قومی کرکٹرز کے چپکے سے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط

سب سے پہلے مصباح نے سائن کیے، ماہانہ تنخواہوں میں15فیصد اور ٹیسٹ میچ فیس میں 50ہزار روپے اضافہ ہوگیا

پلیئرز کو ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہونے سے بچانے کیلیے فیس50ہزار روپے بڑھا دی گئی،اے کیٹیگری والے فی میچ4لاکھ35ہزاربینک اکائونٹ میں منتقل کرائیں گے فوٹو: پی سی بی / فائل

دورہ برطانیہ پر روانگی سے قبل قومی کرکٹرز سے خاموشی سے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرا دیے گئے۔

حیران کن طور پر کئی صفحات پر مشتمل معاہدے کا صرف ایک صفحہ ہی پیش کیا گیا، حسب معمول مالی فوائد کا جاننے کے بعد پلیئرز نے بھی دیگر صفحات دیکھنے پر کوئی اصرارنہیں کیا، سب سے پہلے کپتان مصباح الحق نے سائن کیے، انھوں نے اپنے نائب محمد حفیظ کے ساتھ مل کر ماہانہ تنخواہوں میں15فیصد اور ٹیسٹ میچ فیس میں 50ہزار روپے اضافہ کرا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ کا مسئلہ آخرکار حل ہو ہی گیا، عموماً پہلے میڈیا کو فہرست جاری کر کے بعد میں کھلاڑیوں سے دستخط کرائے جاتے ہیں مگر اس بار الٹ ہوا، تاحال ان خوش نصیب پلیئرز کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جن کے ساتھ بورڈ نے معاہدہ کیا۔




تاہم ذرائع نے انکشاف کیا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب دورئہ برطانیہ پر روانگی سے قبل تمام کھلاڑیوں سے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرا لیے گئے، عموماً یہ معاہدہ کئی صفحات پر مشتمل اور سب ہی پر سائن کرنا لازمی ہوتا ہے تاہم اسکواڈ کو صرف ایک صفحہ ہی دیا گیا جس پر یہ بھی لکھا تھا کہ '' میں اچھی طرح پڑھنے کے بعد کنٹریکٹ پر دستخط کر رہا ہوں''۔ ذرائع نے بتایا کہ سب سے پہلے کپتان مصباح الحق نے سائن کیے اس کے بعد دیگر تمام پلیئرز نے پیروی کی۔

واضح رہے کہ بورڈ کسی اضافے کے موڈ میں نہ تھا مگر مصباح اور محمد حفیظ کے قائل کرنے پر ماہانہ تنخواہوں میں 15فیصد اور ٹیسٹ میچ فیس میں 50ہزار روپے بڑھا دیے، کھلاڑیوں کے ناموں کی لسٹ منگل کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ دریں اثنا چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے پلیئرز کو انگلینڈ میں کم گھومنے پھرنے کی ہدایت کر دی، ٹیم سے ملاقات کے موقع پر انھوں نے کہا کہ جہاں بھی جائیں مینجمنٹ کو پہلے آگاہ کریں، کوشش کریں کہ گروپ کی صورت میں جائیں، ہم نے مینجمنٹ کو بھی ہدایت کر دی کہ وہ بس کا انتظام کر کے پلیئرز کو تفریحی مواقع فراہم کرے، انھوں نے کہا کہ گذشتہ دورئہ انگلینڈ میں کئی ناخوشگوار واقعات پیش آئے جن سے ملک کی بدنامی ہوئی، اس بار ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔
Load Next Story