شاہ جی سیاست جن کے لیے عبادت تھی
ایک زمانہ تھا جب افتخار جالب اور ان کے ساتھیوں نے جدید شاعری کا غلغلہ بلند کیا تھا۔
zahedahina@gmail.com
صبح سویرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ لاہور سے لطیف چوہدری تھے جو عباس اطہر کے گزرنے کی خبر دے رہے تھے۔ عباس اطہر... جید صحافی، جدید شاعری کا ایک اہم نام، روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر، جو عرفِ عام میں ''شاہ جی'' کہلاتے تھے، وہ کئی مہینوں سے بیمار تھے۔ کینسر نے ان کا گھر دیکھ لیا تھا۔ شاہ جی آخری سانس تک اس سفاک مرض سے شان بے نیازی کے ساتھ لڑے۔
ایک زمانہ تھا جب افتخار جالب اور ان کے ساتھیوں نے جدید شاعری کا غلغلہ بلند کیا تھا۔ عباس اطہر ان ہی میں سے ایک تھے۔ وہ شاعر تھے، نکیلے سجیلے شاعر، صحافت کے میدان میں قدم نہ رکھتے تو اپنے قبیلے کا ایک بڑا نام ہوتے لیکن وقت نے انھیں کوچہ صحافت میں لاکھڑا کیا اور پھر وہ اس کوچے میں ایسے گم ہوئے کہ بہت کم لوگوں کو یاد رہا کہ صحافت کی بھول بھلیوں میں کیسا شاعر کھویا گیا۔
کراچی کا باسی ہونے کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ پنجاب کے علمی، ادبی، سماجی اور صحافتی زندگی کے اہم کرداروں سے دوست داری کا وہ رشتہ قائم نہیں ہوتا جو زندگی کو زیادہ معنی خیز بناتا ہے۔ میں نے شاہ جی کی رہنمائی میں صحافت کے گُر نہیں سیکھے لیکن گزشتہ 7 برس سے اس اخبار کے لیے کالم لکھتی رہی جس کی سربراہی وہ کرتے تھے۔ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی سیاست کے عاشق تھے۔ ایسے عاشق کہ بعض اختلافات کے باوجود پیپلزپارٹی سے ان کا رشتہ آخری سانس تک نہ ٹوٹا۔
شاہ جی ذوالفقار علی بھٹو کے ماتم دار تھے۔ بھٹو صاحب کی معزولی، گرفتاری اور پھر قدم بہ قدم تختہ دار تک ان کا جانا... ایسے واقعات تھے جنھوں نے ان گنت لوگوں کے اندر مزاحمت کی ایسی آگ بھڑکائی جو کبھی نہیں بجھی ان ہی میں سے ایک شاہ جی بھی تھے۔... وہ کراچی کے روزنامہ ''انجام'' کے بعد لاہور چلے گئے۔ جہاں وہ ''آزاد'' سے وابستہ ہوئے، پھر ''مساوات'' کے مدیر ہوئے۔ انھوں نے جب ذوالفقار علی بھٹو کا وہ بیان چھاپا جو عدالت میں دیا گیا تھا تو ان کے دوست حیران رہ گئے۔
ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ عباس اطہر جن کے پیپلزپارٹی سے اختلافات بھی تھے۔ انھوں نے یہ بیان چھاپنے کی ہمت کیسے کی۔ جنرل ضیاء الحق... عباس اطہر کی اس 'جسارت' پر سیخ پا ہوگئے وہ عباس اطہر جنھوں نے 70ء اور 71ء میں عامل صحافیوں کے لیے ایک شاندار لڑائی لڑی تھی، اپنے ساتھیوں کو ان کا حق دلایا تھا اور اس کی پاداش میں ملازمت سے نکالے گئے تھے۔
