شکاگو کے محنت کشوں کو سلام
ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم مئی کو شہر شہر جلسے ہوئے جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا،سیمینار ہوئے،
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم مئی کو شہر شہر جلسے ہوئے جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا،سیمینار ہوئے،کانفرنسیں کی گئیں، مظاہرے ہوئے،ہرجگہ 1886 کے اس المیے پر روشنی ڈالی گئی، شکاگو کے ان بہادر مزدوروں کے آخری جملوں کی تکرار ہوئی جو پھانسی سے پہلے ان جیالے مزدوروں کی زبان سے نکلے تھے۔ شکاگو کی مزدوروں کے خون سے سرخ ہونے والی زمین کا درد بھرے انداز میں ذکر ہوا۔ مقررین نے 1886 میں مزدوروں پر ہونے والے ظلم کے ڈانڈے بڑی مہارت سے سرمایہ دارانہ نظام سے ملائے۔ مزدوروں کے خون میں رنگے جانے والے سرخ جھنڈے کا بڑے فخر کے ساتھ ذکر ہوا۔ یوں سارے دن کی مصروفیت کے بعد سارے مزدور دوست تھک کر گھروں کو چلے گئے۔ اب یہ دوست 2014 میں یکم مئی کو نیند سے جاگیں گے اور یوم مئی منائیں گے۔
اس مسئلے پر کوئی دو رائے نہیں کہ شکاگو کا المیہ سرمایہ دارانہ نظام کا ظلم ہے۔ شکاگو کے مزدوروں نے صنعتکاروں سرمایہ داروں سے نہ کوئی کار مانگی تھی نہ بنگلہ انھوں نے صرف ایک انتہائی جائز مطالبہ یہ کیا تھا کہ ان کے غیر معینہ اوقات کار کا تعین اس طرح کیا جائے کہ مزدوروں کو گھروں کے کام اور کچھ آرام کا وقت مل سکے۔ اس انتہائی جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر اتنی گولیاں چلائیں کہ شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ جو لوگ 1886 میں مزدوروں پر ہونے والے اس ظلم کی یاد مناتے ہیں ان کی مزدور دوستی بلاشبہ لائق ستائش ہے لیکن اس حوالے سے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ شکاگو کے مزدوروں نے جو قربانیاں دیں کیا وہ صرف یاد رکھنے والی قربانیاں تھیں یا اس سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جہد مسلسل کی متقاضی ہیں جو 1886 سے 2013 تک نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی خونخواری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس ظلم کو وقوع پذیر ہوئے اب 127 سال ہورہے ہیں اور اس عرصے میں دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے لیکن بندہ مزدور کے اوقات اور بندہ مزدور کی اوقات میں کوئی فرق نہیں آیا ۔
شکاگو اب 1886 کا شکاگو نہیں رہا امریکا اب 1886 کا امریکا نہیں رہا، دنیا نے اس عرصے میں اس قدر معاشی ترقی کی ہے کہ دنیا بھر میں دولت کے انبار لگ گئے ہیں ہر ملک ہر شہر میں صنعتوں کی بھرمار ہے سڑکوں پر نئے نئے ماڈل کی چمکتی دمکتی کاروں کی وجہ سے ٹریفک جام رہتا ہے۔ بڑے شہروں میں پچاس پچاس ، سو سو منزلہ عمارتیں سر اٹھائے اس طرح کھڑی ہیں کہ آسمان ان کی اونچائی پر شکوہ کناں ہے، شہر شہر میں شاندار فلیٹوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں پوش بستیوں میں ہزاروں گز بلکہ کئی کئی ایکڑ زمین پر شاندار بنگلے محل خود اپنی مثال آپ بنے کھڑے ہیں، مارکیٹیں، بازار، شاپنگ پلازے، اشیاء صرف سے بھرے ہوئے ہیں، ایلیٹ کے کچن ایلیٹ کے فریج، ایلیٹ کی ڈائننگ ٹیبلیں پھلوں، جام جیلی، انڈے، مکھن، چکن، مٹن، پیزوں، برگروں، کیک، پیسٹریوں سے سجے اور بھرے ہیں لیکن ان ساری نعمتوں کا خالق بندہ مزدور آج بھی دو وقت کی