ٹرمپ کی دھمکیاں کیا رنگ لائیں گی

ایرانی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تو اختتام ہم کریں گے۔

ایرانی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تو اختتام ہم کریں گے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل ہی اپنے بیانات اور پالیسیوں کے تحت متنازعہ شخصیت کی حیثیت اختیار کرگئے تھے، لیکن بعد ازاں ان کے یکے بعد دیگرے ناپسندیدہ فیصلوں اور شدت پسندانہ بیانات نے نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ دنیا بھر میں امریکا کے تشخص کو بھی نقصان پہنچایا۔

امریکا کی عالمی سطح پر اجارہ داری کی خواہش اور دیگر ریاستوں کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کوئی نئی بات نہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ان معاملات میں شدت آنے لگی ہے، دوسری جانب اسلامی ریاستوں کے ساتھ امریکی صدر کا ترش و تلخ رویہ اور دھمکی آمیز لہجہ ان کی شدت پسندی کو ظاہر کررہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ پابندیاں ایک امریکی پادری کی ترکی میں گرفتاری اور اس کے خلاف دہشت گردی کے الزامات لگائے جانے کی وجہ سے عائد کی جائیں گی۔ گزشتہ روز ترک حکام نے امریکی پادری اینڈریو کریگ برنسن کو ان کی گرفتاری کے ڈیڑھ سال بعد جیل سے گھر پر نظربند کردیا تھا۔ امریکی صدر اس اقدام کو بھی ناکافی خیال کرتے ہیں۔ پابندیوں کے اس اعلان سے امریکا اور ترکی کے خراب ہوتے ہوئے باہمی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا۔


امریکی صدر کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ میولت چا اوغلو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی دھمکیاں ترکی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ مبصرین حیران ہیں کہ عالمی طاقت کا درجہ رکھنے والی ریاست کا سب سے بڑا عہدیدار اتنے خام رویہ اور کج فہمی کا مظاہرہ کیونکر کرسکتا ہے؟ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے کسی اسلامی ریاست کو دھمکی دی ہو بلکہ اس سے پیشتر بھی وہ اسی طرز کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ آخر ٹرمپ کی یہ دھمکیاں کیا رنگ لائیں گی؟

اسی قسم کی ایک دوسری خبر میں آسٹریلوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اگلے ماہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔ بلاشبہ آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے افواہ قرار دیا، لیکن ایران کی القدس فورس نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ایسی کسی بھی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔

ایرانی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تو اختتام ہم کریں گے۔ امریکی صدر کو اپنے بیانات اور رویہ میں حد درجہ محتاط رہنا چاہیے، دنیا اب ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی، ڈونلڈ ٹرمپ مخاصمانہ رویہ اور دھمکی آمیز بیانات سے گریز کریں۔

 
Load Next Story