وہی عباس اطہر ایک بار پھر اپنی روزی روٹی کے درپے تھے۔ اس مرتبہ انھوں نے ایک ایسے جرنیل کی حکم عدولی کی تھی جس نے غاصبانہ طور سے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور جو اس حقیقت سے واقف تھا کہ جس طرح ایک میان میں 2 تلواریں نہیں رہ سکتیں، اسی طرح قبر صرف ایک مردے کو قبول کرتی ہے۔ ملک میں جنرل ضیا کے خلاف جس طرح کی نفرت اور حقارت تھی، اس کو نظر میں رکھتے ہوئے وہ بھٹو صاحب کو زندہ نہیں چھوڑ سکتے تھے، دوسری صورت میں موت خود ان کا مقدر ہوتی۔ اسی لیے انھوں نے ہر اس آواز کو کچلنا اپنا آسمانی فرض جانا جو ان کے خلاف اٹھ رہی تھی۔
وہ زمانے یاد آتے ہیں تو کیسے کیسے چہرے نگاہوں میں پھر جاتے ہیں۔ رسائل اور جرائد پر پابندی تھی، ڈیکلریشن ملنا تو دور کی بات تھی، ذرا سا بھی اختلاف کرنے والے پرچوں کے اجازت نامے منسوخ ہورہے تھے۔ ایسے میں عبداﷲ ملک صاحب نے ایک کتابی سلسلہ ''احتساب'' نکالا۔ پاکستان میں لکھے جانے والے مزاحمتی ادب کا عطر اسی ''احتساب'' میں شائع ہوا۔ اس میں شاہ جی کی دہکتی ہوئی نظمیں بھی تھیں۔ اس پر سے مستزاد بھٹو صاحب کا عدالت کے سامنے بیان جس کی اشاعت پر پابندی تھی لیکن شاہ جی نے اسے اہتمام سے اخبار میں شائع کردیا تھا۔
یہ ناقابلِ معافی جرائم تھے۔ اشارہ ہوا، شاہ جی اٹھائے گئے، فوجی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ دکھاوے کا مقدمہ چلا۔ سزا ہوئی اور پھر وہ شاہی قلعہ پہنچا دیے گئے۔ حسن ناصر وہاں کے شداید اور اذیتوں کو سہہ کر جان سے گزر گئے تھے، عباس اطہر وہ ظلم و ستم سہہ گئے۔ ان کی پشت ادھیڑ دی گئی۔ شاید، عقوبت خانے کی کسی دیوار پر ان کی کھال کا کوئی ٹکڑا چپکا رہ گیا ہو۔ سوکھ کر کسی روزنِ دیوار کا حصہ بن گیا ہو۔ بصارت اور بصیرت دونوں کسی آمر کو برداشت نہیں، تب ہی سچ کہنے والے اندھے کنویں میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ عباس اطہر کا بھی یہی حشر ہوا۔
وہ آخری سانس تک پیپلزپارٹی کے فدائی رہے۔ انھیں باپ کی طرز سیاست سے اختلاف تھا۔ بیٹی کے بعض معاملات سے بھی وہ خوش نہیں تھے۔ اس کے باوجود بی بی جب لوٹ کر آئیں تو انھوں نے ان کا استقبالیہ گیت لکھا ''بھٹو کی بیٹی آئی ہے''۔ پنجابی کے ایک لوک گیت کو انھوں نے سیاسی رنگ میں رنگ دیا اور جب تک پیپلزپارٹی ہے یہ گیت زندہ رہے گا۔ بی بی آئیں اور پھر چلی بھی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے عشاق آج بھی اس گیت کو سنتے ہیں اور اپنا چہرہ آنسوؤں سے دھوتے ہیں۔
شاہ جی سے میری چند ملاقاتیں تھیں۔ لندن میں میاں نواز شریف کی بلائی ہوئی کانفرنس کے دوران وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے تھے، کھانے کے وقفے کے دوران ہم میں سے کچھ لوگ ہوٹل سے باہر نکل گئے تھے۔ اندر سگریٹ پینے پر پابندی تھی اور شاہ جی سگریٹ کے لیے بے قرار ہورہے تھے۔ بی بی اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط ہوچکے تھے۔ ہم سب لوگوں کی خواہش تھی کہ یہ میثاق مستحکم ہو اور ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں جنرل پرویز مشرف کی آمریت سے نجات حاصل کرسکیں۔
