دنیا میں خودکش دھماکوں کی نئی لہر

عالمی امن کے لیے ایک اور خطرہ بھی ہے جسے داعش کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

عالمی امن کے لیے ایک اور خطرہ بھی ہے جسے داعش کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

جنگجو اوردہشت گردوں نے معصوم عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے خودکش دھماکوں کا جو طریقہ کار اپنایا ہے،اس کا تدارک کرنے میں کسی بھی ملک کے سیکیورٹی حکام ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، کیونکہ خودکش بمبار اپنی جان پر کھیل کر یہ فعل ایسے عوامی مقامات پر کرتا ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ۔ پاکستان ، افغانستان اور جنوبی شام میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

پاکستان میں انتخابات کو سبوتاژکرنے اور عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کے لیے انتخابات سے قبل تین بڑے خونیں واقعات رونما ہوئے جس میں دو سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔کوئٹہ میں پولنگ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں پانچ اہلکاروں سمیت 32 افراد شہید اور84 زخمی ہوئے، خودکش حملہ آور پولنگ اسٹیشن کے اندر گھسنا چاہتا تھا لیکن اس کی کوشش ناکام ہوگئی اور اس نے باہر ہی خود کو اڑا لیا، دھماکے سے پولیس کی گاڑی سمیت پانچ گاڑیاں، تین موٹرسائیکلوں اور ایک رکشے کو شدید نقصان پہنچا ، حلقے پر ووٹنگ کا عمل کچھ وقت کے لیے روکنے کے بعد دوبارہ انتخابی عمل شروع کردیا گیا۔

یقیناً یہ عمل ملک دشمن عناصر کی جانب سے انتخابی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش تھا جسے بلوچستان کے غیور اور بہادر عوام نے اپنے عزم وحوصلے سے ناکام بنا دیا تھا ، پولنگ کا عمل رکا نہیں۔

دوسری جانب افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد سے منسلک صوبہ پکتیکا پر افغان طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔ جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی میں طالبان اور دہشت گرد گروپوں کے ایک ہمسایہ ملک میں موجود محفوظ ٹھکانوں کو ہدف بنایا جانا شامل ہے۔


افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں طالبان کی کارستانی ہے اورآئے دن وہی دھماکوں اور حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، لیکن افغانستان کے حکمران اس بات کا الزام پاکستان پر لگا کر اپنی ذمے داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔

زمینی حقائق کے مطابق سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے اندر جتنے بھی بم دھماکے ہوتے ہیں ان کے ڈانڈے افغانستان کی سرزمین سے ملتے ہیں ۔ بلوچستان میں جو شورش ہے اس کے پیچھے بھی افغانستان اور بھارت ہیں ۔افغانستان کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ پاکستان نے ان کی خاطر بہت کچھ کیا ہے ۔

افغانستان پر پاکستان کے احسانات ہیں پاکستان نے تقریباً چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہے۔ افغانستان کی محبت میں پاکستان نے خود کو تباہ کرلیا کیونکہ افغانستان نے طالبان کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے بھی فراہم کیے ۔عالمی امن کے لیے ایک اور خطرہ بھی ہے جسے داعش کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

جنوبی شام میں حکومتی دستوں کے زیر قبضہ ایک علاقے میں دہشت گرد تنظیم داعش کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بدھ کو متعدد خودکش بم دھماکوں میں 150افراد ہلاک ہوگئے، ان بم دھماکوں کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے جنوبی شام میں السویدا نام کے صوبے میں کئی دیگر مقامات پر مسلح حملے بھی شروع کر دیے۔

داعش ایک نیا عالمی دہشتگرد گروہ ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کررہا ہے ان میں پاکستان اور افغانستان بھی شامل ہیں۔ عالمی دہشتگردی کے خلاف اقوام عالم کو ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ان گروہوں کا خاتمہ ہوسکے بلکہ عوام کے جان ومال کا تحفظ بھی کیا جاسکے ۔
Load Next Story