پی پی نے حیدرآباد کی 5نشستوں پر دوبارہ انتخابات کامطالبہ کردیا

این اے219 ،220 اورپی ایس45، 46، 49کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے، زاہد بھرگڑی.

ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکال دیا گیا،شفاف انتخابات کے دعوے دھرے رہ گئے. فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر و سابق صوبائی وزیر زاہد بھڑگھڑی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد کی قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشتوں کے آنے والے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے اور ان حلقوں پر فوج کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائے۔

حیدرآباد پریس کلب میں قومی اسمبلی کے حلقہ 219 سے امیدوارمحمد علی سہتو ،حلقہ 220 کے صغیر احمد قریشی،صوبائی اسمبلی کے حلقہ 45 کے امیدوار حاجی جیندو سومرو ،حلقہ46کے قاضی بابو عبداﷲ ، حلقہ 49کے عبدالجبار خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے انتخابات کے روز پولنگ کے حوالے سے موثر اقدامات کرنے کے دعوے اور تمام پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کرنے کے ساتھ فوج تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔




لیکن مذکورہ حلقوں سمیت کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرزکو تعینات نہیں کیا گیا اور صرف 2 پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر مامورکیا گیا اور وہ بھی مذکورہ حلقوں کے پولنگ اسٹیشنز پر ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کے ایما پرکام کررہے تھے جب کہ دیگر جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے زبردستی باہر نکال دیا گیا اور ان پولنگ اسٹیشن پر کھلے عام دھاندلی کی گئی۔

جس کے خلاف مذکورہ حلقوں کے پولنگ اسٹیشن کے پریزائڈنگ افسران کو شکایت کرنے کے باوجود دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جب کہ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا نمبر مسلسل بند ملتا رہا۔
Load Next Story