مادر وطن کی تقدیر بدلنے کا دن

سیکیورٹی میکنزم کے تحت ان حساس پولنگ اسٹیشنوں پر شفاف اورا سموتھ ووٹنگ عمل کا تسلسل ناگزیر ہے

سیکیورٹی میکنزم کے تحت ان حساس پولنگ اسٹیشنوں پر شفاف اورا سموتھ ووٹنگ عمل کا تسلسل ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

ملک بھر میں آیندہ عام انتخابات کے لیے پولنگ آج (بدھ)کو ہورہی ہے ۔ یوں ملکی سیاسی تاریخ میں آج ووٹرز کے ضمیر کی پکار اور ہم وطنوں کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ جمہوریت کے شیدائی عوام کی بھرپور شرکت سے الیکشن ہوتے آئے ہیں، اسمبلیاں بنتی ٹوٹتی جب کہ حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں ، مگر عوام کے دن نہیں بدلے، تاہم جمہوریت و آمریت کے نشیب و فراز اور تلخ وشیریں تجربات و حوادث سے قوم کے جمہوری مزاج کی تربیت ہوتی رہی اقتصادی مسیحا معاشی شرح نمو کی داستان بھی ساتھ ساتھ سناتے جاتے تھے ۔

لگ بھگ 70 برس سے سیاست اور طرز حکمرانی کے پل کے نیچے سے بہت سارا پانی بہتا رہا مگر تاریخ کا ایک فیصلہ کن سچ یہ ہے کہ آج انتخابات بہ انداز دگر ہو رہے ہیں چنانچہ الیکشن کے انعقاد میں خدشات و خطرات کی سونامی کی مایوس کن قیاس آرائیوں کے باوجود نگران حکومت،الیکشن کمیشن اور مقتدر اداروں نے اپنے عزم و عہد ، کمٹمنٹ کے مطابق شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کرانے کا سنگ میل عبور کرلیا تو یہ بڑا کارنامہ ہوگا۔ ملک کے فہمیدہ حلقوں کو یقین ہے کہ قومی زندگی کی کایا پلٹ جائے گی اور پاکستانی ووٹرز کی آرزوؤں اور ووٹ کی ناقابل تسخیر طاقت و جبروت سے جمہوری گلشن کا کاروبار نہ صرف چلے گا بلکہ پر امن انتقال اقتدار کے نتیجے میں ملک کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔ اس امتحان میں ووٹر کا آج کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔ہر ووٹ قیمتی ہے، پولنگ پر گزرتا ہوا ہر لمحہ صدیوں پر محیط ثمرات لیے ہوئے در جمہوریت پر دستک دے گا۔انشاء اللہ۔

الیکشن کمیشن پاکستان کے اقدامات و انتظامات کے مطابق10کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ووٹرز آیندہ5سال کے لیے قومی اسمبلی کے 270 اور چاروں صوبائی اسمبلیوںکے لیے اپنے نمایندوںکا انتخاب کریںگے، الیکشن کمیشن میں عام انتخابات2018ء کے سلسلے میں تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں، الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم پیر اور منگل کی درمیانی شب 12بجے ختم ہوگئی، سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق مقررہ وقت پر انتخابی مہم ختم کر دی۔ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کرانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں بھی سرگرم عمل رہیں اور وقت ختم ہونے پر امیدواروں کو مانیٹرکرتی رہیں۔گزشتہ روز تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے سپورٹرزکے ہمراہ کم وقت میں تیزی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی،کہیں کارنر میٹنگ اورکہیں جلسہ اور کہیں ملاقاتیں کی گئیں۔ پاک فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر پیرا ملٹری فورسزکے دستے پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کردیے گئے ہیں۔

پولنگ ڈے کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا گیا ہے۔پولنگ صبح 8بجے سے شام 6بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر پاک فوج کے 2، 2 جوان تعینات ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے 2حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں، 85ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 17ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں جن میں اسلام آباد اور پنجاب سے 5487 ، سندھ 5878، فاٹا، خیبرپختونخوا 3874جب کہ بلوچستان میں 1768پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔

سیکیورٹی میکنزم کے تحت ان حساس پولنگ اسٹیشنوں پر شفاف اورا سموتھ ووٹنگ عمل کا تسلسل ناگزیر ہے، ادھر سیاسی جماعتوں، امیدواروں، سیکیورٹی اہلکاروں، میڈیا، غیر ملکی اور ملکی مبصرین کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے۔ میڈیا کے 60 ہزار سے زائد نمایندوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسٹیشن تک رسائی کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے گئے ہیں۔ میڈیا کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد یعنی 7 بجے تک کوئی رزلٹ جاری نہیں کرسکیں گے۔ پریزائیڈنگ افسران آر ٹی ایس سسٹم کے تحت فوری طور پر پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر کو ارسال کرنے کے پابند ہوںگے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے روزمجموعی طور پر 16لاکھ افراد ڈیوٹی انجام دیں گے جن میں تقریباً ساڑھے 4لاکھ پولیس، 3 لاکھ 71ہزار فوج کے جوان سیکیورٹی پر مامور ہوں گے ۔

