کنٹینر اسکینڈل مزید 3 کسٹم افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری
2 کسٹمزافسران اور176 کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس پر فرد جرم عائد کر دی گئی، نیب.
2 کسٹمزافسران اور176 کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس پر فرد جرم عائد کر دی گئی، نیب۔ فوٹو: فائل
افغان ٹرانزٹ ٹریڈوایساف کنٹینرزاسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں محکمہ کسٹمز کے مزید 3افسران کے گرفتاری وارنٹ، 2 کسٹمز افسران سمیت 176 کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، یہ احکام قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ نیب نے 30اپریل2013کومحکمہ کسٹمزکے پرنسپل اپریزر سردارامین فاروقی کوگرفتارکرکے 14دن کا ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔ واضح رہے مذکورہ کسٹمزافسرکوقومی احتساب بیوروکی جانب سے گزشتہ سال بھی گرفتارکیاگیاتھالیکن بعد ازاں انہیںضمانت پر رہاکردیاگیاتھا۔ نیب سندھ کی جانب سے محکمہ کسٹمزکوارسال کردہ خط نمبر SOC/ISAF/DD-032/NAB Sindh/201/K-3180 کے مطابق محکمہ کسٹمزکے پرنسپل اپریزرزمسعود حسن، ریاض الرحمن،سیدمحمدوسیم کاظمی اورسردارامین فاروقی پر فردجرم عائد کرتے ہوئے مذکورہ افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں نیب سندھ کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ وایساف کنٹینرزاسکینڈل میںکراچی سے تعلق رکھنے والے مزید 176 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس پر فردجرم عائد کردی گئی جبکہ اس سے قبل نیب سندھ کی جانب سے 4 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس امتیاز احمد، دل نواز احمد، عبدالرؤف بیگ، فقی وسیم جبکہ 18 بارڈرایجنٹس عبدالرشید،طارق خان، شیراز گلبہار، حاجی تورگل، ریاض الدین نظامی، سہیل نعمان، شمس الرحمن، محمد حسین، ایازحسین، ظہیرخان، اعجاز الحسن، محمدشریف، عابد حسین، جمال الدین، میرام خان، لال جان، ناصرخان اور2 کسٹمزافسران پر فردجرم عائد کی گئی تھی۔ نیب نے اپنی رپورٹ میںکہاہے کہ 4 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس امتیاز احمد، دل نواز احمد، عبدالرؤف بیگ، فقی وسیم نے 18 بارڈر ایجنٹس کی ایما پر 222 اے ٹی ٹی کنٹینرزکراچی سے کلیئرکرائے لیکن یہ کنٹینرز افغانستان نہیں پہنچ سکے جس کے باعث قومی خزانہ کو 53کروڑ28لاکھ مالیت کا نقصان ہوا۔
رپورٹ میں کسٹمزافسران،کلیئرنگ ایجنٹس اورباڈرایجنٹس کوافغان ٹرانزٹ ٹریڈاسکینڈل کا ذمے دارٹھہرایاگیا۔ نیب نے اپنی رپوٹ میں چمن اور طور خم باڈرپرتعینات کسٹمزحکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے7922 کراس باڈر سرٹیفکیٹس کوجعلی قراردیتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کنٹینرزچمن اورطورخم بارڈر سے 8دن میں واپس کراچی کی بندرگاہ پہنچے۔ رپورٹ میں ٹریکر کمپنی TPL کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ ٹرانزٹ ٹریڈکنسائنمنٹس کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں کراچی سے طورخم ساڑھے 5دن اورکراچی سے چمن ساڑھے 4دن میں پہنچتی ہے جسے نیب نے بنیادبناتے ہوئے ان تمام کنسائنمنٹس کو شامل تفتیش کرلیا جوکنٹینرزکراچی سے جانے کے بعد 8دن میں واپس کراچی پہنچے تھے۔
اس ضمن میںمتاثرہ کلیئرنگ ایجنٹس کا کہناہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈمعاہدے کے تحت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے کلیئرنگ ایجنٹس صرف دستاویزی کارروائی مکمل کرکے کنسائنمنٹس کو ایک قومی لاجسٹک کمپنی کے حوالے کر دیتے تھے جس کے بعد متعلقہ کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ کی ذمے درای ختم ہوجاتی ہے تاہم کنسائمنٹس کو چمن یاطورخم باڈرتک باحفاظت پہنچانامتعلقہ لاجسٹک کمپنی یا اس کے سب کنٹریکٹرکی ذمے داری میں شامل ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت دوران ترسیل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس چوری ہونے کی صورت میں نقصان کا ازالہ ٹرانسپورٹرکرے گا۔ متاثرہ کلیئرنگ ایجنٹس کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے کلیئرنگ ایجنٹس پر فردجرم عائدکردی گئی ہے لیکن ان گاڑیوں کے مالکان سے کوئی تفتیش نہیںکی جارہی جو گاڑیاں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس کی ترسیل میں استعمال ہوئی ہیںجبکہ ان ٹرانسپورٹرز سے تفتیش کی جائے تودرست سمت کا تعین کیاجاسکتاہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نیب نے 30اپریل2013کومحکمہ کسٹمزکے پرنسپل اپریزر سردارامین فاروقی کوگرفتارکرکے 14دن کا ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔ واضح رہے مذکورہ کسٹمزافسرکوقومی احتساب بیوروکی جانب سے گزشتہ سال بھی گرفتارکیاگیاتھالیکن بعد ازاں انہیںضمانت پر رہاکردیاگیاتھا۔ نیب سندھ کی جانب سے محکمہ کسٹمزکوارسال کردہ خط نمبر SOC/ISAF/DD-032/NAB Sindh/201/K-3180 کے مطابق محکمہ کسٹمزکے پرنسپل اپریزرزمسعود حسن، ریاض الرحمن،سیدمحمدوسیم کاظمی اورسردارامین فاروقی پر فردجرم عائد کرتے ہوئے مذکورہ افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں نیب سندھ کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ وایساف کنٹینرزاسکینڈل میںکراچی سے تعلق رکھنے والے مزید 176 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس پر فردجرم عائد کردی گئی جبکہ اس سے قبل نیب سندھ کی جانب سے 4 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس امتیاز احمد، دل نواز احمد، عبدالرؤف بیگ، فقی وسیم جبکہ 18 بارڈرایجنٹس عبدالرشید،طارق خان، شیراز گلبہار، حاجی تورگل، ریاض الدین نظامی، سہیل نعمان، شمس الرحمن، محمد حسین، ایازحسین، ظہیرخان، اعجاز الحسن، محمدشریف، عابد حسین، جمال الدین، میرام خان، لال جان، ناصرخان اور2 کسٹمزافسران پر فردجرم عائد کی گئی تھی۔ نیب نے اپنی رپورٹ میںکہاہے کہ 4 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس امتیاز احمد، دل نواز احمد، عبدالرؤف بیگ، فقی وسیم نے 18 بارڈر ایجنٹس کی ایما پر 222 اے ٹی ٹی کنٹینرزکراچی سے کلیئرکرائے لیکن یہ کنٹینرز افغانستان نہیں پہنچ سکے جس کے باعث قومی خزانہ کو 53کروڑ28لاکھ مالیت کا نقصان ہوا۔
رپورٹ میں کسٹمزافسران،کلیئرنگ ایجنٹس اورباڈرایجنٹس کوافغان ٹرانزٹ ٹریڈاسکینڈل کا ذمے دارٹھہرایاگیا۔ نیب نے اپنی رپوٹ میں چمن اور طور خم باڈرپرتعینات کسٹمزحکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے7922 کراس باڈر سرٹیفکیٹس کوجعلی قراردیتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کنٹینرزچمن اورطورخم بارڈر سے 8دن میں واپس کراچی کی بندرگاہ پہنچے۔ رپورٹ میں ٹریکر کمپنی TPL کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ ٹرانزٹ ٹریڈکنسائنمنٹس کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں کراچی سے طورخم ساڑھے 5دن اورکراچی سے چمن ساڑھے 4دن میں پہنچتی ہے جسے نیب نے بنیادبناتے ہوئے ان تمام کنسائنمنٹس کو شامل تفتیش کرلیا جوکنٹینرزکراچی سے جانے کے بعد 8دن میں واپس کراچی پہنچے تھے۔
اس ضمن میںمتاثرہ کلیئرنگ ایجنٹس کا کہناہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈمعاہدے کے تحت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے کلیئرنگ ایجنٹس صرف دستاویزی کارروائی مکمل کرکے کنسائنمنٹس کو ایک قومی لاجسٹک کمپنی کے حوالے کر دیتے تھے جس کے بعد متعلقہ کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ کی ذمے درای ختم ہوجاتی ہے تاہم کنسائمنٹس کو چمن یاطورخم باڈرتک باحفاظت پہنچانامتعلقہ لاجسٹک کمپنی یا اس کے سب کنٹریکٹرکی ذمے داری میں شامل ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت دوران ترسیل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس چوری ہونے کی صورت میں نقصان کا ازالہ ٹرانسپورٹرکرے گا۔ متاثرہ کلیئرنگ ایجنٹس کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے کلیئرنگ ایجنٹس پر فردجرم عائدکردی گئی ہے لیکن ان گاڑیوں کے مالکان سے کوئی تفتیش نہیںکی جارہی جو گاڑیاں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس کی ترسیل میں استعمال ہوئی ہیںجبکہ ان ٹرانسپورٹرز سے تفتیش کی جائے تودرست سمت کا تعین کیاجاسکتاہے۔