ڈومیسٹک کرکٹ ’’ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی‘‘
قائد اعظم ٹرافی کے چار روزہ اورون ڈے کپ کے میچزکا انعقاد ایک ساتھ ہوگا
یکم ستمبر کوآغازکرنے سے انگلش لیگ کھیلنے والے پلیئرزمشکل میں پڑ گئے۔ فوٹو: فائل
ڈومیسٹک کرکٹ سے ایک بار پھر چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے پرانے تجربے کو پھر دہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں اکثر اوقات نت نئی تبدیلیاں کی جاتی ہیں،پھر کچھ عرصے بعد اپنے ہی فیصلوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، رواں برس ایک بار پھر تبدیلی لائی جا رہی ہے، قائد اعظم ٹرافی کے چار روزہ اورون ڈے کپ کے میچز کا انعقاد ایک ساتھ ہوگا،ہر راؤنڈ میں پہلے چار روزہ میچ کا انعقاد کیا جائیگا، ایک دن کے وقفے سے انہی وینیوز پر ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے،ٹورنامنٹ کاآغاز یکم ستمبر سے ہوگا۔
گزشتہ برس26 ستمبرکو قائد اعظم ٹرافی کے میچز شروع ہوئے تھے، بورڈ نے تمام شریک ٹیموں سے25 کھلاڑیوں، منیجر،کوچ اور سپورٹ اسٹاف (ٹرینر، فزیو، بولنگ کوچ اور بیٹنگ کوچ) کے نام طلب کر لیے ہیں۔
رواں برس قائد اعظم ٹرافی کے قبل از وقت آغاز کی وجہ سے انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیلنے والے قومی کھلاڑی مشکل میں پڑ گئے، بیشتر کو ان کے ڈپارٹمنٹس نے15 اگست کو کیمپ کیلیے وطن واپس بلا لیا ہے۔ اس سے انھیں بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹیمیں بھی سیزن کے درمیان میں ہی کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہونے کی وجہ سے آئندہ ان کے ساتھ معاہدوں میں دلچسپی نہیں دکھائیں گی۔
واضح رہے کہ2014میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے دوران چار روزہ اور ون ڈے میچز ایک ساتھ کرانے کا تجربہ ہو چکا جو ناکام ثابت ہونے پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں اکثر اوقات نت نئی تبدیلیاں کی جاتی ہیں،پھر کچھ عرصے بعد اپنے ہی فیصلوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، رواں برس ایک بار پھر تبدیلی لائی جا رہی ہے، قائد اعظم ٹرافی کے چار روزہ اورون ڈے کپ کے میچز کا انعقاد ایک ساتھ ہوگا،ہر راؤنڈ میں پہلے چار روزہ میچ کا انعقاد کیا جائیگا، ایک دن کے وقفے سے انہی وینیوز پر ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے،ٹورنامنٹ کاآغاز یکم ستمبر سے ہوگا۔
گزشتہ برس26 ستمبرکو قائد اعظم ٹرافی کے میچز شروع ہوئے تھے، بورڈ نے تمام شریک ٹیموں سے25 کھلاڑیوں، منیجر،کوچ اور سپورٹ اسٹاف (ٹرینر، فزیو، بولنگ کوچ اور بیٹنگ کوچ) کے نام طلب کر لیے ہیں۔
رواں برس قائد اعظم ٹرافی کے قبل از وقت آغاز کی وجہ سے انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیلنے والے قومی کھلاڑی مشکل میں پڑ گئے، بیشتر کو ان کے ڈپارٹمنٹس نے15 اگست کو کیمپ کیلیے وطن واپس بلا لیا ہے۔ اس سے انھیں بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹیمیں بھی سیزن کے درمیان میں ہی کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہونے کی وجہ سے آئندہ ان کے ساتھ معاہدوں میں دلچسپی نہیں دکھائیں گی۔
واضح رہے کہ2014میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے دوران چار روزہ اور ون ڈے میچز ایک ساتھ کرانے کا تجربہ ہو چکا جو ناکام ثابت ہونے پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