سینیٹ کمیٹی سیاستدانوں کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم کا نوٹس

ٹویٹر تضحیک آمیز پوسٹ کرنے والوں کی معلومات فراہم نہیں کرتا تو اسے بند کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، رحمن ملک

ٹویٹس کرنیوالوں کو ٹریس نہیں کر سکتے، ڈائریکٹر ایف آئی اے کی بریفنگ۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے سیاستدانوںکے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز پوسٹس کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی سائبر کرائمز ونگ کوکارروائی کرنے کا حکم دے دیا.

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں سے متعلق تضحیک آمیز مواد، جعلی خبریں، گالی گلوچ، جعلی اور غیر اخلاقی مواد کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے اٹھائے گئے معاملات سمیت چولستان فورٹ عباس میں 3 بہنوں کی پر اسرارہلاکت کے معاملے کا جائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں دہشتگردی میں شہید ہونے والے اکرام اللہ گنڈاپور اور یاسر کلھوڑو و دیگر افرادکے ایصال ثواب کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی،گزشتہ روز سینیٹر رحمن ملک کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میںکمیٹی نے وزارت داخلہ سے ڈی آئی خان میں شہید اکرام اللہ گنڈاپور اور شہید یاسر کلھوڑو پر حملوں کی رپورٹ طلب کی۔


کمیٹی کو ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے کیپٹن رٹائرڈ محمد شعیب نے ایف آئی اے کی طرف سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پھیلانے والوں کے خلاف کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ضیا الرحمن نامی شخص نے ایک ٹویٹ میں قبر کے انتخابی نشان کا ٹویٹ کیا، اس حوالے سے ہم نے ٹویٹر کو خط لکھا ہے کہ اس صارف کی معلومات فراہم کی جائیںتاکہ اس شخص کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں کہ اپنے طور پر کسی ٹویٹ کو ٹریس کر سکیں، ٹویٹر پاکستان کے خطوط کا جواب بہت کم دیتا ہے جس وجہ سے اس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، انھوں نے بتایا کہ جانور کے جسم پر سیاستدان کا چہرہ لگا کر جاری ہونے والے اشتہارکی بھی انکوائری بھی مکمل ہوگئی ہے، انھوں نے کہا کہ وہ ٹویٹر پر موجود پوسٹس کرنے والے افراد کو ٹریس نہیں کر سکتے۔

اس پر چیئرمین رحمن ملک نے کہا کہ اگر ٹویٹر تضحیک آمیز پوسٹ کرنے والوں کی معلومات فراہم نہیں کرتا تو ٹویٹر کو پاکستان کے اندر بندکرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ ہم کسی کو بھی اپنی قوم کے ساتھ کھیلنے نہیں دیں گے، اگر ٹویٹر پاکستان میں بند کر دیا جاتا ہے تب بھی کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا، ٹویٹر اس شخص کی تفصیلات 15دن کے اندر فراہم کرے ورنہ ہم کارروائی کریں گے، پوری دنیا کے اندر سوشل میڈیا کو ٹریس کیا جا سکتا ہے، جس بندے نے ٹویٹ کیا اس کی تصویر ہمارے پاس موجود ہے اگر نادرا کو تصویر دی جائے تو اس شخص تک پہنچا جا سکتا ہے، تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس معاملے میں ہماری مدد کریں اور اگر کسی کو بھی سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے دیکھیں تو پی ٹی اے کو اس بارے میںآگاہ کریں تاکہ اس حوالے سے کارروائی کی جا سکے۔
Load Next Story