نیا پاکستان خواب سے حقیقت تک

دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی نئی حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کیسے ثابت کرتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی نئی حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کیسے ثابت کرتی ہے۔فوٹو: ایکسپریس

ووٹرز نے اپنا تاریخی کردار قومی امنگوں کے مطابق ادا کر ہی لیا۔ یہ بڑی فتح ہے ورنہ فلک کج رفتار نے الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے کیا کیا سیاسی فتنے اور کون کون سے انتخابی افسانے تھے جو بوجوہ نہیں تراشے گئے۔ بادی النظر میں الیکشن ڈے کا سب سے بنیادی سچ یہ ہے کہ مادر وطن نے جمہوری کمٹمنٹ کے ساتھ انتخابات کے بروقت انعقاد کا تاریخی سنگ میل پایا۔اہل وطن کے دل ودماغ میں 25 جولائی برسوں تازہ رہے گا۔

ایک طرف فاتح سیاسی جماعت نے سیاسی جدوجہد اور انتخابی مہم کے گل اور ثمر پالیے، جمہوریت کی استقامت افشا ہوئی، صبر آزما موسم ، شدید گرمی، بجلی کی معطلی، جذباتی فضا، ناقابل بیان مسابقت اور ہمہ جہت خدشات سے پر سفر میں الیکشن کمیشن بالآخر سرخرو ہوا مگر الیکشن رزلٹس کے اعلان میں تاخیر سے کنفیوژن بڑھا ، اعتراضات آئے ، میڈیا نے انتخابات کے انعقاد، پولنگ کی رفتار، امن ومان کے انتظامات سمیت ملک کے مختلف قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں ان کے امیدواروں کے بارے میں قابل قدر معلومات اور تجزیے پیش کیے۔

دوران پولنگ ماہرین نے کراچی، پنجاب، وسطی مرکزی اور جنوبی پنجاب ، بلوچستان ،خیبر پختونخوا اور سندھ میں سیاسی جماعتوں ، ان کے امیدواروں کی امکانی شکست و ہار کی مختلف توجیہات بیان کیں، ملکی سیاسی انتخابات کا پورا ماضی کھنگال ڈالا، میڈیا پنڈتوں کے کئی تجزیئے غلط بھی ثابت ہوئے، لیکن پہلی بار ووٹر کی اہمیت اور اس کی عزت کا چرچا ہوا، اور الیکشن میں ایک بے نام سی پرچی کی توقیر ہوئی۔

مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے حوالہ سے الیکشن کی شفافیت اور نتائج کو چیلنج کیا اور انھیں مسترد کیے جانے سے فضا تاحال مکدر ہے۔ تاہم سیاسی کیمسٹری سے واقف سیاست دان اس امر سے واقف ہونگے کہ ملکی انتخابات میں نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی روایت برسوں سے موجود ہے، تیسری دنیا میں الیکشن جعلی ووٹوں ،دھاندلی کے الزامات سے شدید متاثر رہے، الیکشن نتائج بڑے پیمانے پر رد بھی کیے جاتے رہے مگر پراسس ختم نہیں ہوتا، جیتنے والے نئی حکومت بناتے ہیں۔

آئین کے مطابق پارلیمان نئے منتخب نمایندوں کا خیر مقدم کرتا ہے، جن امیدواروں کو شکست ہوتی ہے وہ انتخابی ٹریبونل سے رجوع کرتے ہیں، الیکشن کمیشن ان کی دادرسی اور پھر اعلیٰ عدالتیں ان کی پٹیشنز کی سماعت کرتی ہیں ، یہ سارا عمل اس بار بھی چلے گا ۔ ابھی ابتدا ہوئی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی نئی حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کیسے ثابت کرتی ہے یا سیاسی پیش رفتوں کے باعث مخلوط حکومت بنتی ہے، ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو واضح برتری ملی ہے، وہ الیکشن میراتھن جیت گئی ہے ، تکنیکی تنازعات آئین و قانون کے مطابق طے پا جائیں گے، کوئی آسمان نہیں ٹوٹنا چاہیے۔

