سرکاری عملے کی مکان خالی کرانے کی کوشش پاکستان کوارٹرز کے مکینوں کا احتجاج
عدالت جوفیصلہ سنائے گی اس پرمن و عن عمل کریں گے ،مظاہرین
سرکاری نہیں بلکہ مکان متروکہ وقف املاک کی زمین پرتعمیر کیے گئے تھے ،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے افسران نے عدالت میں حقیقت چھپائی ہے،مکین۔ فوٹو:فائل
پاکستان کوارٹرزکے مکینوں کی جانب سے احتجاج کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا عملہ اور پولیس پاکستان کوارٹرز خالی کرائے بغیر واپس چلی گئی۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اسلام آباد کا عملہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ گارڈن ویسٹ نشترروڈ سے متصل پاکستان کوارٹرزمیں سرکاری مکانات خالی کرانے پہنچا توعلاقہ مکین گھروں سے باہرنکل آئے اوراحتجاج شروع کردیا،احتجاج میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔
مکینوں نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عملے کو بتایا کہ 10 روز قبل ان کی چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات ہوئی تھی اورچیف جسٹس نے انھیں تمام قانونی دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے، منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وفاقی کوارٹرزخالی کرانے کے حوالے سے کیس کی سماعت مقرر ہے اوروہ منگل کو عدالت کے رو برو پیش ہوں گے اور تمام دستاویزچیف جسٹس کو پیش کریں گے جس کے بعد انھیں جو بھی حکم وہ اس پرمن و عن عمل کریں گے۔
عدالت نے 31 جولائی تک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا عملہ اور پولیس پاکستان کوارٹرزسے واپس چلے گئے۔
مظاہرین نے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس سارے معاملے کی تفصیلی انکوائری کرائیںتمام حقائق سامنے آجائیں گے،انھوں نے بتایا کہ پاکستان کوارٹرز سرکاری نہیں بلکہ متروکہ وقف املاک کی جگہ پرتعمیر کیے گئے تھے اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے افسران نے عدالت میں حقیقت چھپائی ہے یہ جگہ 80 سال کے لیے پٹے پر دی گئی تھی جس کے بعد1980 سے اب تک وفاقی حکومت پران کوارٹرز ایک روپیہ بھی مرمت کے نام پر نہیں لگایا، ان کوارٹرز کی مرمت مکین خود کراتے ہیں۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کوارٹرز میں کوئی بھی غیر قانونی طور پرمقیم نہیں ہیں ،پاکستان کوارٹرزمیں وہ تمام ریٹائرڈ ملازمین مقیم ہیں جنھیں یہ کوارٹرز الاٹ کیے گئے تھے اوروہ لوگ ماہانہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ جس طرح پنجاب میں وفاقی ملازمین کو متروکہ املاک پرتعمیرمکانوں کے مالکانہ حقوق دیے گئے اسی طرح انھیں بھی یہ کوارٹرزالاٹ کیے جائیں ۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اسلام آباد کا عملہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ گارڈن ویسٹ نشترروڈ سے متصل پاکستان کوارٹرزمیں سرکاری مکانات خالی کرانے پہنچا توعلاقہ مکین گھروں سے باہرنکل آئے اوراحتجاج شروع کردیا،احتجاج میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔
مکینوں نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عملے کو بتایا کہ 10 روز قبل ان کی چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات ہوئی تھی اورچیف جسٹس نے انھیں تمام قانونی دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے، منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وفاقی کوارٹرزخالی کرانے کے حوالے سے کیس کی سماعت مقرر ہے اوروہ منگل کو عدالت کے رو برو پیش ہوں گے اور تمام دستاویزچیف جسٹس کو پیش کریں گے جس کے بعد انھیں جو بھی حکم وہ اس پرمن و عن عمل کریں گے۔
عدالت نے 31 جولائی تک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا عملہ اور پولیس پاکستان کوارٹرزسے واپس چلے گئے۔
مظاہرین نے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس سارے معاملے کی تفصیلی انکوائری کرائیںتمام حقائق سامنے آجائیں گے،انھوں نے بتایا کہ پاکستان کوارٹرز سرکاری نہیں بلکہ متروکہ وقف املاک کی جگہ پرتعمیر کیے گئے تھے اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے افسران نے عدالت میں حقیقت چھپائی ہے یہ جگہ 80 سال کے لیے پٹے پر دی گئی تھی جس کے بعد1980 سے اب تک وفاقی حکومت پران کوارٹرز ایک روپیہ بھی مرمت کے نام پر نہیں لگایا، ان کوارٹرز کی مرمت مکین خود کراتے ہیں۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کوارٹرز میں کوئی بھی غیر قانونی طور پرمقیم نہیں ہیں ،پاکستان کوارٹرزمیں وہ تمام ریٹائرڈ ملازمین مقیم ہیں جنھیں یہ کوارٹرز الاٹ کیے گئے تھے اوروہ لوگ ماہانہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ جس طرح پنجاب میں وفاقی ملازمین کو متروکہ املاک پرتعمیرمکانوں کے مالکانہ حقوق دیے گئے اسی طرح انھیں بھی یہ کوارٹرزالاٹ کیے جائیں ۔