وہ اس حوالے سے باتیں کرتے رہے اور پھر 'ایکسپریس، ٹریبیون' کے گروپ ایڈیٹر جناب ضیاء الدین اور ان کے چند ذاتی دوست آگئے، میں نے اُن سے اجازت لی اور ہال میں واپس چلی گئی جہاں ایک بار پھر سے گفتگو شروع ہونے والی تھی۔ اس کے بعد لاہور میں ''کالم کار'' کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے کئی ملاقاتیں رہیں اور پھر کراچی میں جب 'ایکسپریس' کے پرومو کی فلم بندی ہورہی تھی۔ پرومو بہ وجوہ نہ چل سکا لیکن دل میں ان کی مہربان شخصیت کا عکس رہ گیا۔
میں نے جب پہلی ملاقات میں ان کے مجموعے ''دن چڑھے دریا چڑھے'' کا حوالہ دیا تھا تو انھوں نے چونک کر مجھے دیکھا تھا۔ جدید شاعری اب پرانی بات ہوچکی تھی ۔ میں نے ان سے اپنے کتابی سلسلے ''روشن خیال'' کا ذکر کیا جس میںان کی کئی نثری نظمیں شائع ہوئی تھیں۔کئی نظمیں ''احتساب'' سے لی گئی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں چمک ابھری جیسے ماہ و سال کی ساعتوں میں گم ہوجانے والی ان کی محبوبہ کا ذکر ہورہا ہو۔ وہ نرمی سے مسکراتے رہے اور مجھے کچھ حیرت سے دیکھتے رہے۔ ان کے قریبی دوست ان کی ٹریڈ یونین جدوجہد اور صحافت کے حوالے سے ان کے بارے میں بہت کچھ لکھیں گے لیکن میں اس شاہ جی کو یاد کرنا چاہتی ہوں جس نے جبر و استبداد کی کڑی دھوپ جھیلی، جس کی کمر کی کھال چھیلی گئی اور پھر بھی وہ مزاحمتی شاعری سے باز نہ آیا۔
ان کی نظم ''ایک تھا بادشاہ'' یاد آرہی ہے جس میں انھوں نے اس بادشاہ کا قصہ لکھا تھا جو تخت شاہی پر بیٹھا تو حکم دیا کہ ملک کے تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کے چوراہوں پر پھانسیاں گاڑی جائیں۔ سولی کی سزا پانے والوں اور انھیں سولی پر لٹکانے والوں کو زحمت نہ ہو، کہیں دور نہ جانا پڑے۔ ادھر معتوب کو سزا سنائی جائے، ادھر جلاد قریب ترین چوک پر اسے سولی دے۔ اس بادشاہ کی شاہی میں سانس لینے والی رعیت کی آدھی عمر جیلوں میں کٹی اور آدھی ان اذیتوں سے پہنچنے والے زخموں پر آہ بھرتے اور گر یہ و زاری کرتے ہوئے۔
ہر وہ شخص جس نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا چاہا، اس کی گردن کٹی۔ جس کے شانے پر بغاوت کے علم لہرائے اس کے بازو کٹے کہ دنیا کا کوئی بھی یزید بغاوت کا آب حیات، انقلاب کے دریائے فرات سے انکار کی مشک میں بھر کر لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بادشاہ کے دور میں بولنے والوں کی زبانیں کٹیں، لکھنے والوں کی انگلیاں تراشی گئیں اور وہ جس نے ظلم کی شکایت کی، اسے اُس کے بدن سے رہائی ملی کہ نہ بدن ہوگا، نہ اُس پر ظلم کیا جاسکے گا۔
شاہ جی کی یہ طویل نظم اس عہد کے جوانوں کا مرثیہ ہے جو اختلاف کی قیمت اپنی جان سے ادا کررہے تھے، جن کے لیے انقلاب... ٹویٹر، فیس بک اور سوشل میڈیا پر بلند بانگ دعوؤں کا نام نہیں تھا۔ انھوں نے اور ان کے کئی ساتھیوں نے ٹکٹکی پر کوڑے کھائے، چھ فٹ کے کئی جوان سگ خانوں میں رکھے گئے اور جب برسوں بعد آزاد ہوئے تو پھر وہ کبھی سیدھے کھڑے نہ ہوسکے۔ جمہوریت کی حمایت اور آمریت کے خلاف مزاحمت شاہ جی اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نزدیک عبادت تھی۔ 