امریکا اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی

دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سردمہری کا مظاہرہ 1974 میں قبرص جنگ کے دوران دیکھا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سردمہری کا مظاہرہ 1974 میں قبرص جنگ کے دوران دیکھا گیا۔ فوٹو: فائل

جدید جمہوریہ ترکی اور امریکا کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی تشویشناک حد تک بڑھتی چلی جارہی ہے، اور دونوں جانب سے جاری ہونے والے بیانات معاملے کی سنگینی کو ظاہر کررہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے ترک حکومت کا عزم متزلزل نہیں ہوگا۔گزشتہ دنوں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ترکی امریکی پادری کو رہا نہیں کرتا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس بیان پر طیب اردوان نے کہا کہ امریکا پابندیوں کی دھمکی سے ترکی کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، اگر ٹرمپ نے اپنا موقف نہ بدلا تو وہ ایک پرخلوص اور مضبوط پارٹنر ملک کو کھو بھی سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پادری اینڈریو برونسن گزشتہ 2 برسوں سے ترکی میں قید ہیں۔


دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سردمہری کا مظاہرہ 1974 میں قبرص جنگ کے دوران دیکھا گیا، جب امریکا نے قبرص کے ایک حصہ پر قبضہ کیے جانے کے بعد ترکی کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی عائد کردی، جو طویل عرصہ جاری رہی، لیکن دو برس قبل ترکی میں فوجی بغاوت اور اس میں امریکا کے ملوث ہونے کی خبروں اور بغاوت کے مرکزی کردار فتح اﷲ گولن کے امریکی پناہ میں جانے کے بعد ترکی امریکا تعلقات میں مخاصمت کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کی شدت ان دنوں عروج پر ہے۔

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد ترک حکومت کی جانب سے مسیحی پادری اینڈریو برونسن کو حراست میں لینے اور 21 ماہ کی گھر میں نظربندی کی اجازت دیے جانے کے بعد انقرہ پر امریکی دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا۔

صدر ٹرمپ کے علاوہ امریکا کے نائب صدر مائیک پنس نے بھی ترکی کے صدر کو مذہبی آزادیوں سے متعلق ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ پادری کو رہا کریں ورنہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

ترک وزیرخارجہ اوغلو نے امریکی صدر کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا کہ امریکی دھمکیاں ترکی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ امریکا اور ترکی نیٹو کے دو اہم اتحادی ممالک ہیں، ان ریاستوں کے مابین بڑھتی چپقلش تشویشناک ہے، نیٹو کے دیگر ارکان کو امریکا اور ترکی کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
Load Next Story