ادھر الیکشن کمیشن کے تمام تر دعوئوں کے باوجود نتائج کی بروقت فراہمی اور ترسیل ممکن نہ ہو سکی اور رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم بیٹھ گیا جس کے باعث الیکشن کمیشن سے رات گئے تک نتائج رکے رہے، سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نتائج میں تاخیر کی وجہ کوئی گھنائونی سازش نہیں اور نہ کوئی دبائو ہے، اس کی وجہ آرٹی ایس سسٹم کا بیٹھنا ہے، سیکریٹری نے مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے فارم 45 پر انتخابی نتیجہ نہ دینے اور پولنگ ایجنٹس کو پولنگ ااسٹیشنوں سے باہر نکالنے کے الزامات مسترد کردیے۔

غیر ملکی مبصرین نے بھی صورتحال کا جائزہ لیا۔، چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاؤ نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے انتخابات کا کامیاب انعقاد کروانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سلیوٹ پیش کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ مجھے پاکستان میں الیکشن 2018ء کے تاریخی لمحات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔


چیف الیکشن کمشنرسردار رضا نے انتخابات میں معاونت کرنیوالے تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ قوم، چیف جسٹس، مسلح افواج، چیف آف آرمی اسٹاف اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، عدلیہ کے افسران، صوبائی انتظامیہ، سیکیورٹی محکموں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود پر امن الیکشن کے لیے تعاون کیا۔

نئی حکومت کو گراں بار مسائل اور داخلی و خارجی ایشوز اور چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہ مستقبل کے وزیراعظم عمران خان کے سیاسی کیرئیراور حکومتی قیادت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ سیاست دان کوچہ سیاست میں ملک و عوام کی خدمت، مسائل کے حل ، جمہوریت کی بقا اور تعمیر وطن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ن لیگ، مجلس عمل ،اے این پی نے نتائج مسترد کیے ہیں، ان کے درمیان سیاسی رابطوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا میدان کھلا ہے مگر جمہوری عمل اور ملکی حالات کسی نئی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو بعد از الیکشن یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ووٹر کے گریٹر ٹرن آئوٹ سے جمہوریت کی جیت بن کر سامنے آئی ہے اور ووٹر کا پولنگ اسٹیشن پر پہنچنا ووٹ دینا ہی امیدواروں کی کامیابی کا پیغام بن گئی۔ ووٹر نے جمہوری اساس مستحکم کی ہے، اس لیے رزلٹ کے تنازع کو جمہوری دائرہ میں حل کرنے کی جستجو صائب ہوگی، ووٹوں کی اب تک کی اکثریت کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو قوم کی طرف سے نئے وزیراعظم بننے کی مبارک باد دی جارہی ہے، وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

امید کی جانی چاہیے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے پرجوش نعرہ کے حوالہ سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔جی ہاں برج الٹے ہیں ۔ یہ چشم کشا بات ہے۔سیاسی کینویس بھی بدلنے کو ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور انتخابی تاریخ میں 25 جولائی کو ایک اہم مقام حاصل ہوگا ۔اس دن قوم نے جمہوریت سے تجدید عہد کیا، پارلیمانی اقدار و روایات کے تسلسل کو برقرار رکھا، ووٹرز گھروں سے نکلے ، شاندارٹرن آئوٹ دیکھنے میں آیا، میڈیا کے مطابق دورافتادہ اور فاٹا کے قبائلی علاقوں میں پردہ دار خواتین جوق در جوق ووٹ کے لیے پولنگ اسٹیشنز پہنچیں، اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

ذرایع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے پارٹی کی عام انتخابات 2018میں کامیابی کا نتیجہ بنی گالہ اسلام آباد میں سنا ۔ چیئرمین تحریک انصاف کی طرف سے بتایا گیا کہ ملک بھر سے پارٹی رہنمائوں کو مشاورت کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا ، وہ حکومت سازی پر مشاورت اورپارٹی کے آیندہ کے لائحہ عمل کے لیے روڈ میپ دیں گے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ جب تک آخری گیند نہیں ہوجاتی تب تک فیصلہ نہیں ہوتا۔ غیر ملکی مخلوق چاہتی ہے کہ پاکستان کمزور ہو لیکن میری وفاداری اپنے پیسے سے نہیں ملک سے ہے۔ مختصر لفظوں میں جمہوریت کی فتح کو اس شعر میں خوب بیان کیا گیا ہے۔

ہمارے عزمِ مسلسل کی تاب و تب دیکھو

سحر کی گود میں رنگ ِ شکست ِ شب دیکھو
Load Next Story