2013 کے انتخابات ایسے ہی سیاسی کارکنوں کی شاندار جدوجہد کا ثمر ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس ثمر سے فائدہ اٹھانے والوں کی مخالفت کا سب سے بڑا ہدف بھی یہی سیاسی کارکن اور رہنما ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب افتخار جالب اور ان کے ساتھیوں نے جدید شاعری کا غلغلہ بلند کیا تھا۔ عباس اطہر ان ہی میں سے ایک تھے۔ وہ شاعر تھے، نکیلے سجیلے شاعر، صحافت کے میدان میں قدم نہ رکھتے تو اپنے قبیلے کا ایک بڑا نام ہوتے لیکن وقت نے انھیں کوچہ صحافت میں لاکھڑا کیا اور پھر وہ اس کوچے میں ایسے گم ہوئے کہ بہت کم لوگوں کو یاد رہا کہ صحافت کی بھول بھلیوں میں کیسا شاعر کھویا گیا۔
کراچی کا باسی ہونے کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ پنجاب کے علمی، ادبی، سماجی اور صحافتی زندگی کے اہم کرداروں سے دوست داری کا وہ رشتہ قائم نہیں ہوتا جو زندگی کو زیادہ معنی خیز بناتا ہے۔ میں نے شاہ جی کی رہنمائی میں صحافت کے گُر نہیں سیکھے لیکن گزشتہ 7 برس سے اس اخبار کے لیے کالم لکھتی رہی جس کی سربراہی وہ کرتے تھے۔ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی سیاست کے عاشق تھے۔ ایسے عاشق کہ بعض اختلافات کے باوجود پیپلزپارٹی سے ان کا رشتہ آخری سانس تک نہ ٹوٹا۔
شاہ جی ذوالفقار علی بھٹو کے ماتم دار تھے۔ بھٹو صاحب کی معزولی، گرفتاری اور پھر قدم بہ قدم تختہ دار تک ان کا جانا... ایسے واقعات تھے جنھوں نے ان گنت لوگوں کے اندر مزاحمت کی ایسی آگ بھڑکائی جو کبھی نہیں بجھی ان ہی میں سے ایک شاہ جی بھی تھے۔... وہ کراچی کے روزنامہ ''انجام'' کے بعد لاہور چلے گئے۔ جہاں وہ ''آزاد'' سے وابستہ ہوئے، پھر ''مساوات'' کے مدیر ہوئے۔ انھوں نے جب ذوالفقار علی بھٹو کا وہ بیان چھاپا جو عدالت میں دیا گیا تھا تو ان کے دوست حیران رہ گئے۔
ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ عباس اطہر جن کے پیپلزپارٹی سے اختلافات بھی تھے۔ انھوں نے یہ بیان چھاپنے کی ہمت کیسے کی۔ جنرل ضیاء الحق... عباس اطہر کی اس 'جسارت' پر سیخ پا ہوگئے وہ عباس اطہر جنھوں نے 70ء اور 71ء میں عامل صحافیوں کے لیے ایک شاندار لڑائی لڑی تھی، اپنے ساتھیوں کو ان کا حق دلایا تھا اور اس کی پاداش میں ملازمت سے نکالے گئے تھے۔
وہی عباس اطہر ایک بار پھر اپنی روزی روٹی کے درپے تھے۔ اس مرتبہ انھوں نے ایک ایسے جرنیل کی حکم عدولی کی تھی جس نے غاصبانہ طور سے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور جو اس حقیقت سے واقف تھا کہ جس طرح ایک میان میں 2 تلواریں نہیں رہ سکتیں، اسی طرح قبر صرف ایک مردے کو قبول کرتی ہے۔ ملک میں جنرل ضیا کے خلاف جس طرح کی نفرت اور حقارت تھی، اس کو نظر میں رکھتے ہوئے وہ بھٹو صاحب کو زندہ نہیں چھوڑ سکتے تھے، دوسری صورت میں موت خود ان کا مقدر ہوتی۔ اسی لیے انھوں نے ہر اس آواز کو کچلنا اپنا آسمانی فرض جانا جو ان کے خلاف اٹھ رہی تھی۔
