پیپلزپارٹی کا ٹھٹھہ کے انتخابی نتائج ماننے سے انکار

شیرازی گروپ کے ایما پر نتائج میں ہیرا پھیری کی، اویس مظفر، سسی پلیجو و دیگر.

دوبارہ گنتی کے لیے درخواست کی ہے، انصاف نہ کیا گیا تو عدالت جاؤں گی، سسی۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
پاکستان پیپلز پارٹی نے ٹھٹھہ سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شیرازی گروپ کے ایما پر الیکشن کمیشن کے عملے نے پیپلز پارٹی کے نتائج میں ہیرا پھیری کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ٹھٹھہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار وں اویس مظفر، سسی پلیجو، عبدالخالق سومرو، صادق میمن نے پیپلز پارٹی میڈیا سیل میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سسی پلیجو نے کہا کہ ان کے ووٹ کل ہفتے کی رات تک سب سے زیادہ تھے لیکن نتائج کو 24 گھنٹے کے تاخیر سے جاری کرکے میری اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا، اسی طرح پی ایس 86 پر پروین لغاری ، پی ایس 84 عبدالحمید سومرو کے ساتھ بھی دھاندلی کی گئی، انھوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن کمشین میں درخواست کی ہے۔


الیکشن کمیشن نے مجھے 14 مئی کو بلایا ہے، اگر انصاف نہیں کیا گیا تو میں کورٹ جاؤنگی میں وہ ہوں جس نے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم جیسے بندے کو تگنی کا ناچ نچایا تھا، شیرازی برادری کی غنڈہ گردی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں اویس مظفر نے کہا کہ ان پر انتخابات کے دن قاتلانہ حملہ کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی، انھوں نے کہا کہ ماضی کے انتخابات میں نے شہید بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کیا لیکن اس انتخابات میں غنڈہ گردی کا راج تھا اور ریٹرنگ افسر کے ماتحت عملہ شیرازی گروپ کے ساتھ مل ہوا تھا اس کی نشاندہی میں نے تین دن قبل کی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

انھوں نے کہا کہ شیرازی سیاسی لوگ نہیں کرمنل گینگ ہے، عبدالواحد سومرو نے کہا کہ ہم ٹھٹھہ میں الیکشن نہیں لڑ رہے تھے بلکہ حالت جنگ میں تھے، الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کیا تھا لیکن کسی نے دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے، پیپلز پارٹی ٹھٹہ سے نو منتخب رکن صو بائی اسمبلی صادق میمن نے کہا کہ ہمارے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں حاصل کردہ ووٹوں جتنے تھے لیکن شیرازیوں کو 40 فیصد ووٹ زیادہ ملے جو کہ دھاندلی کی پیداوار ہیں۔بعد ازاں انھوں نے اپنی گاڑی پر لگنے والی 50گولیوں کے نشانات بھی میڈیا کو دیکھائے۔
Load Next Story