اس حقیقت پر تو دو رائے نہیں کہ ووٹ پاور فل ہتھیار ہے، وہ خاموش جمہوری وسیلہ ہے جس سے کاغذ کی پرچی کی شکل میں حکومت و ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے جب کہ اسی پرچی سے نظام میں تبدیلیوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی ہے، ملکی سیاست جس نازک دوراہے پر آئی ہے اس میں ''ڈو اور ڈائی'' والی بات ہے، ہر سیاسی جماعت ووٹ کی اسی طاقت کے ذریعے اقتدار میں آنے کے لیے آج بے تابی سے بدھ کی صبح کا انتظار کرتی رہی ہے، لیکن کسی دانا کا قول ہے کہ ووٹ ایک بندوق ہے۔

جس کے بہتر استعمال کا انحصار ووٹر کے کردار پر ہے، ووٹ پاکستانی سیاست میں قنوطیت اور شکوک شبہات سے اٹی ہوئی سیاسی افراط وتفریط کے خاتمہ کی سمت امید اور قلب ماہیت کا بلیغ استعارہ ہے، بلٹbullet کے مقابلے میں بیلٹ ballotکی قدر وقیمت مغربی ملکوں کے باشعور عوام سے پوچھئے جنہوں نے غلامی،جاگیرداری اور حتیٰ کہ سرمایہ داری نظام میں ایک فرد ایک ووٹ کے حق کے حصول میںکتنے مصائب سہے اور لازوال قربانیاں دیں۔ میڈیا کی آزادی نے معاشرہ میں جمود کو توڑا ہے، ذہن کھل گئے ہیں، خواندگی ، انٹرنیٹ ، انسٹافون ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے مل کر شہریوں کو ایک نئی سوچ عطا کی ہے، اب تبدیلی کے لیے جارحانہ جوابدہی کی جمہوری روایت جنم لے چکی ہے۔


اکثر امیدوار ووٹرز کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے معذرت خواہی پر مجبور ہوئے، یہ تبدیلی میڈیا کے باعث آئی ہے، شعور کی اس نئی لہر کو سیاسی رواداری سے متصف ہونے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری اسپرٹ فروغ پائے اور سیاست دانوں میں الزام تراشی اور کردار کشی کا کلچر جڑ نہ پکڑ سکے، سیاسی نظام خیر سگالی پر مبنی ہونا چاہیے، فرد اور ریاست کے مابین تعلق کی ری اورنٹیشن بھی ضروری ہے، اس لیے کہ انتخابی مہم میں جو کشمکش، محاذ آرائی نظر آئی وہ مستقل نہیں رہنی چاہیے، الیکشن مہم میں تلخ نوائی کوئی انوکھی بات نہیں، شور مچتا ہے، تقاریر ہوتی ہیں، مگر الیکشن کا انعقاد اس بات کا پیغام ہے کہ نئی حکومت سازی کے لیے جوش نہیں بلکہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انتخابات شفاف ، منصفانہ ،آزادانہ اور دھاندلی سے پاک ہوں، کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہ ہو، کیونکہ ایسی کوئی کوشش ہوئی تو ارباب اختیار کو احساس کرنا چاہیے کہ غیر ملکی اور ملکی مبصرین کی ایک بڑی تعداد ان انتخابات کا جائزہ لے رہی ہے، اپنی رپورٹیں تیار کریگی، اس لیے سیاسی جماعتوں پر بھی اس کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ کسی جانب سے کوئی فریق شفاف الیکشن کی حرمت پر حملہ آور نہ ہو، ناخوشگوار واقعات کے سدباب میں سیکیورٹی اہلکار ہائی الرٹ رہیں۔

فوج مستعدی سے پولنگ اسٹیشنوں پر، پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہے جب کہ ملک بھر میں ہزاروں میلوں پر پھیلے انتخابی حلقے اور جگہ جگہ پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی اور امن وامان برقرار رکھنے کی نازک ترین ذمے داری میں سارے اسٹیک ہولڈر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں، شفافیت ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت ٹاسک ہے اور ووٹر سے لے کر سیاسی کارکن ، سیاست قیادتیں اور نگراں حکومت پر لازم ہے کہ پولنگ کا دورانیہ امن ، بھائی چارہ، سیاسی رواداری، خندہ پیشانی اور وسیع المشربانہ رویے کا امتزاج پیش کرے۔