وہ زمانے یاد آتے ہیں تو کیسے کیسے چہرے نگاہوں میں پھر جاتے ہیں۔ رسائل اور جرائد پر پابندی تھی، ڈیکلریشن ملنا تو دور کی بات تھی، ذرا سا بھی اختلاف کرنے والے پرچوں کے اجازت نامے منسوخ ہورہے تھے۔ ایسے میں عبداﷲ ملک صاحب نے ایک کتابی سلسلہ ''احتساب'' نکالا۔ پاکستان میں لکھے جانے والے مزاحمتی ادب کا عطر اسی ''احتساب'' میں شائع ہوا۔ اس میں شاہ جی کی دہکتی ہوئی نظمیں بھی تھیں۔ اس پر سے مستزاد بھٹو صاحب کا عدالت کے سامنے بیان جس کی اشاعت پر پابندی تھی لیکن شاہ جی نے اسے اہتمام سے اخبار میں شائع کردیا تھا۔
یہ ناقابلِ معافی جرائم تھے۔ اشارہ ہوا، شاہ جی اٹھائے گئے، فوجی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ دکھاوے کا مقدمہ چلا۔ سزا ہوئی اور پھر وہ شاہی قلعہ پہنچا دیے گئے۔ حسن ناصر وہاں کے شداید اور اذیتوں کو سہہ کر جان سے گزر گئے تھے، عباس اطہر وہ ظلم و ستم سہہ گئے۔ ان کی پشت ادھیڑ دی گئی۔ شاید، عقوبت خانے کی کسی دیوار پر ان کی کھال کا کوئی ٹکڑا چپکا رہ گیا ہو۔ سوکھ کر کسی روزنِ دیوار کا حصہ بن گیا ہو۔ بصارت اور بصیرت دونوں کسی آمر کو برداشت نہیں، تب ہی سچ کہنے والے اندھے کنویں میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ عباس اطہر کا بھی یہی حشر ہوا۔
وہ آخری سانس تک پیپلزپارٹی کے فدائی رہے۔ انھیں باپ کی طرز سیاست سے اختلاف تھا۔ بیٹی کے بعض معاملات سے بھی وہ خوش نہیں تھے۔ اس کے باوجود بی بی جب لوٹ کر آئیں تو انھوں نے ان کا استقبالیہ گیت لکھا ''بھٹو کی بیٹی آئی ہے''۔ پنجابی کے ایک لوک گیت کو انھوں نے سیاسی رنگ میں رنگ دیا اور جب تک پیپلزپارٹی ہے یہ گیت زندہ رہے گا۔ بی بی آئیں اور پھر چلی بھی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے عشاق آج بھی اس گیت کو سنتے ہیں اور اپنا چہرہ آنسوؤں سے دھوتے ہیں۔
شاہ جی سے میری چند ملاقاتیں تھیں۔ لندن میں میاں نواز شریف کی بلائی ہوئی کانفرنس کے دوران وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے تھے، کھانے کے وقفے کے دوران ہم میں سے کچھ لوگ ہوٹل سے باہر نکل گئے تھے۔ اندر سگریٹ پینے پر پابندی تھی اور شاہ جی سگریٹ کے لیے بے قرار ہورہے تھے۔ بی بی اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط ہوچکے تھے۔ ہم سب لوگوں کی خواہش تھی کہ یہ میثاق مستحکم ہو اور ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں جنرل پرویز مشرف کی آمریت سے نجات حاصل کرسکیں۔
وہ اس حوالے سے باتیں کرتے رہے اور پھر 'ایکسپریس، ٹریبیون' کے گروپ ایڈیٹر جناب ضیاء الدین اور ان کے چند ذاتی دوست آگئے، میں نے اُن سے اجازت لی اور ہال میں واپس چلی گئی جہاں ایک بار پھر سے گفتگو شروع ہونے والی تھی۔ اس کے بعد لاہور میں ''کالم کار'' کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے کئی ملاقاتیں رہیں اور پھر کراچی میں جب 'ایکسپریس' کے پرومو کی فلم بندی ہورہی تھی۔ پرومو بہ وجوہ نہ چل سکا لیکن دل میں ان کی مہربان شخصیت کا عکس رہ گیا۔
