قومی انتخابات کھیلوں سے وابستہ اہم شخصیات میدان میں موجود

ورلڈ چیمپئن قائدعمران خان5 حلقوں سے الیکشن لڑیں گے

، ہاکی اولمپئن آصف باجوہ، سابق اسکواش چیمپئن قمر زمان بھی دوسری اننگز کھیلنے کیلیے بے تاب۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
قومی انتخابات میں پاکستان کی کھیلوں سے وابستہ اہم شخصیات بھی میدان میں موجود ہیں۔

ملک بھر میں بدھ 25 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں جن میں کھیلوں کی اہم شخصیات بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری اور 1994 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے رکن اولمپئن آصف باجوہ، اسکواش کے ورلڈ چیمپئن قمر زمان، شیخوپورہ اسٹیڈیم ٹرسٹ کے ممبر وپنجاب اسمبلی کرکٹ ٹیم کے سابق رکن رانا علی سلمان، ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے صدر وہاکی پلیئرخالد محمود ایڈووکیٹ ودیگر شامل ہیں جبکہ قومی ہاکی ٹیم کے سابق مایہ ناز ہاکی پلیئر (فلائنگ ہارس) سمیع اللہ بہاولپور سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن ٹکٹ نہ ملنے پر انھوں نے الیکشن لڑنے کا ارادہ ترک کردیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق منیجر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ بورڈ کے سابق رکن اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ممبر صوبائی اسمبلی رہنے والے میاں منیرطبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان لاہور سمیت ملک کے پانچ مختلف حلقوں سے الیکشن لڑرہے ہیں، این اے 131 لاہور میں عمران خان کا مقابلہ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق سے ہے جہاں عمران خان اور سعد رفیق اپنی اپنی جیت کے دعوے کررہے ہیں ۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری اولمپئن آصف باجوہ این اے 74پسرور سے آزاد امیدوارکے طور پر حصہ لے رہے ہیں،انھوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کیلیے درخواست دی تھی لیکن ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں، اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار غلام عباس اور ن لیگ کے امیدوار علی زاہد ہیں، آصف باجوہ اپنی جیت کیلیے پُر امید ہیں۔


آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ حلقہ میں تمام برادریاں اور اہم سیاسی رہنما میرا ساتھ دے رہے ہیں اور اللہ نے چاہا تو الیکشن میں فتح حاصل کروں گا، میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ساتھ دو سال تک کام کیا لیکن مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا،اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے ووٹرز اور عہدیدران بھی ناراض ہیں اور انھوں نے میرا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، مختلف برادریوں کے سرکردہ رہنمائوں کی سپورٹ کی وجہ سے میں آزاد الیکشن لڑ رہا ہوںاور امید ہے کامیاب ہوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ جیتنے کے بعد حلقہ عوام کی مشاورت سے کسی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کروں گا۔ سابق اسکواش ورلڈ چیمپئن قمر زمان پی کے 75پشاور سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرالیکشن لڑرہے ہیں، ان کا مقابلہ اے این پی کے سید عقیل شاہ، پی ٹی آئی کے ملک وجاہت اللہ، متحدہ مجلس عمل کے ابراہیم قاسمی سے ہے، قمر زمان پرامید ہیں کہ وہ الیکشن جیت لیں گے۔

پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز حاصل کرنیوالے قومی ہاکی ٹیم کے سابق مایہ ناز ہاکی پلیئر(فلائنگ ہارس) سمیع اللہ نے عمران خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہاولپور سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کا امیدوار تھا لیکن ٹکٹ نہ ملنے پر الیکشن نہیں لڑ رہا، این اے 122 شیخوپورہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار رانا علی سلمان کو بھرپور سپورٹ کروں گا، میری دعائیں پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، رانا علی سلمان شیخوپورہ اسٹیڈیم ٹرسٹ کے ممبر و پنجاب اسمبلی کرکٹ ٹیم کے سابق رکن رہ چکے ہیں۔

پی پی 140 میں ہاکی پلیئر وصدر ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن خالد محمود ایڈووکیٹ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے امیدوار اور ان کے ہم نام خالد محمود اور ن لیگ کے امیدوار یاسر گجر ہیں، تینو ں امیدوار ہی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔

ادھر ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑیوں اولمپئن حسن سردار، نوید عالم، عمران بٹ، ریحان بٹ، اشتیاق احمد، محمد ثقلین اور انجم سعید نے قوم کے نام ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ووٹ ڈالنا ایک قومی فریضہ ہے اس لیے تمام ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا چاہیے۔ پلیئرز نے دعا کی کہ انتخابات میں ایسے امیدوار سامنے آنے آئیں جن کی وجہ سے پاکستان کے سالہاسال سے جاری مسائل کا خاتمہ ہو۔
Load Next Story