ن لیگ پنجاب پیپلز پارٹی سندھ اور تحریک انصاف پختونخوا کا میاب ایم کیو ایم کی پوزیشن برقرار اے این پی اور ق
خیبرپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی
ملک بھر میں ہونیوالے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا، تحریک انصاف دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔
جبکہ سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نواز شریف شہباز شریف، عمران خان، شیخ رشید ،نبیل گبول، پرویز الٰہی، فضل الرحمن، شاہ محمود قریشی، خورشید شاہ جیت گئے ۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی 125، تحریک انصاف کو 35اور پیپلز پارٹی کو 33 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ را ت گئے تک ملنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ 54نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی تھی، جبکہ اسے 124نشستوں پر برتری حاصل تھی، این اے 68 سرگودھا 5 سے ن لیگ کے صدر نواز شریف 86116 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔
این اے 117نارووال تین سے ن لیگ کے احسن اقبال، این اے 67 سرگودھا چار سے ن لیگ کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی 85021 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، ذوالفقار بھٹی نے اپنے مدمقابل اور سات مرتبہ رکن قومی اسمبلی بننے والے ق لیگ کے امیدوار انور چیمہ کو شکست دی۔ این اے 144 اوکاڑہ 2 سے مسلم لیگ ن کے عارف چوہدری 57335 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، انھوں نے مرحوم رائو سکندر کی بیوہ شفیقہ سکندر کو شکست دی، انھوں نے سولہ ہزار سات سو سترہ ووٹ حاصل کئے۔
گوجرانوالہ ریجن کی 23 قومی نشستوں پر ن لیگ نے کلین سویپ کیا۔ تحریک انصاف کوئی نشست حاصل نہ کر سکی، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان چوہدری احمد مختار، قمر زمان کائرہ، تنویر اشرف کائرہ، چودھری وجاہت حسین اور ابرار الحق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ق لیگ 1 صوبائی اور 1 قومی سیٹ جیت سکی، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی واحد کامیاب امیدوار قرار پائے۔ گوجرانوالہ ریجن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواران این اے 95 سے عثمان ابراہیم، این اے 96 خرم دستگیر خاں، این اے 97 محمود بشیر ورک، این اے 98 میاں طارق، این اے 99 رانا عمر نذیر، این اے 100 اظہر قیوم ناہرا، این اے 101 جسٹس (ر) افتخار چیمہ، این اے 102 سائرہ افضل تارڑ، این اے 103 شاہد حسین بھٹی، این اے 104 نوابزادہ مظہر علی، این اے 105 سے ق لیگ کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی، این اے 106 سے ن لیگ کے جعفر اقبال،
این اے 107 عابد رضا، این اے 108 ممتاز تارڑ، این اے 109 ناصر اقبال بوسال، این اے 110 خواجہ آصف، این اے 111 چودھری ارمغان سبحانی، این اے 112 رانا شمیم، این اے 113 افتخار الحسن ظاہرے شاہ، این اے 114 زاہد حامد، این اے 115 میاں رشید، این اے 116 دانیال عزیز، این اے 117 احسن اقبال کامیاب قرار پائے۔ این اے 51راولپنڈی ٹو سے ن لیگ کے راجہ جاوید اخلاص 82339ووٹ لیکر جیت گئے ، انکے مد مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار راجا پرویز اشرف کو بدترین شکست ہوئی ہے اور انہوں نے صرف21307 ووٹ لئے۔ این اے 147اوکاڑہ سے ن لیگ کے معین وٹو کامیاب ہو گئے، انکے مد مقابل پی پی کے منظور وٹو ہار گئے۔ منظور وٹو این اے 146سے بھی ہار گئے، انکے مدمقابل ن لیگ کے رائو اجمل بھاری فرق سے جیت گئے۔ ن لیگ کے معین وٹو پی پی 193 سے بھی کامیاب ہو گئے۔ این اے 50 راولپنڈی سے ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی 80692 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔
انکے مدمقابل پی پی کے غلام مرتضیٰ ستی ہار گئے۔ این اے 78فیصل آباد سے ن لیگ کے رجب علی بلوچ 87000 ووٹ لیکر جیت گئے۔ این اے 141قصور فور سے ن لیگ کے رانا اسحاق 60231 ووٹ لے کامیاب ہو گئے۔ این اے 76 فیصل آباد سے ن لیگ کے طلال چودھری کامیاب ہو گئے، این اے 167وہاڑی سے ن لیگ چودھری نذیر آرائیں، این اے 124لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر، این اے 160ساہی وال سے ن لیگ کے سید عمران شاہ تیس ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ این اے 161 ساہیوال سے ن لیگ کے اشرف چودھری نے میدان مار لیا۔ این اے 120سے ن لیگ کے سربراہ نواز شریف، این اے 119لاہور سے ن لیگ کے حمزہ شہباز شریف جیت گئے۔ این اے 79سمندری سے ن لیگ کے چودھری شہباز بابر 59371ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے۔ این اے49 اسلام آباد سے ن لیگ کے طارق فضل چودھری، این اے 64 سرگودھا سے ن لیگ کے امین الحسنات کامیاب ہوئے اور پی پی کے ندیم افضل گوندل ہار گئے۔
