لاہور کے سرکاری پلازہ میں آتشزدگی

پاکستان میں جوڑ توڑ کی سیاست اور بدعنوانی نے اس کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔

افسوس ناک بات تھی کہ ریسکیو کے لیے آنے والی گاڑیوں میں سے کسی کے پاس ایک جال تک نہیں تھا جسے نیچے تان کر اوپر والی منزلوں سے گرنے والوں کی جان بچائی جا سکتی۔ فوٹو: اے پی پی

پاکستان میں بلند و بالا عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایسی عمارتوں میں جب بھی آتشزدگی ہوئی' بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اول تو ایسی عمارتوں میں آگ پر قابو پانے کے انتظامات نہیں ہوتے' اگر ہوتے بھی ہیں تو یہ انتہائی ناقص ہوتے ہیں۔ دوسرا حکومت کے اداروں کے پاس بھی ایسے انتظامات یا ساز و سامان نہیں ہے جس سے وہ عمارتوں میں پھنسے ہوئے افراد کو ہنگامی طور پر باہر نکال سکیں یا آگ پر جلد قابو پایا جا سکے۔

تازہ ترین واقعہ لاہور میں ہوا جہاں ایل ڈی اے کے ہیڈ آفس کی بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارت کی بالائی منزلوں پر لگنے والی آگ پر 23 گھنٹوں میں بمشکل قابو پایا جا سکا جب کہ جان بچانے کے ناقص انتظامات اور ذمے دار اداروں کی نااہلی کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 28 سے تجاوز کر گئی۔ متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اس آتشزدگی کے نتیجے میں دھوئیں سے دم گھٹ کر مرنے والے تو ایک طرف لیکن عمارت سے جان بچانے کے لیے چھلانگیں لگانے والے جس طرح ٹی وی کیمروں کی عکس بندی کے دوران موت کے منہ میں جاتے نظر آئے وہ مناظر یقیناً دہلا دینے والے تھے۔


کس قدر افسوس ناک بات تھی کہ ریسکیو کے لیے آنے والی گاڑیوں میں سے کسی کے پاس ایک جال تک نہیں تھا جسے نیچے تان کر اوپر والی منزلوں سے گرنے والوں کی جان بچائی جا سکتی۔ ایسا ہی ایک دردناک واقعہ گزشتہ دنوں کراچی میں پیش آیا تھا جب ایک نوجوان ایک بلند و بالا عمارت سے نیچے گر کر جاں بحق ہوا تھا۔ اس المناک حادثے سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اگر اس طرح کی تمام بلند عمارات کے حفاظتی انتظامات کی پڑتال کا کوئی اہتمام کیا جا سکے تو یہ آئندہ کے لیے اس قسم کے المیوں کو جنم دینے میں مانع ہو سکتا ہے۔ ان اہم حفاظتی انتظامات سے غفلت پورے ملک میں پھیلی نظر آتی ہے۔

ابھی حال ہی میں کراچی میں بھی ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے اسی بناء پر سیکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن اس سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا گیا۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں مفاد عامہ کے لیے ان کیے گئے اداروں کو تباہ کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ جیسا انتہائی اہم ادارہ حکومتی کم توجہی کی وجہ سے اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے۔

اس ادارے کے پاس آگ بجھانے والے جدید آلات ہیں نہ نئی گاڑیاں۔ یوں یہ محض نام کا ادارہ ہے۔ پاکستان میں جوڑ توڑ کی سیاست اور بدعنوانی نے اس کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ بڑے شہروں میں میگا اسٹوری عمارتیں تو بن جاتی ہیں لیکن یہ قانون کے مطابق نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلند و بالا عمارتوں میں آگ لگتی ہے تو بے پناہ جانی نقصان ہوتا ہے۔
Load Next Story