امیر بائی کرناٹکی

رئیس فاطمہ  اتوار 29 جولائ 2018
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

زہرہ بائی انبالے والی اور زہرہ بائی آگرے والی پر لکھے گئے کالم کے جواب میں بہت سی ای میل موصول ہوئیں۔ جن میں پسندیدگی کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز دی گئی تھی کہ تقسیم سے پہلے برٹش انڈیا کے دور میں ہندی فلمی دنیا میں جو نامورگلوکار اورگلوکارائیں گزری ہیں ان پر بھی کچھ لکھا جائے۔

آج کی نئی نسل ’’ری مکس‘‘ گانے تو سنتی ہے لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ یہ گیت کن لوگوں نے گائے تھے۔ ان کے شاعر کون تھے؟ اور ان کے موسیقار کون تھے۔ جو ایسے گیت کمپوزکرگئے جو آج بھی امر ہیں، موسیقی کے شیدائی آج بھی ان گیتوں کو سنتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔

اولین دورکی فلموں کی موسیقی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سارا کام میرٹ پر ہوتا تھا۔ کسی موسیقار کوکوئی آواز اچھی لگی اس نے فوراً رابطہ کیا۔ بہتر سے بہتر گوایا، کیا مرد کیا خواتین سب کے سب جن کا تعلق فلموں کے ابتدائی دور سے تھا بڑے منجھے ہوئے آرٹسٹ تھے۔ ان سب کی آوازیں نہایت صاف اور ایک ایک لفظ واضح سنائی دیتا تھا جب کہ آج کی موسیقی سنیے تو الفاظ سمجھ میں ہی نہیں آتے۔ بے پناہ ساز شور اور ہنگامہ، ایک ایک درجن وائلن، گٹار اور نہ جانے کیا کیا، سازوں کا بے ہنگم شور جس میں آوازکہیں دب جاتی ہے یا دبا دی جاتی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ پرانے گانوں میں ساز بہت کم ہوتے تھے اور آوازکا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا اور آج بھی ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ایک اور فرق جو پہلے اور بعد کے گلوکاروں میں تھا وہ یہ کہ اداکار اور اداکارائیں فلم میں رول بھی کرتی تھیں اور اپنے گانے خود ہی گاتی تھیں۔اس میں سرفہرست، خورشید امیر بائی کرناٹکی، اوما دہلوی (ٹن ٹن) ثریا، نور جہاں اور منور سلطانہ تھیں۔ البتہ شمشاد بیگم اور مبارک بیگم صرف پلے بیک سنگر تھیں۔

مردوں میں سہگل، کرن دیوان، سریندر، سی ایچ آتما کے علاوہ اور بھی بہت سے گائیک تھے جن کے نام اس وقت حافظے میں محفوظ نہیں۔ البتہ مردوں میں اداکاری اور گلوکاری کے حوالے سے جو لازوال شہرت کندن لال سہگل کو ملی وہ کسی دوسرے گلوکارکے حصے میں نہ آسکی۔ ان کا ہر گیت لازوال ہے۔ کردار کو خود پر طاری کرلیتے تھے، ایکٹنگ کرتے وقت اور گاتے وقت کردار ان پر حاوی رہتا تھا۔

چلیے آج امیر بائی کرناٹکی سے آپ کو ملواتے ہیں۔ ان کا جنم بیجا پور میں 1906ء میں ہوا اور 3 مارچ 1965ء کو انتقال ہوا۔ ہندی سینما کے اوائل کی گلوکارہ، اداکارہ، خوش شکل، خوش قسمت، متوسط گھرانے سے تعلق تھا۔ یہ پانچ بہنیں تھیں لیکن امیر بائی اور ان کی بڑی بہن گوہر بائی قسمت کی دھنی نکلیں۔ دونوں کو عزت اور شہرت دونوں ملیں۔ جہاں تک گائیکی کا تعلق ہے دونوں کی آوازیں صاف اور واضح تھیں، ہلکے سروں اور اونچے سروں دونوں میں گاتی تھیں، سازوآواز کا تال میل اس وقت بڑی اہمیت رکھتا تھا ۔ آج کی طرح یہ نہیں کہ خراب آواز اور خراب گائیکی کو سازوں کے بے ہنگم شور میں چھپادیا جائے۔