روٹی سے محروم ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ شکاگو کے مزدور اس دور کی سب سے بڑی ناانصافی ''لامحدود اوقات کار'' کے خلاف سینہ سپر تھے یہ اس طبقاتی ظلم کی ایک ادنیٰ مثال تھی جو سرمایہ دارانہ نظام محنت کش طبقات پر ڈھا رہا تھا شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد اور قربانیاں محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں تھیں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف لڑنے کی ایک ترغیب، ایک سبق تھیں جسے بھلاکر ساری دنیا میں تاریخ کے اس بے مثال یادگار دن کو تجدید جدوجہد کے بجائے ایک رسم میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے یہ کیسا ظلم بلکہ کھلا ظلم ہے کہ کھیتوں کھلیانوں میں اجناس کے ڈھیر لگانے والا ہاری اور کسان دو وقت کی روٹی کپڑے اور مکان سے محروم ہے اور اس کی رات دن کی محنت سے وڈیرہ اور جاگیردار عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ دن رات محنت کرکے زرق برق کپڑا تیار کرنے والے مزدور کے جسم پر پیوند لگے پھٹے پرانے کپڑے جھول رہے ہیں۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ اس نظام میں عیش و عشرت کی ہر شے کا خالق آبادی کا 98 فیصد حصہ خود اپنی تخلیق کی ہوئی اشیاء سے محروم ہے۔
ہماری دنیا کا محنت کش اہل ثروت کی کس کس شکل میں کیسی کیسی خدمات انجام دے رہا ہے اس پر مشکل ہی سے کسی کی نظر جاتی ہے ان خدمات کا ایک سرسری جائزہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ محنت کش کی خدمات حاصل کرنے والوں کی شان و شوکت کے محلوں کی بنیادوں میں دبے اس طبقے کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔ ایک کسان بن کر یہ غریب غذائی اجناس پیدا کررہا ہے۔ ایک مزدور بن کر یہ طبقہ ملوں، کارخانوں، اسپتالوں، دواؤں کی کمپنیوں میں کام کرتا ہے۔ یہی طبقہ پولٹری فارم میں محنت کرکے انڈے اور چکن تیار کرتا ہے۔ یہی طبقہ ڈیری فارم میں گوشت اور دودھ پیدا کرتا ہے یہی طبقہ دودھ سے مکھن اور دوسری بے شمار اشیاء تیار کرتا ہے۔ یہی طبقہ برگر، پیزا، کیک، پیسٹری اور بیکریوں کے بے شمار آئٹم تیار کرتا ہے، یہی طبقہ انجن، بوگی، کار، رکشہ، ٹیکسی، ٹرک، منی ٹرک بناتا ہے۔
یہی طبقہ ہوائی جہاز بناتا ہے، یہی طبقہ بحری جہاز، کشتیاں بناتا ہے، یہی طبقہ مکینک ہے، پلمبر ہے، رنگ ساز ہے، ڈیکوریٹر ہے، یہی طبقہ زمینداروں وڈیروں نوابوں کے باغات میں آم ، امرود، سیب، انگور، مسمی، کیلا، خوبانی، تربوز، خربوزہ، کینو، پپیتا، رس بھری، سیتا پھل، بادام، کشمش، چلغوزہ، انجیر، انار، چھوارے، پستہ، اخروٹ، فروٹر، کاجو پیدا کرتا ہے۔ باورچی بن کر ایلیٹ کے کچن میں قسم قسم کے کھانے بناتا ہے۔ بیرا بن کر یہ کھانے ڈائننگ ٹیبل پر سجاتا ہے، مالی بن کر ایلیٹ کے گارڈن کو رنگ برنگے پھولوں سے مہکاتا ہے۔ ڈرائیور بن کر ایلیٹ کی قیمتی گاڑیاں چلاتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ پیرا میڈیکل اسٹاف کی حیثیت سے اسپتالوں میں خدمات انجام دیتا ہے۔ بسیں چلاتا ہے، ویگنیں، ٹیکسیاں، رکشے، کوچز چلاتا ہے۔ فضائی میزبان ایئرہوسٹسز بن کر مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ مکینک بن کر گاڑیوں کی مرمت کرتا ہے۔ اس طبقے کی خدمات کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کے احاطے کے لیے کتابیں درکار ہیں اس طبقے کے بغیر ایلیٹ طبقہ ایک گھنٹہ نہیں گزار سکتا۔