این اے 163 سے ن لیگ کے چودھری منیر اور این اے 190سے ن لیگ کے طاہر بشیر چیمہ، این اے 69 خوشاب سے ن لیگ کی سمیرا ملک جیت گئیں۔ این اے 128لاہور سے ن لیگ کے افضل کھوکھر نے 65268 ووٹ لے کر پی ٹی آئی کے کرامت کھوکھر کو بھاری اکثریت سے ہرا دیا۔ این اے 129سے ن لیگ کے شہباز شریف بھی کامیاب ہو گئے۔ این اے 44فاٹا سے ن لیگ کے شہاب الدین خان پشت جیت گئے۔ این اے 72میانوالی ٹو سے پی ٹی آئی کے امجد خان نیازی 102104 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، مدمقابل ن لیگ کے حمیر حیات روکھڑی نے 30ہزار سے زائد ووٹ لئے۔ این اے 48اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے جاوید ہاشمی کامیاب ہو گئے، ن لیگ کے انجمل عقیل بھاری مارجن سے ہار گئے۔
این اے 154 لودھراں ون سے پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین 72735ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔این اے 153 جلال پور پیروالہ کے 114 پولنگ اسٹیشنوں سے (ن) لیگ کے دیوان عاشق بخاری نے 42160' پیپلزپارٹی کے رانا قاسم نون نے 31225 اور تحریک انصاف کے سعید خورشید شاہ نے 5890 ووٹ لیے۔ این اے 56راولپنڈی سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیخ رشید نے ن لیگ کے شکیل اعوان کو شکست دیدی۔ این اے ون پشاور سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 66465 ووٹ لیکر جیت گئے۔ انکے مدمقابل اے این پی کے غلام احمد بلور اور ہارون بلور نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ غلام بلور نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ہماری شکست ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے، عوام ہماری حکومت سے مطمئن نہیں تھے۔ جو ہوا ٹھیک ہوا۔ این اے 2 پشاور سے پی ٹی آئی کے انجینئر حامد الحق 41361 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ این اے 4 پشاور سے پی ٹی آئی کے گلزار خان 33720 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔این اے 3پشاور سے پی ٹی آئی کے ساجد نواز کامیاب، این اے 30 سوات ٹو سے پی ٹی آئی کے سلیم الرحمان، این اے7نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے پرویز خٹک اور این اے 6نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے سراج یوسفزئی کامیاب ہو گئے۔ این اے 33اپر دیر سے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ 31754ووٹ لیکر پی پی کے امیدوار سے جیت گئے۔
این اے 45 فاٹا سے آزاد امیدوار الحاج شاہ جی گل آفریدی 20374ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ این اے 246کراچی 8سے ایم کیو ایم کے نبیل گبول 178330ووٹوں سے جیت گئے۔ این اے 225 بدین ٹو سے پیپلز پارٹی کی فہمیدہ مرزا 73600 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئیں۔ این اے 207لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کی فریال تالپور 78ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہو گئیں۔ این اے 195رحیم یار خان سے پی پی کے مصطفیٰ محمود نے انتخابی معرکہ سر کر لیا۔ این اے 259 سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کامیاب ہوگئے، این اے 264 ژوب بلوچستان سے جے یو آئی نظریاتی کے مولانا عصمت اللہ، این اے 271 خاران سے ن لیگ کے عبد القادر بلوچ کامیاب ہو گئے۔
علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے 250 اور سندھ اسمبلی کے 2 حلقوں پی ایس 112 اور113 کے 42 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے ان حلقوں میں ہفتے کو پولنگ بروقت شروع نہیں ہو سکی تھی اور الیکشن کمیشن کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر الیکشن کمیشن مذکورہ پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے امیدواروں مخدوم امین فہیم، فریال تالپور، قائم علی شاہ، فہمیدہ مرزا، خورشید شاہ، نوید قمر، اویس مظفر، علی گوہر مہر سمیت دیگر رہنما اپنی نشستیں جیت لی ہیں۔سکھر میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار سلیم بندھانی جیت گئے ہیں۔
بلوچستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بلوچ وپشتون قوم پرست جماعتوں نے اکثریت حاصل کرلی، صوبائی اسمبلی کیلیے پشتونخواملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جے یو آئی ، اے این پی اور مجلس وحدت المسلمین کے امیدواروں نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، قومی اسمبلی سے محمود خان اچکزئی،نواب ثناء اﷲ زہری، قادربلوچ، جام کمال، صوبائی اسمبلی سے نواب ایاز خان جوگیزئی، نصراﷲ زیرے، سردار عبدالرحمن کھیتران،میرظفراﷲ زہری، جعفرخان مندوخیل اورآزاد امیدوارغلام دستگیر بادینی رات گئے تک برتری حاصل کیے ہوئے تھے،غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی بی ون کوئٹہ سے مسلم لیگ ن طاہر محمود، مجلس وحدت المسلمین کے سید علی رضا، پی بی 10سے پشتونخوامیپ کے سردار مصطفی ترین، پی بی 16لورالائی سے عبیداﷲ جان بابت پی بی 11سے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی پی بی 22سے عبدالرحیم زیارتوال نے کامیابی حاصل کرلی جبکہ سید لیاقت علی آغا، نصراﷲ زیرے، نواب ایازجوگیزئی اور پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کی نشست پر بھاری لیڈ پر تھے، پی بی 12سے اے این پی کے انجینئرزمرک خان، پی بی 7سے جمعیت(ف) کے مولانا گل محمد دمڑ کامیاب ہوئے، پی بی 25سے ن لیگ کے جان محمد جمالی، میر عاصم کردگیلو، میر عبدالقدوس بزنجو کامیاب ہوئے نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک ،عظیم بلیدی، کہدہ اکرم دشتی بھی کامیاب ہوگئے آن لائن کے مطابق نیشنل پارٹی نے کیچ کا میدان مار لیا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت کیچ سے عظیم بلیدی اور کہدہ اکرم دشتی بھی کامیاب ہو گئے غیرسرکاری نتائج کے مطابق عام انتخابات 2013ء میں حلقہ پی بی 49 کیچ ٹو سے میرعظیم بلیدی 3 ہزار 3 سو ووٹ حاصل کرکے کامیاب۔
جبکہ جمعیت علماء اسلام کے میرمحمداسماعیل بلیدی 8 سو 50 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 50 کیچ تھری سے نیشنل پارٹی کو برتری اکرم دشتی ایک ہزار 3 سو 50 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار قاسم دشتی 8 سو 69 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 9 پشین ٹو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولوی عبدالمالک 15 ہزار 5 سو 76 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ 12 ہزار 2 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی ٹو کوئٹہ ٹو سے مجلس واحد مسلمین کے سید علی رضا 7 ہزار 3 سو 20 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ 5 ہزار 7 سو 43 ووٹوں سے دوسرے پر رہے پی بی 8 پشین ون سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت آغا 7 ہزار 7 سو 53 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سید مطیع اللہ آغا 6 ہزار 3 سو 85 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی 24 ڈیرہ بگٹی سے سرفراز احمد بگٹی 9 ہزار 4 سو 48ووٹ حاصل کرکے کامیاب۔
جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق)کے طارق مسوری بگٹی 4 ہزار 2 سو 5 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرر ہے حلقہ پی بی 29 نصیر آباد ٹو سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میرغفور لہڑی 11 ہزار 7 سو 52 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ آزاد امیدوار بابو امین عمرانی 5 ہزار 7 سو 92 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرر ہے ،دریں اثناء بلوچستان میں انتخابی دنگل غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچ و پشتون قوم پرستوںنے میدان مار لیا نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ حلقہ پی بی 48 کیچ سے 4 ہزار 3 سو 25 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے جبکہ بی این پی (عوامی) کے سیداحسان شاہ 3 ہزار 5 سو 98 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 36 قلات ون سے نیشنل پارٹی کے امیدوار میرخالد خان لانگو 7 ہزار آٹھ سو 10 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔
جبکہ جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) کے آغا محمود شاہ 3 ہزار پانچ سو ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 46خاران سے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے عبدالکریم نوشیروانی 3ہزار تین سوتیس ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) احمدنواز حسنی 2ہزار 8 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی 10پشین تھری سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سردار مصطفیٰ ترین 6ہزار چار سو 12ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوگئے جبکہ ان کے مد مقابل جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالباری آغا 4 ہزار 7 سو 23ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 12قلعہ عبداللہ ٹو سے عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان 8ہزار دو سو چوبیس ووٹ لے کر اول جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالقہار ودان 5 ہزار 5 سو ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 7 زیارت جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا گل محمد دومڑ 9 ہزار 3 سو 96 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ جمعیت (نظریاتی) کے مولانا نور محمد 8 ہزار 2 سو 99 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 22 ہرنائی سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال 4 ہزار 2 سو 34 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے خالق شاہ 3 ہزار 7 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 11 قلعہ عبداللہ ون سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی 8 ہزار 2 سو 24 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولوی عبدالرحیم 6 ہزار ایک سو 71 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے ۔
متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کراچی میں ہونے والے انتخابات میں19میں 16جبکہ صوبائی اسمبلی کی41میں سے 33 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے دعویٰ کے مطابق اس نے قومی اسمبلی کی2 اور صوبائی اسمبلی کی4 نشستیں جیت لی ہیں۔
کراچی سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے بھی2 نشستوں اورمتحدہ دینی محاذ اور اے این پی نے ایک ایک نشست پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، سیاسی جماعتوں سے ملنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق239سے ایم کیوایم کے امیدوار سلمان مجاہد بلوچ ،240 سے متحدہ کے خواجہ سہیل منصور ،241 سے متحدہ کے ایس اے اقبال قادری ،242 سے متحدہ کے محبوب عالم ، 243 سے متحدہ کے عبدالوسیم ،244 سے متحدہ کے شیخ صلاح الدین ، 245 سے متحدہ کے ریحان ہاشمی ،246 سے متحدہ کے نبیل گبول ،247 سے متحدہ کے سفیان یوسف ،248 سے پیپلزپارٹی کے شاہجان بلوچ ،249 پر متحدہ کے ڈاکٹر فاروق ستار ،251 پر متحدہ کے علی رضا عابدی ،252 پر متحدہ کے رشیدگوڈیل ،253 پر متحدہ کے مزمل قریشی ،255 پر متحدہ کے آصف حسنین ،256 پر متحدہ کے اقبال محمد علی خان ڈپٹی ،257 پر متحدہ کے ساجد احمداور حلقہ نمبر 258 پر پیپلزپارٹی کے راجہ عبدلرزاق کامیاب ہوگئے ہیں۔
جبکہ اس نشست کے حوالے سے مسلم لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس کے امیدوار عبدالحکیم بلوچ کو برتری حاصل ہے جبکہ اے این پی کے امیدوار کی ہلاکت کے باعث254پر الیکشن ملتوی ہوچکے ہیں اور 250پر الیکشن کمیشن کے حکم پر40 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج روکے جانے کے سبب اس حلقے کا نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے،کراچی میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں پی ایس89 مسلم لیگ کے ہمایوں خان ،90 پرلیاقت عسکانی (پیپلزپارٹی ) ، 91 سے متحدہ کے کامران اختر، 92 سے متحدہ کے عبدالحسیب ،93 سے اے این پی کے بشیرجان ،94 سے متحدہ کے سیف الدین خالد ، 96 سے متحدہ کے مظاہر امیر ،97 سے متحدہ کے عبداﷲشیخ ،98 متحدہ کے وسیم قریشی ،99 سے متحدہ کے خواجہ اظہارالحسن ، 100 متحدہ کے عادل صدیقی ، 101 سے متحدہ کے جمال احمد ، 102 سے متحدہ کے انور رضا ، 103 سے متحدہ ساجدقریشی ، 104 سے متحدہ کے ریحان ظفر، 105سے متحدہ کے خالد بن ولایت ، 106 سے متحدہ کے افتخار عالم
، 107 سے متحدہ کے عظیم فاروقی ، 108سے پیپلزپارٹی کے جاوید ناگوری ، 109سے پیپلزپارٹی کی سمیہ ناز بلوچ ،110سے متحدہ کے محمد دلاور ، 111سے متحدہ کے محمد کامران ، 112متحدہ کے حافظ سہیل ، 113سے متحدہ کے علی راشد ، 114سے متحدہ کے رؤف صدیقی ، 115 سے متحدہ کے ارشدوہرہ،116 سے متحدہکیمحمود عبدالرزاق ، 117 سے متحدہ کے ڈاکٹر صغیر احمد ، 118 سے متحدہ کے عدنان احمد ، 119 سے متحدہ کے ارتضی فاروقی ، 120سے متحدہ کے نشاط احمد ضیاء ، 121 سے متحدہ کے ندیم راضی ، 122 سے متحدہ کے خالد افتخار ، 123سے متحدہ کے شیرازوحید ، 124 سے متحدہ کے سردار احمد ، 125 سے متحدہ کے عامر معین ، 126 سے متحدہ کے فیصل سبزواری ، 127 سے متحدہ کے اشفاق منگی ، 128 متحدہ دینی محاز کے مولانا اورنگزیب فاروقی ،129 سے مسلم لیگ ن کے شفیق جاموٹ اور پی ایس130 سے پیپلزپارٹی کے ساجد جوکھیو کامیاب ہوگئے ہیں ان نتائج کے حوالے سے رات گئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔
جبکہ سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نواز شریف شہباز شریف، عمران خان، شیخ رشید ،نبیل گبول، پرویز الٰہی، فضل الرحمن، شاہ محمود قریشی، خورشید شاہ جیت گئے ۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی 125، تحریک انصاف کو 35اور پیپلز پارٹی کو 33 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ را ت گئے تک ملنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ 54نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی تھی، جبکہ اسے 124نشستوں پر برتری حاصل تھی، این اے 68 سرگودھا 5 سے ن لیگ کے صدر نواز شریف 86116 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔
این اے 117نارووال تین سے ن لیگ کے احسن اقبال، این اے 67 سرگودھا چار سے ن لیگ کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی 85021 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، ذوالفقار بھٹی نے اپنے مدمقابل اور سات مرتبہ رکن قومی اسمبلی بننے والے ق لیگ کے امیدوار انور چیمہ کو شکست دی۔ این اے 144 اوکاڑہ 2 سے مسلم لیگ ن کے عارف چوہدری 57335 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، انھوں نے مرحوم رائو سکندر کی بیوہ شفیقہ سکندر کو شکست دی، انھوں نے سولہ ہزار سات سو سترہ ووٹ حاصل کئے۔
گوجرانوالہ ریجن کی 23 قومی نشستوں پر ن لیگ نے کلین سویپ کیا۔ تحریک انصاف کوئی نشست حاصل نہ کر سکی، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان چوہدری احمد مختار، قمر زمان کائرہ، تنویر اشرف کائرہ، چودھری وجاہت حسین اور ابرار الحق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ق لیگ 1 صوبائی اور 1 قومی سیٹ جیت سکی، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی واحد کامیاب امیدوار قرار پائے۔ گوجرانوالہ ریجن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواران این اے 95 سے عثمان ابراہیم، این اے 96 خرم دستگیر خاں، این اے 97 محمود بشیر ورک، این اے 98 میاں طارق، این اے 99 رانا عمر نذیر، این اے 100 اظہر قیوم ناہرا، این اے 101 جسٹس (ر) افتخار چیمہ، این اے 102 سائرہ افضل تارڑ، این اے 103 شاہد حسین بھٹی، این اے 104 نوابزادہ مظہر علی، این اے 105 سے ق لیگ کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی، این اے 106 سے ن لیگ کے جعفر اقبال،
این اے 107 عابد رضا، این اے 108 ممتاز تارڑ، این اے 109 ناصر اقبال بوسال، این اے 110 خواجہ آصف، این اے 111 چودھری ارمغان سبحانی، این اے 112 رانا شمیم، این اے 113 افتخار الحسن ظاہرے شاہ، این اے 114 زاہد حامد، این اے 115 میاں رشید، این اے 116 دانیال عزیز، این اے 117 احسن اقبال کامیاب قرار پائے۔ این اے 51راولپنڈی ٹو سے ن لیگ کے راجہ جاوید اخلاص 82339ووٹ لیکر جیت گئے ، انکے مد مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار راجا پرویز اشرف کو بدترین شکست ہوئی ہے اور انہوں نے صرف21307 ووٹ لئے۔ این اے 147اوکاڑہ سے ن لیگ کے معین وٹو کامیاب ہو گئے، انکے مد مقابل پی پی کے منظور وٹو ہار گئے۔ منظور وٹو این اے 146سے بھی ہار گئے، انکے مدمقابل ن لیگ کے رائو اجمل بھاری فرق سے جیت گئے۔ ن لیگ کے معین وٹو پی پی 193 سے بھی کامیاب ہو گئے۔ این اے 50 راولپنڈی سے ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی 80692 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔
انکے مدمقابل پی پی کے غلام مرتضیٰ ستی ہار گئے۔ این اے 78فیصل آباد سے ن لیگ کے رجب علی بلوچ 87000 ووٹ لیکر جیت گئے۔ این اے 141قصور فور سے ن لیگ کے رانا اسحاق 60231 ووٹ لے کامیاب ہو گئے۔ این اے 76 فیصل آباد سے ن لیگ کے طلال چودھری کامیاب ہو گئے، این اے 167وہاڑی سے ن لیگ چودھری نذیر آرائیں، این اے 124لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر، این اے 160ساہی وال سے ن لیگ کے سید عمران شاہ تیس ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ این اے 161 ساہیوال سے ن لیگ کے اشرف چودھری نے میدان مار لیا۔ این اے 120سے ن لیگ کے سربراہ نواز شریف، این اے 119لاہور سے ن لیگ کے حمزہ شہباز شریف جیت گئے۔ این اے 79سمندری سے ن لیگ کے چودھری شہباز بابر 59371ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے۔ این اے49 اسلام آباد سے ن لیگ کے طارق فضل چودھری، این اے 64 سرگودھا سے ن لیگ کے امین الحسنات کامیاب ہوئے اور پی پی کے ندیم افضل گوندل ہار گئے۔
