پارلیمنٹ لاجز کے ٹینڈرز پر رشوت دکانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف
پارلیمنٹ لاجزکے اندررشوت لی جارہی ہے توپورے ملک کاکیاحال ہو گا،اعظم سواتی،کوئی بڑاہاتھ ہی ملوث ہوگا،چیئرپرسن
چیئرمین سی ڈی اے کے حاضرنہ ہونے پرسینیٹ کمیٹی برہم،اگلے اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں ورنہ معطل کر دینگے،کمیٹی۔ فوٹو: فائل
سینیٹ کی ان ہاؤس سب کمیٹی میں ٹینڈرز پر رشوت اور پارلیمنٹ لاجز کی دکانوں سے بھتہ وصول کیے جانے کا انکشاف ہواہے۔
سب کمیٹی کااجلاس سینیٹرکلثوم پروین کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں اعظم سواتی، ثمینہ سعید،سیکریٹری کیڈ،ڈائریکٹر جنرل سروسز،ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجز اوردیگر حکام نے شرکت کی۔
اعظم سواتی نے کہاکہ بابو نامی کنٹریکٹر نے مجھے فون کرکے کہاکہ ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجزکا اسٹاف اس وقت تک ٹینڈر کے فارمزنہیں دیتاجب تک انہیں رشوت نہ دی جائے۔ میں نے اس بات پراس سے حلف لیااوراس نے قسم کھائی کہ وہ درست کہہ رہاہے اورپارلیمنٹ لاجزکے اندرایسے معاملات چل رہے ہیں،اگر پارلیمنٹ لاجزکے اندررشوت لی جارہی ہے تو پھر پورے پاکستان کاکیاحال ہوگا۔ایسے اقدامات توملک کے بساط لپیٹنے کے مترادف ہیں،میں تجویز دیتاہوں کہ بڑے بڑے ٹھیکے بڑے ٹھیکیداروںکو دینے کے بجائے جھوٹے ٹھیکیداروں کو دئیے جائیں تاکہ کرپشن کم ہو اورغربت میں بھی کمی لائی جاسکے۔
سینیٹر فدامحمدبھی اس بارے میں گواہی دینگے کہ پارلیمنٹ لاجز کے اندر رشوت لینے کامکروہ دھنداہو رہاہے۔ اس پرکنوینئر سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اندر بھتہ لینے میں بھی کوئی بڑاہاتھ ہی ملوث ہوگا۔ٹینڈرز کے موقع پر بھی رشوت لینابڑاجرم ہے،پارلیمنٹ میں بھی ایساہوتاہے کہ کسی کاسامان اسکی اجازت کے بغیر اسکے کمرے سے غائب کر دیاجاتاہے۔
سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ اس ملک کو اسی طرح لوٹ کر تباہ کردیاگیا،اگرہم آج اس پاکستان کہ اپناگھر سمجھ کر کام کریں تہ بیشتر مسائل حل ہوجائیں۔پارلیمنٹ لاجز میںچائے کی دکان سے لیکراوپرتک تمام دکانوںسے 20ہزار تک بھتہ وصول کیاجارہاہے۔ اس کام میں جو لوگ ملوث ہیں انکو فوری فارغ کیاجائے چاہے وہ جتنابھی بڑاافسر کیوں نہ ہو۔
کنوینئر کمیٹی سینیٹرکلثوم پروین نے چیئرمین سی ڈی اے کو کمیٹی میںطلب کیے جانے کوباوجود حاضر نہ ہونے پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ چیئرمیںسی ڈی اے کیلیے پارلیمنٹ کے بڑھ کر اہم کون سی جگہ ہے جہاں جانے کیلیے وہ کمیٹی میں نہیں آئے،چیئرمین سی ڈی اے کوآخری موقع دے رہے ہیں کہ اگلے اجلاس میں اپنی حاضری کویقینی بنائیں ورنہ ان کومعطل کر دینگے۔
علاوہ ازیں سینٹ قائمہ کمیٹی شماریات کااجلاس ملتوی ہوگیا،اجلاس چیئرمین جہانزیب جمال دینی کی زیرصدارت ہوناتھا،جس تاہم اجلاس ملتو ی کر دیاگیا۔
سب کمیٹی کااجلاس سینیٹرکلثوم پروین کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں اعظم سواتی، ثمینہ سعید،سیکریٹری کیڈ،ڈائریکٹر جنرل سروسز،ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجز اوردیگر حکام نے شرکت کی۔
اعظم سواتی نے کہاکہ بابو نامی کنٹریکٹر نے مجھے فون کرکے کہاکہ ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجزکا اسٹاف اس وقت تک ٹینڈر کے فارمزنہیں دیتاجب تک انہیں رشوت نہ دی جائے۔ میں نے اس بات پراس سے حلف لیااوراس نے قسم کھائی کہ وہ درست کہہ رہاہے اورپارلیمنٹ لاجزکے اندرایسے معاملات چل رہے ہیں،اگر پارلیمنٹ لاجزکے اندررشوت لی جارہی ہے تو پھر پورے پاکستان کاکیاحال ہوگا۔ایسے اقدامات توملک کے بساط لپیٹنے کے مترادف ہیں،میں تجویز دیتاہوں کہ بڑے بڑے ٹھیکے بڑے ٹھیکیداروںکو دینے کے بجائے جھوٹے ٹھیکیداروں کو دئیے جائیں تاکہ کرپشن کم ہو اورغربت میں بھی کمی لائی جاسکے۔
سینیٹر فدامحمدبھی اس بارے میں گواہی دینگے کہ پارلیمنٹ لاجز کے اندر رشوت لینے کامکروہ دھنداہو رہاہے۔ اس پرکنوینئر سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اندر بھتہ لینے میں بھی کوئی بڑاہاتھ ہی ملوث ہوگا۔ٹینڈرز کے موقع پر بھی رشوت لینابڑاجرم ہے،پارلیمنٹ میں بھی ایساہوتاہے کہ کسی کاسامان اسکی اجازت کے بغیر اسکے کمرے سے غائب کر دیاجاتاہے۔
سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ اس ملک کو اسی طرح لوٹ کر تباہ کردیاگیا،اگرہم آج اس پاکستان کہ اپناگھر سمجھ کر کام کریں تہ بیشتر مسائل حل ہوجائیں۔پارلیمنٹ لاجز میںچائے کی دکان سے لیکراوپرتک تمام دکانوںسے 20ہزار تک بھتہ وصول کیاجارہاہے۔ اس کام میں جو لوگ ملوث ہیں انکو فوری فارغ کیاجائے چاہے وہ جتنابھی بڑاافسر کیوں نہ ہو۔
کنوینئر کمیٹی سینیٹرکلثوم پروین نے چیئرمین سی ڈی اے کو کمیٹی میںطلب کیے جانے کوباوجود حاضر نہ ہونے پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ چیئرمیںسی ڈی اے کیلیے پارلیمنٹ کے بڑھ کر اہم کون سی جگہ ہے جہاں جانے کیلیے وہ کمیٹی میں نہیں آئے،چیئرمین سی ڈی اے کوآخری موقع دے رہے ہیں کہ اگلے اجلاس میں اپنی حاضری کویقینی بنائیں ورنہ ان کومعطل کر دینگے۔
علاوہ ازیں سینٹ قائمہ کمیٹی شماریات کااجلاس ملتوی ہوگیا،اجلاس چیئرمین جہانزیب جمال دینی کی زیرصدارت ہوناتھا،جس تاہم اجلاس ملتو ی کر دیاگیا۔