میں نے جب پہلی ملاقات میں ان کے مجموعے ''دن چڑھے دریا چڑھے'' کا حوالہ دیا تھا تو انھوں نے چونک کر مجھے دیکھا تھا۔ جدید شاعری اب پرانی بات ہوچکی تھی ۔ میں نے ان سے اپنے کتابی سلسلے ''روشن خیال'' کا ذکر کیا جس میںان کی کئی نثری نظمیں شائع ہوئی تھیں۔کئی نظمیں ''احتساب'' سے لی گئی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں چمک ابھری جیسے ماہ و سال کی ساعتوں میں گم ہوجانے والی ان کی محبوبہ کا ذکر ہورہا ہو۔ وہ نرمی سے مسکراتے رہے اور مجھے کچھ حیرت سے دیکھتے رہے۔ ان کے قریبی دوست ان کی ٹریڈ یونین جدوجہد اور صحافت کے حوالے سے ان کے بارے میں بہت کچھ لکھیں گے لیکن میں اس شاہ جی کو یاد کرنا چاہتی ہوں جس نے جبر و استبداد کی کڑی دھوپ جھیلی، جس کی کمر کی کھال چھیلی گئی اور پھر بھی وہ مزاحمتی شاعری سے باز نہ آیا۔
ان کی نظم ''ایک تھا بادشاہ'' یاد آرہی ہے جس میں انھوں نے اس بادشاہ کا قصہ لکھا تھا جو تخت شاہی پر بیٹھا تو حکم دیا کہ ملک کے تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کے چوراہوں پر پھانسیاں گاڑی جائیں۔ سولی کی سزا پانے والوں اور انھیں سولی پر لٹکانے والوں کو زحمت نہ ہو، کہیں دور نہ جانا پڑے۔ ادھر معتوب کو سزا سنائی جائے، ادھر جلاد قریب ترین چوک پر اسے سولی دے۔ اس بادشاہ کی شاہی میں سانس لینے والی رعیت کی آدھی عمر جیلوں میں کٹی اور آدھی ان اذیتوں سے پہنچنے والے زخموں پر آہ بھرتے اور گر یہ و زاری کرتے ہوئے۔
ہر وہ شخص جس نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا چاہا، اس کی گردن کٹی۔ جس کے شانے پر بغاوت کے علم لہرائے اس کے بازو کٹے کہ دنیا کا کوئی بھی یزید بغاوت کا آب حیات، انقلاب کے دریائے فرات سے انکار کی مشک میں بھر کر لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بادشاہ کے دور میں بولنے والوں کی زبانیں کٹیں، لکھنے والوں کی انگلیاں تراشی گئیں اور وہ جس نے ظلم کی شکایت کی، اسے اُس کے بدن سے رہائی ملی کہ نہ بدن ہوگا، نہ اُس پر ظلم کیا جاسکے گا۔
شاہ جی کی یہ طویل نظم اس عہد کے جوانوں کا مرثیہ ہے جو اختلاف کی قیمت اپنی جان سے ادا کررہے تھے، جن کے لیے انقلاب... ٹویٹر، فیس بک اور سوشل میڈیا پر بلند بانگ دعوؤں کا نام نہیں تھا۔ انھوں نے اور ان کے کئی ساتھیوں نے ٹکٹکی پر کوڑے کھائے، چھ فٹ کے کئی جوان سگ خانوں میں رکھے گئے اور جب برسوں بعد آزاد ہوئے تو پھر وہ کبھی سیدھے کھڑے نہ ہوسکے۔ جمہوریت کی حمایت اور آمریت کے خلاف مزاحمت شاہ جی اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نزدیک عبادت تھی۔ 2013 کے انتخابات ایسے ہی سیاسی کارکنوں کی شاندار جدوجہد کا ثمر ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس ثمر سے فائدہ اٹھانے والوں کی مخالفت کا سب سے بڑا ہدف بھی یہی سیاسی کارکن اور رہنما ہیں۔