دنیا کے اس اہم ترین طبقے کا حق تو یہ بنتا ہے کہ اسے ایک آسودہ اور خوشحال زندگی کا حق حاصل ہو اسے اچھی غذا اچھا لباس اچھی رہائش اچھی تعلیم اچھا علاج اچھی تفریح ملے لیکن اسے مل کیا رہا ہے؟ بھوک، بیماری، بے کاری، افلاس،ناقص غذا، ناقص رہائش، جھڑکیاں، گالیاں، دھتکار،پھٹکار، مار دھاڑ۔1886کے بعد دنیا نے جو حیرت انگیز ترقی کی ہے اس میں اس طبقے کا حصہ صرف وہی ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر ذرا تفصیل سے کیا ہے۔
1886 میں شکاگو کے مزدوروں نے اوقات کار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرمایہ داروں کے خلاف جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اب مسئلہ نہ اوقات کار کا ہے نہ اجرتوں میں اضافے کا ہے نہ کام کے بہتر ماحول کا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والی ہر شے کے اس خالق کو اس کا حصہ چاہیے مناسب اور منصفانہ حصہ۔ پیداواری اداروں پر قابض ایلیٹ یا تو موروثی سرمائے سے ان اداروں پر قابض ہے یا کالے دھن سے یا بینکوں کے قرض سے محض اس ناجائز سرمائے سے یہ طبقہ ہر جگہ مزدور کی محنت کا استحصال کر رہا ہے۔ آج ہمارے اردگرد سیاسی مسخرے نظام بدلنے کی، انقلاب لانے کی جو بکواس کر رہے ہیں کیا یہ مسخرے نظام کی تبدیلی اور انقلاب کا مطلب سمجھتے ہیں؟
نظام کی تبدیلی اور انقلاب کا اصل مطلب دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والے محنت کش طبقے کو زندگی کی ہر خوشی ہر نعمت میں کم ازکم 50 فیصد کا حصے دار بنانا اور اس کی عزت و احترام کو طبقے کی جھوٹی عزت و احترام کے مقابلے میں بامعنی باوقار عزت و احترام میں بدلنا ہے۔ اور یہ کام سال میں ایک دن یوم مئی منانے سے نہیں ہوسکتا بلکہ سال کے بارہ مہینے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں ہی سے ہوسکتا ہے لہٰذا اے محنت کش طبقات کے دوستو!اب اوقات کار اچھا ماحول اجرتوں میں اضافہ بونس وغیرہ کے حصار سے نکلو اور محنت کش کا وہ حصہ وہ مقام مانگو جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ یہی شکاگو کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔
اس مسئلے پر کوئی دو رائے نہیں کہ شکاگو کا المیہ سرمایہ دارانہ نظام کا ظلم ہے۔ شکاگو کے مزدوروں نے صنعتکاروں سرمایہ داروں سے نہ کوئی کار مانگی تھی نہ بنگلہ انھوں نے صرف ایک انتہائی جائز مطالبہ یہ کیا تھا کہ ان کے غیر معینہ اوقات کار کا تعین اس طرح کیا جائے کہ مزدوروں کو گھروں کے کام اور کچھ آرام کا وقت مل سکے۔ اس انتہائی جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر اتنی گولیاں چلائیں کہ شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ جو لوگ 1886 میں مزدوروں پر ہونے والے اس ظلم کی یاد مناتے ہیں ان کی مزدور دوستی بلاشبہ لائق ستائش ہے لیکن اس حوالے سے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ شکاگو کے مزدوروں نے جو قربانیاں دیں کیا وہ صرف یاد رکھنے والی قربانیاں تھیں یا اس سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جہد مسلسل کی متقاضی ہیں جو 1886 سے 2013 تک نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی خونخواری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس ظلم کو وقوع پذیر ہوئے اب 127 سال ہورہے ہیں اور اس عرصے میں دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے لیکن بندہ مزدور کے اوقات اور بندہ مزدور کی اوقات میں کوئی فرق نہیں آیا ۔
