انتخابات میں ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ فوٹو: فائل

قوم نے انتخابات کے ذریعے ایک زبردست جمہوری جست لگا کر اس سنگ میل تک پہنچنے کی تاریخ ساز کوشش کی جسے عالمی برادری سے وابستہ تنظیمیں اور مانیٹرنگ وفود 11 مئی کے الیکشن کے نتائج کی روشنی میں پرکھنے کے لیے بیتاب نظر آرہے ہیں۔

ماضی سے قطع نظر ان انتخابات کے انعقاد میں نامساعد حالات اور داخلی مشکلات کا کوئی حساب نہیں، کیونکہ یہ انتہا پسندی و بربریت پر یقین رکھنے والی قوتوں کی برپا کردہ دہشت گردی کے مہیب سائے اور ہولناک قتل و غارت کی دھمکیوں اور اس کے لرزہ خیز عملی مظاہر کے باوجود نگراں حکومت نے منعقد کیے جو ایک عظیم کارنامہ ہے۔

ملک کی اہم سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی پارٹیز کی شمولیت اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے مشروط ہے اور کسی کو پسند ہو یا نا ہو ووٹ کے ذریعہ پاکستانی قوم کے اس عزم کو بھی اجاگر کیا گیا کہ وہ کسی دھونس ،دھمکی اور دھاندلی کے سامنے سر جھکانے والی نہیں اور الیکشن پروسیس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر اہل وطن نے ان قومی اداروں سے بھرپور تعاون کیا جن کے کندھوں پر ایک بھاری ذمے داری ڈالی گئی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری بان کی مون نے تمام پاکستانی ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ان تاریخی انتخابات میں ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ الیکشن کمیشن نے طے کردہ شیڈول کے مطابق الیکشن2013کے حوالے سے ملک بھر میں تمام تیاریاں مکمل کرلیں جس میں رائے دہندگان کو اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا کہ پاکستان بدلے گا یا نہیں۔ قوم کے فیصلے کی روشنی میں ملکی تقدیر کے بدلنے کا خواب جتنا سہانا ہے اسی قدر جمہوریت کی بقا اور ملکی سیاسی ،اقتصادی اور داخلی صورتحال کے استحکام کی ضمانت بھی ہے۔

11 مئی فیصلے کا دن تھا۔ملک بھرمیں ساڑھے8 کروڑ ووٹرز نے قومی اسمبلی کی272اورصوبائی اسمبلیوں کی 577 نشستوں کے لیے اپنے نمائندوںکاچناؤ کیا ، پاکستان بھرمیں پولنگ صبح8 بجے شروع ہوئی جوشام 5 بجے تک جاری رہنی تھیںلیکن چونکہ اکثر پولنگ اسٹیشن پر دیر سے پولنگ شروع ہونے کی شکایات تھیں اس لیے ملک بھر میں پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا، کراچی کے 7 حلقوں میں پولنگ کا وقت 8 بجے تک کردیا گیا جبکہ بعض حلقوں میں پولنگ وقت سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔

پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی حلقوں میںشیر، تیراوربلے میں کانٹے کامقابلہ دیکھنے میں آیا، انتخابات کے موقع پرافغان سرحد سیل کردی گئی ، قومی کے2اور4صوبائی حلقوں پرانتخابات ملتوی ہوچکے ہیں، عام انتخابات کی ڈیوٹی کے لیے 75ہزار فوجی اہلکارتعینات کیے گئے ۔آئی ایس پی آرکے مطابق الیکشن ڈیوٹی کے لیے650 ٹن بیلٹ پیپرزفوجی جوانوں نے ملک کے مختلف اضلاع میں پہنچائے ، اس مقصدکے لیے50 ہیلی کاپٹرکے ذریعے بیلٹ پیپرزکی نگرانی عمل میں لائی گئی جب کہ مختلف حساس جگہوں پرسیکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے گئے اس کے علاوہ حساس جگہوںکی سیکیورٹی کے لیے سراغ رساںکتوںکی مدد بھی لی گئی۔کراچی میں تمام انتہائی حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پرپاک فوج کے اہلکارتعینات کردیے گئے ۔

تاہم ان انتظامات کے باوجود ملک بھر کے بعض انتخابی حلقوں میں پولنگ سے ایک روز قبل اور الیکشن کے دن دہشت گردی، بم دھماکوں ، تشدد، بیلٹ بکس چھیننے، پولنگ سٹیشنوں پر خواتین اور مردعملے سے بدتمیزی کے واقعات بھی رونما ہوئے ۔ادھر سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمدخان نے کہا کہ نیا پاکستان جنم لے گا، فوج نے الیکشن کمیشن کی بھرپور معاونت کی ، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا ۔عام انتخابات کی کوریج کے لیے 400 غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے پہنچے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی خصوصی ہدایات پر صوبائی حکومتوں نے غیر ملکی صحافیوں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق بھارت، امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ترکی، چین، بنگلا دیش، سری لنکا سمیت دنیا بھر سے صحافی کوریج کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ یورپی یونین مبصرین مشن کے سربراہ مسٹر مائیکل گاہلر نے اسلام آباد کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا ۔ یورپی یونین کے 100 سے زائدانتخابی مبصرین آئے ہیں۔


