پولنگ عملے کیلیے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ بسیں کم ہونے سے مسافروں کو مشکلات
پبلک ٹرانسپورٹ انتہائی کم ہونے سے دفاتر اور کام پرجانے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنارہا۔
پولیس نے الیکشن ڈیوٹی کے لیے 100سے زائد گاڑیوں کوبیگار کے لیے قبضے میں لے لیا،احتجاج اور ہڑتال سمیت تمام راستے اختیارکریں گے، ارشاد بخاری۔ فوٹو: ایکسپریس
پولیس کی جانب سے الیکشن ڈیوٹی کے لیے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے شہر میں منگل کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر معمول سے انتہائی کم دکھائی دی جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
الیکشن ڈیوٹی میں پولیس اہلکاروں کو سفری سہولت دینے کے لیے تھانوں کی سطح پر پولیس کی جانب سے مسافر کوچز اور منی بسوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا گیا تو ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیوں کو پولیس سے بچانے کے لیے منگل کو سڑکوں پر لانے سے گریز کیا جس سے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں معمول سے انتہائی کم دکھائی دیں۔
منگل کی صبح دفاتر اور کام پر جانے والے شہریوں جن میں خواتین بھی شامل تھیں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا رہا جبکہ چلنے والی کچھ کوچز اور منی بسوں کا یہ عالم تھا کہ ان پر مسافر چھتوں تک سوار تھے اور ان گاڑیوں میں مزید کسی مسافر کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی اس موقع پر رکشا اور ٹیکسی والوں کی بھی چاندی ہوگئی اور انھوں نے کرایے کی مد میں منہ مانگے کرایے طلب کیے اس موقع پر شہریوں اور ان کے درمیان بحث و تکرار کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں منگل کی صبح بس اسٹاپس پر مسافروں کی بڑی تعداد پریشان دکھائی دی پبلک ٹرانسپورٹ میں کمی کی وجہ سے ملازمین اپنے کام پر بھی تاخیر سے پہنچے جبکہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی سوزوکی ،پک اپ اور منی ٹرک والوں نے منہ مانگے کرایے پر مسافروںکو ان کی منزل مقصود تک پہنچایا۔
آل کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے الزام عاید کیا ہے کہ پولیس الیکشن ڈیوٹی کے لیے ہماری بسیں ، کوچز ،منی بسیں جبری طور پر تحویل میں لے رہی ہے ۔ پولیس کے اس عمل سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس گزشتہ کئی روز سے ہماری گاڑیاں پکڑ رہی ہے اور گزشتہ چند روز میں الیکشن ڈیوٹی کے لیے پولیس نے ہماری 100 سے زائد گاڑیوں کو بیگار کے لیے قبضے میں لے لیا ہے،انھوں نے الیکشن کی وجہ سے آج کے دن دی جانے والی ہڑتال کی کال کو واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات کے بعد احتجاج اور ہڑتال کے علاوہ قانونی دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
الیکشن ڈیوٹی میں پولیس اہلکاروں کو سفری سہولت دینے کے لیے تھانوں کی سطح پر پولیس کی جانب سے مسافر کوچز اور منی بسوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا گیا تو ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیوں کو پولیس سے بچانے کے لیے منگل کو سڑکوں پر لانے سے گریز کیا جس سے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں معمول سے انتہائی کم دکھائی دیں۔
منگل کی صبح دفاتر اور کام پر جانے والے شہریوں جن میں خواتین بھی شامل تھیں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا رہا جبکہ چلنے والی کچھ کوچز اور منی بسوں کا یہ عالم تھا کہ ان پر مسافر چھتوں تک سوار تھے اور ان گاڑیوں میں مزید کسی مسافر کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی اس موقع پر رکشا اور ٹیکسی والوں کی بھی چاندی ہوگئی اور انھوں نے کرایے کی مد میں منہ مانگے کرایے طلب کیے اس موقع پر شہریوں اور ان کے درمیان بحث و تکرار کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں منگل کی صبح بس اسٹاپس پر مسافروں کی بڑی تعداد پریشان دکھائی دی پبلک ٹرانسپورٹ میں کمی کی وجہ سے ملازمین اپنے کام پر بھی تاخیر سے پہنچے جبکہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی سوزوکی ،پک اپ اور منی ٹرک والوں نے منہ مانگے کرایے پر مسافروںکو ان کی منزل مقصود تک پہنچایا۔
آل کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے الزام عاید کیا ہے کہ پولیس الیکشن ڈیوٹی کے لیے ہماری بسیں ، کوچز ،منی بسیں جبری طور پر تحویل میں لے رہی ہے ۔ پولیس کے اس عمل سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس گزشتہ کئی روز سے ہماری گاڑیاں پکڑ رہی ہے اور گزشتہ چند روز میں الیکشن ڈیوٹی کے لیے پولیس نے ہماری 100 سے زائد گاڑیوں کو بیگار کے لیے قبضے میں لے لیا ہے،انھوں نے الیکشن کی وجہ سے آج کے دن دی جانے والی ہڑتال کی کال کو واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات کے بعد احتجاج اور ہڑتال کے علاوہ قانونی دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