کسٹمز نے1کروڑ40لاکھ روپے کی ٹیکس چوری پکڑ لی

بڑے درآمدکنندہ نےمختلف امپورٹرزکے43فیبرک کنسائمنٹس کی جعلسازی کے ذریعے اپنے نام سے کلیئرنس کرائی، تحقیقات میں انکشاف۔

بڑے درآمدکنندہ نےمختلف امپورٹرزکے43فیبرک کنسائمنٹس کی جعلسازی کے ذریعے اپنے نام سے کلیئرنس کرائی، تحقیقات میں انکشاف۔ فوٹو: فائل

محکمہ کسٹمز پیکس کلکٹریٹ نے عدالتی حکم نامے کا ناجائز استعمال کرکے قومی خزانے کو بھاری مالیت کا نقصان پہچانے والے کپڑے کے ایک بڑے درآمدکنندہ سراغ لگالیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پیکس کلکٹریٹ کی جانب سے ملک میں درآمد ہونے والے فیبرک کنسائنمنٹس ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ فیکٹ انٹرنیشنل نامی درآمدکنندہ کمپنی مختلف درآمدکنندگان کے فیبرک کنسائمنٹس کی اپنے نام پر ہی کلیئرنس حاصل کرکے کسٹم ریونیو کو متاثر کر رہی ہے۔

ڈیٹا انویسٹی گیشن کے دوران انکشاف ہواکہ مذکورہ درآمدکنندہ کمپنی نے بیشترکنسائنمنٹس کے امپورٹ جنرل مینیفسٹ (آئی جی ایم) میں ظاہر ہونے والے درآمدکنندہ کانام جعلسازی کے ذریعے تبدیل کرانے کے بعد مارچ 2012 تااپریل2013کے دوران درآمدی فیبرکس کے کنسائنمنٹس فیکٹ انٹرنیشنل کے نام سے کلیئرکراتے ہوئے ریونیو کی مد میں قومی خزانے کو1 کروڑ 40لاکھ روپے سے زائدمالیت کا نقصان پہنچایا۔


واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یکم جنوری 2013کودرآمدکنندہ کمپنی فیکٹ انٹرنیشنل کی جانب سے دائرپیٹیشن پرکسٹمزویلیوایشن ڈپارٹمنٹ کی ویلیو ایشن رولنگ نمبر 417، 449، 483 کومعطل کرتے ہوئے محکمہ کسٹمز کو ہدایت کی کہ وہ پٹیشنرکی ظاہرکردہ ویلیوپرکنسائنمنٹس کی کلیئرنس کرے اور اسی عدالتی فیصلے کے تحت مذکورہ درآمدکنندہ نے جنوری تا اپریل 2013 کے دوران فیبرکس کے 43 کنسائنمنٹس 0.20 سینٹ فی کلوگرام تا 0.38 سینٹ فی کلوگرام کے حساب سے 22ہزار تا 52 ہزارروپے فی کنٹینر کسٹم ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے کلیئرنس حاصل کی جبکہ کسٹمزایکٹ کی شق 81 کے تحت باقی ماندہ2کروڑ20لاکھ مالیت کی ڈیوٹی کے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس محکمہ کسٹمزمیں سیکیورٹی کے طور پر جمع کرائے۔



ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ درآمدکنندہ کی سیلزٹیکس رجسٹریشن 23 اکتوبر2012کوہوئی لیکن اس سے قبل ہی کمپنی نے کپڑے کے درآمدی کنسائنمنٹ پراسلام آباد ہائی کورٹ سے عبوری حکمنامہ حاصل کرتے ہوئے مختلف درآمد کنندگان کے کپڑے کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس جعلسازی کے ذریعے فیکٹ انٹرنیشنل کے نام پرکرائیں، اس کے برعکس کپڑے کے دیگردرآمدکنندگان کی جانب سے کسٹمز ویلیوایشن رولنگ کے مطابق درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کی جا رہی ہیں تاہم درآمدی لاگت میں نمایاں فرق کے باعث قانونی طورپر کپڑے کے کنسائنمنٹس کلیئرکرانے والے درآمدکنندگان اضطراب کا شکارہوگئے ہیں۔

ذرائع نے بتایاکہ ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ پیکس میں تعینات کسٹمزافسران کی نشاندہی پریہ بھی انکشاف ہواہے کہ ایف بی آرکے ترمیمی ایس آراو154کے تحت 5 زیروریٹیڈ سیکٹرکی برآمدی صنعتوں کی جانب سے 2فیصدایڈیشنل سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی کے باعث قومی خزانے کوماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرناپڑرہاہے حالانکہ ایف بی آرکے اس ترمیمی ایس آراومیں وضاحت کی گئی ہے کہ5 زیروریٹڈبرآمدی شعبوں کے لیے درآمد ہونے والے ہر قسم کے کنسائنمنٹس پر 2فیصدسیلزٹیکس ،1فیصدانکم ٹیکس اور 2 فیصد ایڈیشنل سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اس کھلی وضاحت کے باوجود درآمد کنندگان کی جانب سے گزشتہ 3 ماہ سے 2 فیصد ایڈیشنل سیلزٹیکس کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔
Load Next Story