پاکستانی مندوب کا اقوام متحدہ کی کمیٹی سے خطاب

اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کم ہی لوگوں کو اجتناب ہو گا کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے...

دہشت گرد اپنے گروپس میں نئی بھرتیوں اور لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، مسعود خان. فوٹو: فائل

اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کم ہی لوگوں کو اجتناب ہو گا کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دہرے برجوں پر نائن الیون کے حملوں کے بعد ہی ایک خوفناک عفریت کی صورت میں ہمارے ہموطنوں کے رو برو آئی جس پر کما حقہُ قابو پانے میں ابھی تک کامرانی کے آثار ہویدانھیں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں ہمارے مستقل مندوب جناب مسعود خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوئی وسیع تر بین الاقوامی بندوبست کا ڈول ڈالا جائے تو ممکن ہے اس بھیانک آدم خور بلا کا کوئی سدباب ممکن ہو سکے۔ نیو یارک سے پاکستان کی سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی نے خبر دی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سریع الحرکت حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد اپنی کارروائیوں کا طریقہ کار تبدیل کر رہے ہیں۔

جس کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری جوابی کارروائی کے لیے جنگی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمایندے مسعود خان نے کمیٹی برائے انسداد دہشتگردی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تھری ڈی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں ''ڈائیلاگ'' یعنی بات چیت' ''ڈیولپمنٹ'' یعنی ترقیاتی اور تعمیراتی کام اور ''ڈیٹرنس'' یعنی مضبوط دفاعی پوزیشن کا معقول اہتمام شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے مذاکرات کی جو بات کی ہے اس پر اندرون ملک کئی حلقے بڑا چین و جبیں ہوتے رہے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ بندوق برداروں سے بات نہیں ہو سکتی۔ تاہم عالمی ادارے میں پاکستان کے سرکاری نمایند ے نے جس سہ رخی حکمت عملی کا ذکر کیا ہے اس میں مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے سر فہرست رکھا گیا ہے۔


جناب مسعود خان نے بین الاقوامی کمیٹی سے خطاب میں یہ انکشاف بھی کیا کہ دہشت گرد اپنے گروپس میں نئی بھرتیوں اور لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں لہٰذا ان کے سد باب کے لیے ہمارے پاس بھی جدید ٹیکنالوجی کی کوئی قلت نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ذریعے دہشت گردی کے اس عفریت کے خاتمے کے لیے قرار دادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مغربی پڑوسی ملک کی طرف سے پاکستان پر الزامات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر 822 چوکیاں قائم کر کے ایک لاکھ 50 ہزار جوان تعینات کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں اور آمد و رفت کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

ادھر واشنگٹن میں ایوان صدر کے ترجمان نے افغان صدر کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ امریکا آیندہ سال کے بعد بھی افغانستان میں اپنے فوجی اڈے قائم رکھے گا۔ ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا افغانستان سے مکمل انخلاء چاہتا ہے البتہ افغان حکومت کہ درخواست پر افغان آرمی کی تربیت کے لیے امریکی فوج عارضی طور پر وہاں رکھی جا سکتی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی کمیٹی سے خطاب کرنے والوں میں اقوام متحدہ میں چین کے نمایندے لی باؤ دونگ بھی شامل تھے جنہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو سیکیورٹی کونسل کی قیادت میں ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنی چاہیے۔ لی باؤ دونگ نے کہا کہ چین ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے۔ انسداد دہشتگردی کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ رکن ممالک اور اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کو بڑھائے۔
Load Next Story