نواب شاہ اسپتال پر 2 دن میں 86 کروڑ کیسے خرچ کیے واٹرکمیشن

ڈپٹی کمشنر کو تمام وارڈز سے پانی کے سیمپل لے کر کل تک رجسٹرارکوبھیجنے کاحکم

پیسے واپس کرو یا توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرو، جسٹس(ر)امیرہانی مسلم۔ فوٹو: فائل

واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے نواب شاہ اسپتال میں بے قاعدگیوں سے متعلق ایڈیشنل سیکریٹری فائنانس کو 10 روز تک مہلت دیتے ہوئے 7 اگست تک رپورٹ جبکہ ڈپٹی کمشنر کوشہید بے نظیر آباد اسپتال کے تمام وارڈز سے پانی کے سیمپل لے کر کل تک رجسٹرار کو بھیجنے کا حکم دیدیا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ جتنی تباہی فنانس ڈپارٹمنٹ میں ہے اتنی کہیں نہیں جو کام کرنا ہوتاہے ایک منٹ میں کرتے ہیں جو نہیں کرنا ہوتا مدت لگا دیتے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن کا اجلاس ہوا۔ سیکریٹری صحت، ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔ واٹرکمیشن نے ایم ایس نواب شاہ اسپتال سے استفسار کیا کتنے پیسے ملے تھے اور پیسے کہاں کہاں خرچ کیے۔

ایم ایس نے بتایاکہ 30 کروڑ روپے کا سامان باہر سے منگوایا ہے۔ کمیشن نے ریماکس دیے کہ 2 دن میں 86 کروڑ خرچ کیے اوریجنل کاغذات لے کر آؤ، آپ کو پتہ ہے نواب شاہ اسپتال میں پینے کا پانی استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ کمیشن نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو کوئی خدا کا خوف نہیں ہے۔ مشینری باہر سے منگوا رہے ہیں پینے کا پانی نہیں ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ نے کہا کہ فلٹرز لگے ہوئے ہیں مگر ٹائم پر تبدیل نہیں کیے جاتے، 90 فیصد نمونے خراب آئے ہیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ یہ مشینری کس کے لیے منگوا رہے ہیں۔

ایم ایس نے بتایاکہ مریضوں کے لیے مشینری منگوائی ہے۔ واٹرکمیشن نے ریمارکس دیے کہ مریض گندا پانی پیے اور وہیں مرجائے۔ پیسے واپس کرو یا توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرو۔ کمیشن کے روبرو نواب شاہ اسپتال کے لیے جاری فنڈ میں بے قاعدگیوں سے متعلق ایم ایس فنڈ جاری ہونے کی تفصیلات پیش کرنے میں ناکام ہوگئے۔

واٹرکمیشن نے استفسار کیاکہ کیا ہم تمام سیکریٹریوں کے خلاف نیب کو کارروائی کا حکم دے دیں؟ پیسے واپس کریں یا نیب کیسز کا سامنا کریں۔ جسٹس (ر)امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ اسپتالوں میں پینے کا پانی نہیں ہے، اسپتالوں کی صورت حال انتہائی خطرناک ہے۔ جو لوگ ان کے پیچھے ہیں میں ان کو بھی جانتا ہوں۔ واٹرکمیشن نے ریمارکس میں کہاکہ کچھ لوگ انسانی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔


جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ کیا پرائیڈ لوگ ایسے ہوتے ہیں؟ واٹرکمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اسپتال میں پانی جیسے سہولت میسرنہیں، ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہی ہیںاور بیرون ملک سے سامان منگوایا جارہاہے۔ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جائے، صاف پانی کی فراہمی کے لیے کتنے پیسے خرچ کیے گئے۔

واٹرکمیشن کو ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے بتایاکہ اسپتال کا پانی پی سی ایس آئی آرکے بجائے اپنی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا گیا۔ ایم ایس نواب شاہ اسپتال نے کہاکہ اب پانی کا ٹیسٹ مستند ادارے سے کرایا جائے گا۔ واٹرکمیشن نے ریمارکس دیے کہ اب آپ وہاں ہوں گے تو چیک کرائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے جو لوگ غلط کام کرتے ہیں وہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔

ایم ایس نواب شاہ اسپتال نے بتایاکہ سال بھر میں 2 کروڑ روپے کا پانی کا خریدا ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ یہ پانی مریض نہیں ڈاکٹرز پیتے ہوں گے۔ سب کو مر کر اللہ کو ہی جواب دینا ہے۔ اسپتال میں کتنے فلٹر پلانٹ لگائے ہوئے ہیں۔ ایم ایس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2 فلٹر پلانٹس لگائے ہیں۔ واٹرکمیشن نے ریمارکس دیے کہ آئی سی یو میں صرف 4 بیڈ ہیں اسے بڑھانے پر کیوں توجہ نہیں دی۔ جس پر ایم ایس خاموش رہے۔

واٹر کمیشن کے روبرو پینے کے پانی سے متعلق ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کی رپورٹ پیش کی گئی۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اسپتال میں لگے 2 فلٹر پلانٹ کا پانی جو مریض پی رہے ہیںٹھیک نہیں ہے۔ ایم ایس کا کہنا ہے کہ پینے کا پانی ٹھیک نہیں اس کے علم میں نہیں ہے۔ بتادیا ہے کہ پینے کے پانی پر پیپلز میڈیکل کالج اسپتال شہید بے نظیر آباد میں فلٹر پلانٹ پر خرچ کیے۔ ایم ایس کو اس حوالے سے کچھ پتہ نہیں۔

ایم ایس نے بتایا کہ منرل واٹر کے28 ڈسپینسر وارڈز میں لگے ہوئے ہیں۔ جس پر ڈاکٹر مرتضیٰ نے بتایا کہ اسپتال میں پرائیویٹ کمپنی کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں ہے۔

واٹر کمیشن کے روبرو سیکریٹری صحت نے بتایاکہ بد قسمتی سے پینے کے پانی کا بجٹ 2 کروڑ 65 لاکھ روپے تھا۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پانی کے معاملے پر کیوں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریماکس دیے کہ 2 ڈھائی کروڑ روپے بچا لیے یہ صاف پانی پر لگاتے تو لوگ گندا پانی پینے سے نہیں مرتے۔
Load Next Story