کھلاڑیوں کا مطالبہ تسلیم ماہانہ تنخواہوں میں15فیصد اضافے پر اتفاق

کپتان و نائب سمیت اے کیٹیگری کے5کرکٹرز ماہانہ3لاکھ60ہزار525روپے وصول کریں گے

پلیئرز کو ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہونے سے بچانے کیلیے فیس50ہزار روپے بڑھا دی گئی،اے کیٹیگری والے فی میچ4لاکھ35ہزاربینک اکائونٹ میں منتقل کرائیں گے فوٹو: پی سی بی / فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ماہانہ تنخواہوں میں15 فیصد اضافے پر اتفاق کر لیا، محدود ذرائع آمدنی کے سبب قبل ازیں گذشتہ برس کے لحاظ سے ہی ادائیگی پر اتفاق ہو گیا تھا تاہم سینئر کرکٹرز مصباح الحق اور محمد حفیظ نے حکام کو رقم بڑھانے پر قائل کیا۔

گذشتہ سال25 فیصد انکریمنٹ دیا گیا تھا، رواں برس کپتان اور نائب سمیت اے کیٹیگری میں شامل پلیئرز ماہانہ 3لاکھ 60ہزار 525روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرائیں گے، کرکٹرز کو ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہونے سے بچانے کیلیے میچ فیس میں 50 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا، یوں اے کیٹیگری والوں کو اب فی میچ4لاکھ 35ہزار روپے دیے جائیں گے، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کوئی رقم نہیں بڑھائی گئی،بورڈ نے رواں برس 30 کھلاڑیوں سے معاہدوں کا فیصلہ کیا ہے، مختلف حلقوں کی مخالفت کے سبب اسٹیپنڈ کیٹیگری مکمل ختم کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔

البتہ اس میں کھلاڑیوں کی تعداد صرف 5رہ گئی، بی اور سی کیٹیگری میں 10،10 پلیئرز کو رکھا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان پیر کو متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی کے ذرائع محدود ہیں، نیوٹرل وینیوز پر ہوم میچز کرانے سے اسے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، 2012 میں 3 برس بعد کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہوں میں 25 فیصد اور میچ فیس میں10 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، گوکہ کھلاڑی اس سے خوش نہ تھے مگر بادل نخواستہ دستخط پر مجبور ہوگئے، رواں برس تو پی سی بی نے واضح کر دیا تھا کہ کسی انکریمنٹ کی توقع نہ رکھی جائے۔

ایسے میں اعلیٰ حکام کے بیحد قریب کپتان مصباح الحق اور نائب محمد حفیظ نے اضافے کیلیے کوششیں شروع کر دیں،ان کا موقف تھا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بلایا نہیں گیا، بنگلہ دیش جانے کی اجازت نہ ملی، ایسے میں انھیں خاصا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا لہذا اضافہ کرنا چاہیے،آخرکار بورڈ نے ان کے موقف کو تسلیم کر لیا، اب اے، بی ، سی تینوں کیٹیگریز میں شامل پلیئرز کو 15 فیصد اضافے سے ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی ہو گی،اسی طرح اسٹیپنڈ کیٹیگری کو ختم کرنے کی تجویز پر بھی عمل نہیں کیا گیا البتہ پلیئرزکی تعداد 21 سے کم کر کے صرف 5کر دی گئی۔




اس میں ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے اور مستقبل کے ٹورز کیلیے زیرغور آنے والے پلیئرز شامل ہیں، انھیں بھی 15فیصد اضافے سے ادائیگی ہو گی، اسٹیپنڈ میں اسد علی، احسان عادل اور ذوالفقار بابر سمیت دیگر 2کرکٹرز موجود ہیں، محمد عرفان کی سی کیٹیگری کے ذریعے سینٹرل کنٹریکٹ میں شمولیت ہوئی، عمر اکمل، عمر گل اور عبدالرحمان کی اے سے بی کیٹیگری میں تنزلی ہو گئی، اب اس میں صرف 5پلیئرز مصباح الحق، محمد حفیظ، شاہدآفریدی، یونس خان اور سعید اجمل باقی رہ گئے، ناصر جمشید سی سے بی کیٹیگری میں آ گئے۔

اس میں شعیب ملک، توفیق عمر، اظہر علی، اسد شفیق، جنید خان، کامران اکمل و دیگر کو رکھا گیا ہے، سی میں بھی 10کھلاڑی شامل ہیں، مجموعی طور پر 30 کھلاڑی سینٹرل کنٹریکٹ پائیں گے۔ چاروں کیٹیگریز کی ماہانہ تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کر دیا گیا، اے کیٹیگری کے کھلاڑی اب 47 ہزار 25روپے اضافے سے 3 لاکھ 60 ہزار 525 ماہانہ وصول کریں گے، پہلے3لاکھ 13 ہزار 500 روپے ملتے تھے، بی کیٹیگری کا معاوضہ32700کے اضافے سے 2 لاکھ 50 ہزار 700روپے ہو گیا، اس سے پہلے2لاکھ 18ہزار دیے جاتے تھے۔

سی کیٹیگری کو 18 ہزار 750کے اضافے سے 1 لاکھ 43750روپے دیے جائیں گے، پرانا معاوضہ ایک لاکھ 25ہزار تھا، اسٹیپنڈ پلیئرز 9300کے اضافے سے اب 71 ہزار300روپے ماہانہ وصول کریں گے، اس سے قبل انھیں 62ہزار ملتے تھے۔ ان دنوں کھلاڑی کم وقت میں زیادہ رقم کمانے کے چکر میں ٹی ٹوئنٹی کی جانب زیادہ راغب ہو رہے ہیں، ٹیسٹ میچ میں دلچسپی بڑھانے کیلیے فیس میں 50 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا، یوں اب اے کیٹیگری کوفی ٹیسٹ 4لاکھ 35ہزار، بی کو 3 لاکھ 80 ہزار اور سی کو 3 لاکھ 25 ہزار روپے ملیں گے۔

قبل ازیں بالترتیب 3لاکھ 85 ہزار، 3 لاکھ 30ہزار اور2لاکھ 75ہزار روپے دیے جاتے تھے۔ ون ڈے میچ فیس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور اے کیٹیگری کو فی میچ 3لاکھ30ہزار، بی 2 لاکھ 75 ہزار اور سی2لاکھ 20ہزار روپے ہی پائے گا، اسی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بھی تینوں کیٹیگریز کے کھلاڑی پرانا معاوضہ بالترتیب 2لاکھ 75 ہزار، 2 لاکھ 20 ہزار اور 1 لاکھ 65 ہزار ہی وصول کریں گے۔ گذشتہ برس بھی پی سی بی نے 5ماہ تاخیر سے 26مئی کو سینٹرل کنٹریکٹ کا اضافہ کیا تھا، اس بار 13 مئی کا دن چنا گیا ہے، معاہدوں کا اطلاق جنوری سے دسمبر 2013 سے کیا جائے گا۔
Load Next Story