امریکا چین سعودیہ اور افغان صدر کی نواز شریف کو مبارکباد منموہن نے دورہ بھارت کی دعوت دیدی

تاریخی انتقال اقتدارکے موقع پر پاکستان کیساتھ ہیں،اوباما،زبردست کامیابی مبارک ہو،منموہن

پاکستانی عوام نے عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کومسترد کردیا،کرزئی، کھوسوکی بھی مبارکباد. فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
امریکا، چین، سعودی عرب، ایران اور بھارت سمیت متعدد ملکوں کے سربراہوں نے نوازشریف کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔

واشنگٹن میں ایک بیان میں امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ امریکا نئی حکومت کے ساتھ برابری کی سطح پرکام کرنے کیلیے تیار ہے تاکہ پاکستان کے عوام کیلیے ایک مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل یقینی بنایا جاسکے۔ پاکستانی عوام انتخابی عمل کی تکمیل پر مبارکباد کے مستحق ہیں، امریکا پاکستان میں تاریخی پرامن، شفاف انداز میں سویلین حکومت کو انتقال اقتدار کے موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ جمہوری عمل میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انھوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود آپ نے انتخابی مہم میں حصہ لے کر اپنے جمہوری حق کا آزادانہ استعمال کیا۔

آپ نے جمہوریت کی حکمرانی پر اپنے پختہ یقین کا اظہار کیا ہے جو آنے والے برسوں میں امن اور خوشحالی لائے گا۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی ایک جمہوری حکومت سے اگلی حکومت کو پرامن انتقال اقتدار پر خوشی کا اظہار کرتے عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود عوام کے ڈٹے رہنے پر انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ چینی صدر نے فون کرکے امید ظاہر کی کہ نئی پاکستانی حکومت پاک چین دوستی کو مزید مضبوط بنائے گی۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے بھی نوازشریف کو ٹیلی فون کیا۔ نوازشریف کے پولیٹیکل سیکریٹری ڈاکٹر آصف کرمانی کے مطابق افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے نواز شریف کو فون کرکے مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔ ایک بیان میں حامد کرزئی نے تاریخ ساز پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر حکومت اور پاکستانی عوام کو مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے انتخابات میں سرگرمی سے حصہ لیکر اور عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کو مسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنا جمہوری سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔




انھوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت نہ صرف افغانستان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے کے طریقے تلاش کرے گی بلکہ دہشت گردی ختم کرنے کیلیے افغان انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کرے گی۔ سعودی عرب کے نائب وزیراعظم دوم شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے بھی نوازشریف کو فون کرکے کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نواز شریف سے کہا آپ اور آپ کی پارٹی کو زبردست کامیابی پر مبارکباد ہو، مجھے امید ہے کہ آپکے وزیراعظم بننے اور پاکستان میں (ن)لیگ کی حکومت کے قیام سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہونگے اور دونوں ملکوں میں مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ (ن)لیگ ہمیشہ سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتی ہے اور ہم بھی سمجھتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے ٹوئیٹر پر بھی پاکستانی عوام اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کو تشدد کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نئی حکومت کے ساتھ دونوں ملکوں کے تعلقات کا نیا راستہ بنانے کیلیے تیار ہے۔ انھوں نے نواز شریف کو بھارت آنے کی دعوت بھی دی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ نواز شریف کے وزیراعظم بننے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔ نواز شریف نے انتخابات کے دوران جو باتیں کہیں اس سے بھی ایسے ہی اشارے مل رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی مثبت پہل جاری رہے گی اور پھر بھارت بھی اس پر اپنا جواب دے سکتا ہے۔ بھارتی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے بھی انتخابات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں امید ظاہر کی ہے کہ متوقع وزیراعظم امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ کویت اور قطر کے امیر نے بھی نوازشریف کوفون کر کے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے فون پر نوازشریف سے کہا کہ پاکستانی عوام نے آپ کی جماعت پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے امید ہے آپ اس پر پورا اتریں گے اور ایران کے ساتھ پاکستان کی نئی حکومت کے دور میں تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ سعودی سفیر عبدالعزیز ابراہیم الغدیر نے ایک خط میں نواز شریف کو مبارکباد پیش کی۔ دریں اثنا نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو، مولانا فضل الرحمن، پروفیسر ساجد میر اور محمود خان اچکزئی بھی مبارکباد دینے والوں میں شامل تھے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے تہنیتی بیان میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد اس کی آئندہ بننے والی حکومت ایک امتحان بھی ہے ۔
Load Next Story