شکاگو اب 1886 کا شکاگو نہیں رہا امریکا اب 1886 کا امریکا نہیں رہا، دنیا نے اس عرصے میں اس قدر معاشی ترقی کی ہے کہ دنیا بھر میں دولت کے انبار لگ گئے ہیں ہر ملک ہر شہر میں صنعتوں کی بھرمار ہے سڑکوں پر نئے نئے ماڈل کی چمکتی دمکتی کاروں کی وجہ سے ٹریفک جام رہتا ہے۔ بڑے شہروں میں پچاس پچاس ، سو سو منزلہ عمارتیں سر اٹھائے اس طرح کھڑی ہیں کہ آسمان ان کی اونچائی پر شکوہ کناں ہے، شہر شہر میں شاندار فلیٹوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں پوش بستیوں میں ہزاروں گز بلکہ کئی کئی ایکڑ زمین پر شاندار بنگلے محل خود اپنی مثال آپ بنے کھڑے ہیں، مارکیٹیں، بازار، شاپنگ پلازے، اشیاء صرف سے بھرے ہوئے ہیں، ایلیٹ کے کچن ایلیٹ کے فریج، ایلیٹ کی ڈائننگ ٹیبلیں پھلوں، جام جیلی، انڈے، مکھن، چکن، مٹن، پیزوں، برگروں، کیک، پیسٹریوں سے سجے اور بھرے ہیں لیکن ان ساری نعمتوں کا خالق بندہ مزدور آج بھی دو وقت کی روٹی سے محروم ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ شکاگو کے مزدور اس دور کی سب سے بڑی ناانصافی ''لامحدود اوقات کار'' کے خلاف سینہ سپر تھے یہ اس طبقاتی ظلم کی ایک ادنیٰ مثال تھی جو سرمایہ دارانہ نظام محنت کش طبقات پر ڈھا رہا تھا شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد اور قربانیاں محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں تھیں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف لڑنے کی ایک ترغیب، ایک سبق تھیں جسے بھلاکر ساری دنیا میں تاریخ کے اس بے مثال یادگار دن کو تجدید جدوجہد کے بجائے ایک رسم میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے یہ کیسا ظلم بلکہ کھلا ظلم ہے کہ کھیتوں کھلیانوں میں اجناس کے ڈھیر لگانے والا ہاری اور کسان دو وقت کی روٹی کپڑے اور مکان سے محروم ہے اور اس کی رات دن کی محنت سے وڈیرہ اور جاگیردار عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ دن رات محنت کرکے زرق برق کپڑا تیار کرنے والے مزدور کے جسم پر پیوند لگے پھٹے پرانے کپڑے جھول رہے ہیں۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ اس نظام میں عیش و عشرت کی ہر شے کا خالق آبادی کا 98 فیصد حصہ خود اپنی تخلیق کی ہوئی اشیاء سے محروم ہے۔
ہماری دنیا کا محنت کش اہل ثروت کی کس کس شکل میں کیسی کیسی خدمات انجام دے رہا ہے اس پر مشکل ہی سے کسی کی نظر جاتی ہے ان خدمات کا ایک سرسری جائزہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ محنت کش کی خدمات حاصل کرنے والوں کی شان و شوکت کے محلوں کی بنیادوں میں دبے اس طبقے کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔ ایک کسان بن کر یہ غریب غذائی اجناس پیدا کررہا ہے۔ ایک مزدور بن کر یہ طبقہ ملوں، کارخانوں، اسپتالوں، دواؤں کی کمپنیوں میں کام کرتا ہے۔ یہی طبقہ پولٹری فارم میں محنت کرکے انڈے اور چکن تیار کرتا ہے۔ یہی طبقہ ڈیری فارم میں گوشت اور دودھ پیدا کرتا ہے یہی طبقہ دودھ سے مکھن اور دوسری بے شمار اشیاء تیار کرتا ہے۔ یہی طبقہ برگر، پیزا، کیک، پیسٹری اور بیکریوں کے بے شمار آئٹم تیار کرتا ہے، یہی طبقہ انجن، بوگی، کار، رکشہ، ٹیکسی، ٹرک، منی ٹرک بناتا ہے۔