امیر بائی پندرہ برس کی عمر میں میٹرک کرکے بمبئی (اب ممبئی) شفٹ ہوگئیں۔ امیر بائی کو اصل شہرت فلم ’’قسمت‘‘ سے ملی جو 1943ء میں بنی تھی۔ جس طرح 1944ء میں بننے والی فلم ’’رتن‘‘ سے زہرہ بائی انبالے والی کو راتوں رات شہرت ملی اسی طرح امیر بائی کو فلم ’’قسمت‘‘ سے ان کی مقبولیت اور شہرت میں موسیقار اورکمپوزر انل بسواس کا بڑا ہاتھ تھا۔ ان کے کیریئر میں 1947ء بہت اہمیت رکھتا ہے۔ امیر بائی نے وہاب پکچر کے تحت بننے والی فلم ’’شہناز‘‘ کا میوزک بھی دیا۔ فلموں میں اداکاری بھی کی۔

اپنے وقت کی معروف فلمی میگزین ’’فلم انڈیا‘‘ نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ بیسویں صدی کے اوائل میں جب عام پلے بیک سنگر ایک گانے کا معاوضہ 500 روپے لیتے تھے اس وقت امیر بائی ایک گانے کا معاوضہ 1000 روپے لیتی تھیں۔ جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی۔ امیر بائی کی نجی زندگی پرسکون نہ تھی۔ ان کی پہلی شادی اداکار ہمالیہ والا سے ہوئی جو عموماً فلموں میں ولن کے رول کرتے تھے۔

لیکن بیوی کے ساتھ بھی وہ ولن کا کردار نبھائیںگے، ایسا تو امیر بائی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔ ان کی شادی شدہ زندگی میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتے رہے، ہمالیہ والا انھیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور باقاعدہ پیٹتے بھی تھے۔ امیر بائی سے پیسے بھی اینٹھتے تھے اور مارپیٹ بھی کرتے تھے اور اسی کے پیسے پر عیش بھی کرتے تھے۔ تنگ آکر امیر بائی نے طلاق لینا چاہی تو ہمالیہ والا نے بدلے میں کارکی ڈیمانڈ کردی۔ مشترکہ دوستوں نے زور ڈال کر اور بیچ میں پڑکر امیر بائی کو ہمالیہ والا سے طلاق دلوائی لیکن امیر بائی کو رقم کے ساتھ ساتھ اپنی کار بھی ہمالیہ والا کو دینی پڑی۔ بعد میں ہمالیہ والا پاکستان آگئے اور پاکستانی فلموں میں کام کرکے خوب نام اور پیسہ کمایا۔ امیر بائی کی دوسری شادی بدری کانچ والا سے ہوئی جو بہت مہربان اور ہمدرد شوہر ثابت ہوئے۔ امیر بائی نے یوں تو بے شمار گیت گاکر شہرت کمائی جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

(1) او جانے والے بالموا لوٹ کے آ۔ (موسیقار نوشاد اور فلم تھی ’’رتن‘‘)

(2)دھیرے دھیرے آرے بادل۔ (فلم قسمت)

(3)گورے گورے اور بانکے چھورے کبھی میری گلی آیا کرو۔

(4) مار کٹاری مر جانا کسی سے دل نہ لگانا۔

(5) اب تیرے سوا کون مرا کرشن کنیہا۔

(6)گھر گھر میں دیوالی ہے میرے گھر میں اندھیرا۔

(7)چندا دیس پیا کے جا۔

(8)دنیا نے ہمیں دو دن کے لیے

(9)آہیں نہ بھریں شکوے نہ کیے کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا۔

(10)کوئی روکے اسے اور یہ کہہ دے کوئی اپنی نشانی دیتا جا۔

1948ء میں جب لتا کی آواز ایک ستارے کی طرح چمکی تو امیر بائی نے اداکاری پر زیادہ توجہ دی۔ اپنے کیریئرکے آخری دنوں میں انھوں نے کیریکٹر رول کیے۔ فلم زینت کی قوالی نے بھی انھیں بریک دیا۔ لازوال گیتوں کی گائیکہ امیر بائی کرناٹکی کا نام موسیقی کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