وکٹیں حاصل کرنا میرے لیے نشے کی مانند ہے اینڈرسن
طویل عرصے تک انگلینڈکی نمائندگی پر خودکوبہت خوش قسمت سمجھتا ہوں،پیسر.
طویل عرصے تک انگلینڈکی نمائندگی پر خودکوبہت خوش قسمت سمجھتا ہوں،پیسر۔ فوٹو: فائل
انگلش پیسر جیمز اینڈرسن نے کہا ہے کہ میں طویل عرصے تک ملک کیلیے کرکٹ کھیلنے اور بڑی تعداد میں وکٹیں لینے پر خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اگر مجھے کھیلنے سے روکنا ہے تو میرے ہاتھ سے گیند چھین کر مجھے کھیل سے دور کرنا ہوگا۔ اینڈرسن نے کہا کہ کہ مجھے اپنے کارناموں پر فخر ہے،اگر میں298 ٹیسٹ وکٹوں کے ساتھ کھیل سے جدا ہوجاؤں تو مجھے اس پرخوشی ہوگی، لیکن میں اس وقت تک کھیلنا چاہتا ہوں جب تک گیند کرنے کی طاقت ہے، مجھے کرکٹ سے محبت ہے اور جب بھی میں وکٹیں حاصل کروں توخوشی ہوتی ہے، یہ میرے لیے ایک نشہ ہے۔اینڈرسن نے مزید کہا کہ جب آپ مجھے بے وقوفانہ طریقے سے جشن مناتا دیکھیں تو اس کی وجہ ٹیم کیلیے وکٹ لینے اور میچ جیتنے کی کوشش ہوتی ہے، بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کیلیے سخت محنت کرنا ہوتی ہے اور جب میں ایسا کرلوں تو مجھے سکون ملتا ہے، اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنا ایک مسئلہ ہے لیکن کھلاڑی اس وقت ریٹائر ہوتے ہیں جب ان کی گیم سے محبت ختم ہوجاتی ہے، مجھے ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔
اینڈرسن نے کہاکہ انجریزکی وجہ سے فارم متاثر ہوتی ہے، مجھے یقین نہیں کہ میں کب تک کھیلتا رہوں گا لیکن اگر میں فٹ رہ سکا اور بولنگ کرتا رہا تو40 سال تک کرکٹ سے منسلک رہوں گا، میں فیلڈنگ میں ماہر اور جب ضرورت ہو تو بیٹنگ بھی کرلیتا ہوں۔ اینڈرسن نے کہاکہ 300 وکٹوں کا حصول معنی رکھتا ہے،ای ین بوتھم سے آگے نکلنے کے لیے مجھے محنت کرنا ہوگی ۔ یاد رہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین دو ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ16 سے20مئی تک لارڈز میں کھیلا جارہا ہے، دوسرا ٹیسٹ ہیڈنگلے پر 24 سے 30مئی تک کھیلا جائیگا۔ اینڈرسن انگلش کرکٹ کی تاریخ میں وکٹوں کی ٹرپل سنچری بنانے والے چوتھے بولر بننے کے قریب ہیں،1984 میں بوتھم کی جانب سے اس کارنامے کے30 سال بعد یہ پہلا موقع ہوگا۔ فریڈ ٹرومین307، باب ولس325 اور سر ای ین بوتھم 383 شکار کرچکے ہیں۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اگر مجھے کھیلنے سے روکنا ہے تو میرے ہاتھ سے گیند چھین کر مجھے کھیل سے دور کرنا ہوگا۔ اینڈرسن نے کہا کہ کہ مجھے اپنے کارناموں پر فخر ہے،اگر میں298 ٹیسٹ وکٹوں کے ساتھ کھیل سے جدا ہوجاؤں تو مجھے اس پرخوشی ہوگی، لیکن میں اس وقت تک کھیلنا چاہتا ہوں جب تک گیند کرنے کی طاقت ہے، مجھے کرکٹ سے محبت ہے اور جب بھی میں وکٹیں حاصل کروں توخوشی ہوتی ہے، یہ میرے لیے ایک نشہ ہے۔اینڈرسن نے مزید کہا کہ جب آپ مجھے بے وقوفانہ طریقے سے جشن مناتا دیکھیں تو اس کی وجہ ٹیم کیلیے وکٹ لینے اور میچ جیتنے کی کوشش ہوتی ہے، بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کیلیے سخت محنت کرنا ہوتی ہے اور جب میں ایسا کرلوں تو مجھے سکون ملتا ہے، اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنا ایک مسئلہ ہے لیکن کھلاڑی اس وقت ریٹائر ہوتے ہیں جب ان کی گیم سے محبت ختم ہوجاتی ہے، مجھے ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔
اینڈرسن نے کہاکہ انجریزکی وجہ سے فارم متاثر ہوتی ہے، مجھے یقین نہیں کہ میں کب تک کھیلتا رہوں گا لیکن اگر میں فٹ رہ سکا اور بولنگ کرتا رہا تو40 سال تک کرکٹ سے منسلک رہوں گا، میں فیلڈنگ میں ماہر اور جب ضرورت ہو تو بیٹنگ بھی کرلیتا ہوں۔ اینڈرسن نے کہاکہ 300 وکٹوں کا حصول معنی رکھتا ہے،ای ین بوتھم سے آگے نکلنے کے لیے مجھے محنت کرنا ہوگی ۔ یاد رہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین دو ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ16 سے20مئی تک لارڈز میں کھیلا جارہا ہے، دوسرا ٹیسٹ ہیڈنگلے پر 24 سے 30مئی تک کھیلا جائیگا۔ اینڈرسن انگلش کرکٹ کی تاریخ میں وکٹوں کی ٹرپل سنچری بنانے والے چوتھے بولر بننے کے قریب ہیں،1984 میں بوتھم کی جانب سے اس کارنامے کے30 سال بعد یہ پہلا موقع ہوگا۔ فریڈ ٹرومین307، باب ولس325 اور سر ای ین بوتھم 383 شکار کرچکے ہیں۔