اس حقیقت کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ انتخابی مہم کہیں سرد وگرم اور کہیں پرتشدد اور تشویش ناک بھی رہی، بیچ میں دہشتگردی کی اندوہ ناک لہر نے پشاور، بنوں مستونگ اور ڈیرہ اسماعیل خان کو خون سے لالہ زار بنادیا، قیمتی جانیں ضایع ہوئیں، دہشتگردی کے عفریت نے عین الیکشن کے اختتامی دورانئے میں اسٹرائیک کر کے سیکیورٹی کے کئی سوالات کھڑے کردیے، اس سے قطع نظر سیاسی عمل اور عمومی رابطہ مہم کے دوران بھی سرگرمیوں میں تلخی ، رعونت، شدت پسندی اور شعلہ نوائی کا ماحول گرم رہا جسے اب حد اعتدال میں لانا بھی سیاسی قائدین کی بنیادی ذمے داری ہے۔

میڈیا کی آزادی بلاشبہ ایک بے مثال جمہوری نعمت ہے، مختلف چینلز پر ووٹرز کو دیکھا گیا کہ وہ اپنے حلقے میں آمد کے موقع پر امیدواروں سے سوال جواب جاری رکھے ہوئے تھے،ان پر کڑی جرح کی جاتی رہی، ان سے پانچ سالوں کا حساب مانگا گیا، بڑی دلچسپ گفتگو اور مناظرے سے ناظرین اور قارئین محظوظ ہوتے رہے۔ لیکن میڈیا کو بھی انتخابات کے بعد زمینی حقائق ، ملکی سیاسی حالات، نئے معاشی چیلنجز، حکومت سازی کے مراحل اور عوام و ووٹرز کی توقعات اور امیدوں میں توازن و اعتدال کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے بنیادی بات الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے کی جمہوری روش کی ہے، جذبات میں ٹھہراؤ شرط ہے، سیاست دان بعد از انتخابات وسیع تر خیر سگالی اور اسپورٹسمین شپ کا بھرم باقی رکھیں، جیسا کہ فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں کے بعد فائنل تقریبات سے نمایاں ہوا۔ کھلاڑی گلے ملے، اور عالمی سطح پر انھیں دوستی ،انسانیت اورامن کا سفیر قراردیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ووٹرز آج اپنے ضمیر کا بوجھ بھی ہلکا کریں گے اور تعمیر وطن کے سفر میں اپنے ووٹ کی پرچی کی اہمیت کا پیغام بھی دنیا کو دے سکیں گے۔ مشل اوباما نے فکر انگیز بات کہی ہے کہ صرف ووٹ دینے والے کی بات نہ کریں، اس کا کردار تو واضح ہے، دیکھنا یہ چاہیے کہ جنہوں نے ووٹ نہیں دیا وہ جمہوری قافلے میں اپنی ضرورت اور اہمیت کے اعتبار سے کس مقام پر رکھے جائیں گے، ان کا مطلب یہی ہے کہ الیکشن کے دن ہر بالغ مرد وعورت کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے گھر سے نکلنا اور پولنگ اسٹیشن پر آنا چاہیے۔

عرض یہ ہے کہ جن سیاست دانوں کو آیندہ چند روز میں عنان حکومت ہاتھ میں لینا ہے ، انھیں اس درد انگیز حقیقت کو پیش نظر رکھنا ہوگا کہ وہ اقتدار میں انھی ووٹرز کی پرچی کے طفیل آئے ہیں جن کو اپنے سیاست دانوں ، وزراء و سینیٹرز سے ہمیشہ یہ شکایت ہے کہ وہ کامیاب ہونے کے بعد پھر لوٹ کر اپنے حلقے کے عوام سے ملنے نہیں آتے ۔ ملک کے غریب الوطن ووٹرز کو کبھی فراموش نہ کیا جائے، ملک میں غربت اور مہنگائی کا راج ہے، پاکستان کو داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑی اعصاب شکن صورتحال ہے جس کے لیے امیدوں بھری نئی حکومت کمر کس لے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں، ہر چند لوڈ شیڈنگ کی شدت کم ہوئی ہے مگر لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی، کسان رو رہا ہے، محنت کشوںٕ کا کوئی والی وارث نہیں، کرپشن ، اقربا پروری کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام کے لیے نئی حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔معیشت توجہ چاہتی ہے۔ لیکن نئی حکومت تعمیر وطن کا عزم کرلے تو پھر منزل دور نہیں۔
Load Next Story