یہی طبقہ ہوائی جہاز بناتا ہے، یہی طبقہ بحری جہاز، کشتیاں بناتا ہے، یہی طبقہ مکینک ہے، پلمبر ہے، رنگ ساز ہے، ڈیکوریٹر ہے، یہی طبقہ زمینداروں وڈیروں نوابوں کے باغات میں آم ، امرود، سیب، انگور، مسمی، کیلا، خوبانی، تربوز، خربوزہ، کینو، پپیتا، رس بھری، سیتا پھل، بادام، کشمش، چلغوزہ، انجیر، انار، چھوارے، پستہ، اخروٹ، فروٹر، کاجو پیدا کرتا ہے۔ باورچی بن کر ایلیٹ کے کچن میں قسم قسم کے کھانے بناتا ہے۔ بیرا بن کر یہ کھانے ڈائننگ ٹیبل پر سجاتا ہے، مالی بن کر ایلیٹ کے گارڈن کو رنگ برنگے پھولوں سے مہکاتا ہے۔ ڈرائیور بن کر ایلیٹ کی قیمتی گاڑیاں چلاتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ پیرا میڈیکل اسٹاف کی حیثیت سے اسپتالوں میں خدمات انجام دیتا ہے۔ بسیں چلاتا ہے، ویگنیں، ٹیکسیاں، رکشے، کوچز چلاتا ہے۔ فضائی میزبان ایئرہوسٹسز بن کر مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ مکینک بن کر گاڑیوں کی مرمت کرتا ہے۔ اس طبقے کی خدمات کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کے احاطے کے لیے کتابیں درکار ہیں اس طبقے کے بغیر ایلیٹ طبقہ ایک گھنٹہ نہیں گزار سکتا۔
دنیا کے اس اہم ترین طبقے کا حق تو یہ بنتا ہے کہ اسے ایک آسودہ اور خوشحال زندگی کا حق حاصل ہو اسے اچھی غذا اچھا لباس اچھی رہائش اچھی تعلیم اچھا علاج اچھی تفریح ملے لیکن اسے مل کیا رہا ہے؟ بھوک، بیماری، بے کاری، افلاس،ناقص غذا، ناقص رہائش، جھڑکیاں، گالیاں، دھتکار،پھٹکار، مار دھاڑ۔1886کے بعد دنیا نے جو حیرت انگیز ترقی کی ہے اس میں اس طبقے کا حصہ صرف وہی ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر ذرا تفصیل سے کیا ہے۔
1886 میں شکاگو کے مزدوروں نے اوقات کار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرمایہ داروں کے خلاف جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اب مسئلہ نہ اوقات کار کا ہے نہ اجرتوں میں اضافے کا ہے نہ کام کے بہتر ماحول کا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والی ہر شے کے اس خالق کو اس کا حصہ چاہیے مناسب اور منصفانہ حصہ۔ پیداواری اداروں پر قابض ایلیٹ یا تو موروثی سرمائے سے ان اداروں پر قابض ہے یا کالے دھن سے یا بینکوں کے قرض سے محض اس ناجائز سرمائے سے یہ طبقہ ہر جگہ مزدور کی محنت کا استحصال کر رہا ہے۔ آج ہمارے اردگرد سیاسی مسخرے نظام بدلنے کی، انقلاب لانے کی جو بکواس کر رہے ہیں کیا یہ مسخرے نظام کی تبدیلی اور انقلاب کا مطلب سمجھتے ہیں؟
نظام کی تبدیلی اور انقلاب کا اصل مطلب دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والے محنت کش طبقے کو زندگی کی ہر خوشی ہر نعمت میں کم ازکم 50 فیصد کا حصے دار بنانا اور اس کی عزت و احترام کو طبقے کی جھوٹی عزت و احترام کے مقابلے میں بامعنی باوقار عزت و احترام میں بدلنا ہے۔ اور یہ کام سال میں ایک دن یوم مئی منانے سے نہیں ہوسکتا بلکہ سال کے بارہ مہینے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں ہی سے ہوسکتا ہے لہٰذا اے محنت کش طبقات کے دوستو!اب اوقات کار اچھا ماحول اجرتوں میں اضافہ بونس وغیرہ کے حصار سے نکلو اور محنت کش کا وہ حصہ وہ مقام مانگو جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ یہی شکاگو کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