ان انتخابات کا ایک خوش آئند پہلو یہ ہے کہ سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ ایف آر ریجنز پر مشتمل قبائلی علاقوں میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے، صدر پاکستان کی جانب سے گزشتہ سال 14 اگست کو پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کو فاٹا تک توسیع دی تھی جس کے باعث امیدوار سیاسی جماعتوں کے نام،جھنڈے اور انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اترے ،فاٹا میں15ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکارتعینات کیے گئے ،520 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قراردیا گیا جب کہ ملک بھر میں ہونے والے انتخابات میں 45 لاکھ تارکین وطن پاکستانی ووٹ نہیں ڈال سکے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن کمیشن بیرون ملک پولنگ کے انتظامات نہیں کرسکا۔ دوسری جانب ووٹرز نے دلیری دکھائی ۔ کالعدم تحریک طالبان نے خبردار کیا تھا کہ ووٹرز اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ نہ کریں کیونکہ بقول ان کے جمہوریت اسلام کے خلاف ہے اور یہ کفر کا نظام ہے۔باڑہ اکاخیل میں کالعدم لشکر اسلام کی عوام کو ووٹ پول نہ کرنے کی دھمکی دی ، ایک پراسرار پمفلٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی نے ووٹ پول کیا تواسے 50 ہزار روپے جرمانہ عائد اور انگلیاں کاٹ دی جائیں گی،اس کے ساتھ ہی 5 سے زائد خودکش حملہ آور کے لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ اضلاع کی حدود میں داخل ہونے اور بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم امیدواروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

چنانچہ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد اور پولنگ شروع ہونے سے پہلے امیدواروں پر حملوں کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا اور کراچی ،میرانشاہ، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں پر تشدد واقعات میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ مگر دیکھا جائے تو جمہوریت سرخرو ہوئی اور دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم میں مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی اور مغربی میڈیا نے پاکستان میںہونیوالے عام انتخابات پر کڑی نظر رکھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد نیا پاکستان جنم لے گا۔مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی گئی ، دونوں جماعتوں کی انتخابی مہم بھی انتہائی کانٹے دار رہی ۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے لکھا کہ لوگوں کو نئے پاکستان کا خواب دکھایا جارہا ہے۔

ٹیلی گراف نے لکھا کہ قومی اسمبلی کی 272 نشستوں پر ووٹنگ ہوناہے اور پہلی مرتبہ ایسی صورتحال بن چکی ہے کہ کسی جماعت کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے نے لکھا کہ تاریخی پارلیمانی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ طالبان کا کردار بھی انتہائی اہم ہے جو ان انتخابات سبوتاژ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

تاہم کراچی میں پولنگ کے دوران غیر معمولی اور توجہ طلب شکایات کے انبار لگ گئے اور کئی حلقوں میں پولنگ معطل ہوئی ۔انتخابی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں الیکشن پر سوالیہ نشان قرار دیا ، ن لیگ نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکارکردیا ۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ پولنگ کا وقت بڑھایا جائے۔

ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے بے ضابطگیوں اور پولنگ سٹیشنوں پر قبضے کے خلاف شدیدتحفظات کا اظہار کیا گیا ، نبیل گبول نےNA -248 لیاری جب کہ جے یو پی نے کراچی اور حیدرآباد سے بائیکاٹ کا اعلان کیا جب کہ جماعت اسلامی ، جے یو آئی(ف) ، مہاجر قومی موومنٹ، سنی اتحاد کونسل ، کچھی رابطہ کمیٹی ،ادھربلوچستان میں جمہوری وطن پارٹی نے بلوچستان میں الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔نواز شریف نے کہا کہ جماعت اسلامی کو بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔مجلس وحدت المسلمین نے این اے253 کے امیدوار اور 11 کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی شکایت کی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کراچی کی این اے-253 251-250جب کہ حیدرآباد میں این اے 220-221 کے بعض پولنگ سٹیشنوں کی بابت شکایات ملی ہیں ان کاجائزہ لینے کے بعد دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کیا جائے گا،جبکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہم کراچی میں شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو کراچی کی تشویش ناک صورتحال اور پولنگ کے حوالہ سے پیدا شدہ شکایات کا بہ نظر غائر جائزہ لینا ہو گا تاکہ شفاف الیکشن کی مجموعی ساکھ پر کوئی آنچ نہ آئے۔بہر حال قوم کو یہ انتخابات مبارک ہوں۔
Load Next Story