مسترد ووٹوں کا تشویش ناک معاملہ
حقیقت میں یہ اعدادوشمار سوالیہ نشان اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
حقیقت میں یہ اعدادوشمار سوالیہ نشان اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ فوٹو : فائل
ملکی انتخابات کا مرحلہ بادی النظر میں اگرچہ مکمل ہوچکا ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے تمام عبوری نتائج بھی اپنی ویب سائٹ پر منتقل کردیے ہیں تاہم نتائج کے اعلان میں تاخیر سے پیداشدہ کنفیوژن کے بعد اب مسترد شدہ ووٹوں کے تعجب انگیز اور حیران کن تناسب کی اطلاعات نے مزید ارتعاش پیدا کردیا ہے۔
ایک موقر انگریزی اخبار کی جائزہ رپورٹ کے مطابق متعدد حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ فاتح امیدواروں کے وکٹری مارجن سے زیادہ ہیں، یوں فاتح امیدواروں کے ووٹوں کی سبقت مسترد ووٹوں سے کم تر ہے، دوسری طرف بعض ہائی پروفائل امیدواروں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل بھی شدت کے ساتھ جاری ہے اور کئی امیدوارں کے نتائج ہار جیت کے دلچسپ اختتام پر منتج ہوئے ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جہاں سیاسی جماعتیں اوران کے نامزد امیدوار ابھی تک نتائج پر اطمینان سے محروم ہیں وہاں ووٹرز بھی ووٹ کی عزت کے مسئلہ پر عجیب تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں، ادھر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں فارم 45تنازع کا صائب حل یہ نکالا ہے کہ اسے ملک بھر کے عوام کے سامنے رکھا جائے گا اور83 ہزار سے زاید فارم 45 الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن نے سندھ الیکشن کمیشن حکام کو کراچی کے علاقے قیوم آباد اے ایریا میں کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپر برآمد ہونے کی شکایت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں تفصیلی رپورٹ جلد الیکشن کمیشن کو ارسال کی جائے، بیلٹ پیپرز ملنے پر ایم کیو ایم نے اظہار تشویش کیا ہے۔
بیان کے مطابق بیلٹ پیپرز پر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) کے نشانات پر مہریں لگی ہوئی تھیں۔ حلقہ پی ایس97 سے پی ٹی آئی کے امیدوار راجہ اظہر10ہزار 473 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔
سیاسی حلقوں کی جانب سے مسترد شدہ ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد پر برہمی فطری ہے کیونکہ ملک بھر میں کئی انتخابی حلقوں میں کانٹے کا مقابلہ رہا اور فاتح امیدوار کہیں چند سو ووٹوں سے جب کہ بعض حلقوں میں چند ووٹوں یعنی انتہائی کم مارجن سے جیتے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں مسترد ووٹوں کا تناسب 5.66 فیصد رہا، جب کہ کے پی میں3.35 فیصد ، پنجاب میں2.67 فیصد اور سندھ میں 3.87 فیصد دکھایا گیا، عبوری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے30حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ حیران حد تک بہت زیادہ رہے، اسی جائزہ رپوٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کاسٹ کیے گئے 5 کروڑ 43 لاکھ 19 ہزار922 ووٹوں کے(3.06 فیصد) کے تناسب سے 16 لاکھ63ہزار 039 ووٹ مسترد کیے گئے۔ حقیقت میں یہ اعدادوشمار سوالیہ نشان اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
ایک موقر انگریزی اخبار کی جائزہ رپورٹ کے مطابق متعدد حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ فاتح امیدواروں کے وکٹری مارجن سے زیادہ ہیں، یوں فاتح امیدواروں کے ووٹوں کی سبقت مسترد ووٹوں سے کم تر ہے، دوسری طرف بعض ہائی پروفائل امیدواروں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل بھی شدت کے ساتھ جاری ہے اور کئی امیدوارں کے نتائج ہار جیت کے دلچسپ اختتام پر منتج ہوئے ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جہاں سیاسی جماعتیں اوران کے نامزد امیدوار ابھی تک نتائج پر اطمینان سے محروم ہیں وہاں ووٹرز بھی ووٹ کی عزت کے مسئلہ پر عجیب تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں، ادھر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں فارم 45تنازع کا صائب حل یہ نکالا ہے کہ اسے ملک بھر کے عوام کے سامنے رکھا جائے گا اور83 ہزار سے زاید فارم 45 الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن نے سندھ الیکشن کمیشن حکام کو کراچی کے علاقے قیوم آباد اے ایریا میں کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپر برآمد ہونے کی شکایت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں تفصیلی رپورٹ جلد الیکشن کمیشن کو ارسال کی جائے، بیلٹ پیپرز ملنے پر ایم کیو ایم نے اظہار تشویش کیا ہے۔
بیان کے مطابق بیلٹ پیپرز پر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) کے نشانات پر مہریں لگی ہوئی تھیں۔ حلقہ پی ایس97 سے پی ٹی آئی کے امیدوار راجہ اظہر10ہزار 473 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔
سیاسی حلقوں کی جانب سے مسترد شدہ ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد پر برہمی فطری ہے کیونکہ ملک بھر میں کئی انتخابی حلقوں میں کانٹے کا مقابلہ رہا اور فاتح امیدوار کہیں چند سو ووٹوں سے جب کہ بعض حلقوں میں چند ووٹوں یعنی انتہائی کم مارجن سے جیتے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں مسترد ووٹوں کا تناسب 5.66 فیصد رہا، جب کہ کے پی میں3.35 فیصد ، پنجاب میں2.67 فیصد اور سندھ میں 3.87 فیصد دکھایا گیا، عبوری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے30حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ حیران حد تک بہت زیادہ رہے، اسی جائزہ رپوٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کاسٹ کیے گئے 5 کروڑ 43 لاکھ 19 ہزار922 ووٹوں کے(3.06 فیصد) کے تناسب سے 16 لاکھ63ہزار 039 ووٹ مسترد کیے گئے۔ حقیقت میں یہ اعدادوشمار سوالیہ نشان اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