این اے 163 سے ن لیگ کے چودھری منیر اور این اے 190سے ن لیگ کے طاہر بشیر چیمہ، این اے 69 خوشاب سے ن لیگ کی سمیرا ملک جیت گئیں۔ این اے 128لاہور سے ن لیگ کے افضل کھوکھر نے 65268 ووٹ لے کر پی ٹی آئی کے کرامت کھوکھر کو بھاری اکثریت سے ہرا دیا۔ این اے 129سے ن لیگ کے شہباز شریف بھی کامیاب ہو گئے۔ این اے 44فاٹا سے ن لیگ کے شہاب الدین خان پشت جیت گئے۔ این اے 72میانوالی ٹو سے پی ٹی آئی کے امجد خان نیازی 102104 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، مدمقابل ن لیگ کے حمیر حیات روکھڑی نے 30ہزار سے زائد ووٹ لئے۔ این اے 48اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے جاوید ہاشمی کامیاب ہو گئے، ن لیگ کے انجمل عقیل بھاری مارجن سے ہار گئے۔
این اے 154 لودھراں ون سے پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین 72735ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔این اے 153 جلال پور پیروالہ کے 114 پولنگ اسٹیشنوں سے (ن) لیگ کے دیوان عاشق بخاری نے 42160' پیپلزپارٹی کے رانا قاسم نون نے 31225 اور تحریک انصاف کے سعید خورشید شاہ نے 5890 ووٹ لیے۔ این اے 56راولپنڈی سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیخ رشید نے ن لیگ کے شکیل اعوان کو شکست دیدی۔ این اے ون پشاور سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 66465 ووٹ لیکر جیت گئے۔ انکے مدمقابل اے این پی کے غلام احمد بلور اور ہارون بلور نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ غلام بلور نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ہماری شکست ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے، عوام ہماری حکومت سے مطمئن نہیں تھے۔ جو ہوا ٹھیک ہوا۔ این اے 2 پشاور سے پی ٹی آئی کے انجینئر حامد الحق 41361 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ این اے 4 پشاور سے پی ٹی آئی کے گلزار خان 33720 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔این اے 3پشاور سے پی ٹی آئی کے ساجد نواز کامیاب، این اے 30 سوات ٹو سے پی ٹی آئی کے سلیم الرحمان، این اے7نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے پرویز خٹک اور این اے 6نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے سراج یوسفزئی کامیاب ہو گئے۔ این اے 33اپر دیر سے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ 31754ووٹ لیکر پی پی کے امیدوار سے جیت گئے۔
این اے 45 فاٹا سے آزاد امیدوار الحاج شاہ جی گل آفریدی 20374ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ این اے 246کراچی 8سے ایم کیو ایم کے نبیل گبول 178330ووٹوں سے جیت گئے۔ این اے 225 بدین ٹو سے پیپلز پارٹی کی فہمیدہ مرزا 73600 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئیں۔ این اے 207لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کی فریال تالپور 78ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہو گئیں۔ این اے 195رحیم یار خان سے پی پی کے مصطفیٰ محمود نے انتخابی معرکہ سر کر لیا۔ این اے 259 سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کامیاب ہوگئے، این اے 264 ژوب بلوچستان سے جے یو آئی نظریاتی کے مولانا عصمت اللہ، این اے 271 خاران سے ن لیگ کے عبد القادر بلوچ کامیاب ہو گئے۔
علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے 250 اور سندھ اسمبلی کے 2 حلقوں پی ایس 112 اور113 کے 42 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے ان حلقوں میں ہفتے کو پولنگ بروقت شروع نہیں ہو سکی تھی اور الیکشن کمیشن کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر الیکشن کمیشن مذکورہ پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے امیدواروں مخدوم امین فہیم، فریال تالپور، قائم علی شاہ، فہمیدہ مرزا، خورشید شاہ، نوید قمر، اویس مظفر، علی گوہر مہر سمیت دیگر رہنما اپنی نشستیں جیت لی ہیں۔سکھر میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار سلیم بندھانی جیت گئے ہیں۔
بلوچستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بلوچ وپشتون قوم پرست جماعتوں نے اکثریت حاصل کرلی، صوبائی اسمبلی کیلیے پشتونخواملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جے یو آئی ، اے این پی اور مجلس وحدت المسلمین کے امیدواروں نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، قومی اسمبلی سے محمود خان اچکزئی،نواب ثناء اﷲ زہری، قادربلوچ، جام کمال، صوبائی اسمبلی سے نواب ایاز خان جوگیزئی، نصراﷲ زیرے، سردار عبدالرحمن کھیتران،میرظفراﷲ زہری، جعفرخان مندوخیل اورآزاد امیدوارغلام دستگیر بادینی رات گئے تک برتری حاصل کیے ہوئے تھے،غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی بی ون کوئٹہ سے مسلم لیگ ن طاہر محمود، مجلس وحدت المسلمین کے سید علی رضا، پی بی 10سے پشتونخوامیپ کے سردار مصطفی ترین، پی بی 16لورالائی سے عبیداﷲ جان بابت پی بی 11سے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی پی بی 22سے عبدالرحیم زیارتوال نے کامیابی حاصل کرلی جبکہ سید لیاقت علی آغا، نصراﷲ زیرے، نواب ایازجوگیزئی اور پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کی نشست پر بھاری لیڈ پر تھے، پی بی 12سے اے این پی کے انجینئرزمرک خان، پی بی 7سے جمعیت(ف) کے مولانا گل محمد دمڑ کامیاب ہوئے، پی بی 25سے ن لیگ کے جان محمد جمالی، میر عاصم کردگیلو، میر عبدالقدوس بزنجو کامیاب ہوئے نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک ،عظیم بلیدی، کہدہ اکرم دشتی بھی کامیاب ہوگئے آن لائن کے مطابق نیشنل پارٹی نے کیچ کا میدان مار لیا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت کیچ سے عظیم بلیدی اور کہدہ اکرم دشتی بھی کامیاب ہو گئے غیرسرکاری نتائج کے مطابق عام انتخابات 2013ء میں حلقہ پی بی 49 کیچ ٹو سے میرعظیم بلیدی 3 ہزار 3 سو ووٹ حاصل کرکے کامیاب۔
جبکہ جمعیت علماء اسلام کے میرمحمداسماعیل بلیدی 8 سو 50 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 50 کیچ تھری سے نیشنل پارٹی کو برتری اکرم دشتی ایک ہزار 3 سو 50 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار قاسم دشتی 8 سو 69 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 9 پشین ٹو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولوی عبدالمالک 15 ہزار 5 سو 76 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ 12 ہزار 2 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی ٹو کوئٹہ ٹو سے مجلس واحد مسلمین کے سید علی رضا 7 ہزار 3 سو 20 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ 5 ہزار 7 سو 43 ووٹوں سے دوسرے پر رہے پی بی 8 پشین ون سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت آغا 7 ہزار 7 سو 53 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سید مطیع اللہ آغا 6 ہزار 3 سو 85 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی 24 ڈیرہ بگٹی سے سرفراز احمد بگٹی 9 ہزار 4 سو 48ووٹ حاصل کرکے کامیاب۔
جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق)کے طارق مسوری بگٹی 4 ہزار 2 سو 5 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرر ہے حلقہ پی بی 29 نصیر آباد ٹو سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میرغفور لہڑی 11 ہزار 7 سو 52 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ آزاد امیدوار بابو امین عمرانی 5 ہزار 7 سو 92 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرر ہے ،دریں اثناء بلوچستان میں انتخابی دنگل غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچ و پشتون قوم پرستوںنے میدان مار لیا نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ حلقہ پی بی 48 کیچ سے 4 ہزار 3 سو 25 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے جبکہ بی این پی (عوامی) کے سیداحسان شاہ 3 ہزار 5 سو 98 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 36 قلات ون سے نیشنل پارٹی کے امیدوار میرخالد خان لانگو 7 ہزار آٹھ سو 10 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔
جبکہ جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) کے آغا محمود شاہ 3 ہزار پانچ سو ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 46خاران سے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے عبدالکریم نوشیروانی 3ہزار تین سوتیس ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) احمدنواز حسنی 2ہزار 8 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے پی بی 10پشین تھری سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سردار مصطفیٰ ترین 6ہزار چار سو 12ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوگئے جبکہ ان کے مد مقابل جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالباری آغا 4 ہزار 7 سو 23ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 12قلعہ عبداللہ ٹو سے عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان 8ہزار دو سو چوبیس ووٹ لے کر اول جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالقہار ودان 5 ہزار 5 سو ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 7 زیارت جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا گل محمد دومڑ 9 ہزار 3 سو 96 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ جمعیت (نظریاتی) کے مولانا نور محمد 8 ہزار 2 سو 99 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 22 ہرنائی سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال 4 ہزار 2 سو 34 ووٹ حاصل کرکے کامیاب جبکہ جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے خالق شاہ 3 ہزار 7 سو ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے حلقہ پی بی 11 قلعہ عبداللہ ون سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی 8 ہزار 2 سو 24 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولوی عبدالرحیم 6 ہزار ایک سو 71 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہے ۔
متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کراچی میں ہونے والے انتخابات میں19میں 16جبکہ صوبائی اسمبلی کی41میں سے 33 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے دعویٰ کے مطابق اس نے قومی اسمبلی کی2 اور صوبائی اسمبلی کی4 نشستیں جیت لی ہیں۔
کراچی سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے بھی2 نشستوں اورمتحدہ دینی محاذ اور اے این پی نے ایک ایک نشست پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، سیاسی جماعتوں سے ملنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق239سے ایم کیوایم کے امیدوار سلمان مجاہد بلوچ ،240 سے متحدہ کے خواجہ سہیل منصور ،241 سے متحدہ کے ایس اے اقبال قادری ،242 سے متحدہ کے محبوب عالم ، 243 سے متحدہ کے عبدالوسیم ،244 سے متحدہ کے شیخ صلاح الدین ، 245 سے متحدہ کے ریحان ہاشمی ،246 سے متحدہ کے نبیل گبول ،247 سے متحدہ کے سفیان یوسف ،248 سے پیپلزپارٹی کے شاہجان بلوچ ،249 پر متحدہ کے ڈاکٹر فاروق ستار ،251 پر متحدہ کے علی رضا عابدی ،252 پر متحدہ کے رشیدگوڈیل ،253 پر متحدہ کے مزمل قریشی ،255 پر متحدہ کے آصف حسنین ،256 پر متحدہ کے اقبال محمد علی خان ڈپٹی ،257 پر متحدہ کے ساجد احمداور حلقہ نمبر 258 پر پیپلزپارٹی کے راجہ عبدلرزاق کامیاب ہوگئے ہیں۔
جبکہ اس نشست کے حوالے سے مسلم لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس کے امیدوار عبدالحکیم بلوچ کو برتری حاصل ہے جبکہ اے این پی کے امیدوار کی ہلاکت کے باعث254پر الیکشن ملتوی ہوچکے ہیں اور 250پر الیکشن کمیشن کے حکم پر40 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج روکے جانے کے سبب اس حلقے کا نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے،کراچی میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں پی ایس89 مسلم لیگ کے ہمایوں خان ،90 پرلیاقت عسکانی (پیپلزپارٹی ) ، 91 سے متحدہ کے کامران اختر، 92 سے متحدہ کے عبدالحسیب ،93 سے اے این پی کے بشیرجان ،94 سے متحدہ کے سیف الدین خالد ، 96 سے متحدہ کے مظاہر امیر ،97 سے متحدہ کے عبداﷲشیخ ،98 متحدہ کے وسیم قریشی ،99 سے متحدہ کے خواجہ اظہارالحسن ، 100 متحدہ کے عادل صدیقی ، 101 سے متحدہ کے جمال احمد ، 102 سے متحدہ کے انور رضا ، 103 سے متحدہ ساجدقریشی ، 104 سے متحدہ کے ریحان ظفر، 105سے متحدہ کے خالد بن ولایت ، 106 سے متحدہ کے افتخار عالم
، 107 سے متحدہ کے عظیم فاروقی ، 108سے پیپلزپارٹی کے جاوید ناگوری ، 109سے پیپلزپارٹی کی سمیہ ناز بلوچ ،110سے متحدہ کے محمد دلاور ، 111سے متحدہ کے محمد کامران ، 112متحدہ کے حافظ سہیل ، 113سے متحدہ کے علی راشد ، 114سے متحدہ کے رؤف صدیقی ، 115 سے متحدہ کے ارشدوہرہ،116 سے متحدہکیمحمود عبدالرزاق ، 117 سے متحدہ کے ڈاکٹر صغیر احمد ، 118 سے متحدہ کے عدنان احمد ، 119 سے متحدہ کے ارتضی فاروقی ، 120سے متحدہ کے نشاط احمد ضیاء ، 121 سے متحدہ کے ندیم راضی ، 122 سے متحدہ کے خالد افتخار ، 123سے متحدہ کے شیرازوحید ، 124 سے متحدہ کے سردار احمد ، 125 سے متحدہ کے عامر معین ، 126 سے متحدہ کے فیصل سبزواری ، 127 سے متحدہ کے اشفاق منگی ، 128 متحدہ دینی محاز کے مولانا اورنگزیب فاروقی ،129 سے مسلم لیگ ن کے شفیق جاموٹ اور پی ایس130 سے پیپلزپارٹی کے ساجد جوکھیو کامیاب ہوگئے ہیں ان نتائج کے حوالے سے رات گئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