کراچی آؤ ہم پھر سے محبت عام کریں
کراچی ہماری ماں ہے جو تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے بچے تعصبات سے بالاتر ہوکر، آپس میں اتفاق و محبت سے رہیں
کراچی ہماری ماں ہے جو تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے بچے تعصبات سے بالاتر ہوکر، آپس میں اتفاق و محبت سے رہیں۔ (فوٹو: فائل)
کراچی ماں بھی ہے، محبوب بھی ہے اور بیٹی بھی۔ اگر کراچی کی موجودہ صورتحال بیان نہ کی جائے تو اس شہر کے ساتھ زیادتی ہوگی کیوں کہ کراچی اس وقت شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ فخرِ مشرق، عروس البلاد اور شہر قائد کہلانے والا کراچی آج نفرتوں کی لپیٹ میں ہے۔ یہ شہر جو سندھ کا دارالحکومت ہے، تین دہائیوں قبل تک روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، اسے مرکزیت حاصل تھی۔ کراچی دنیا کے دس بڑے شہروں میں سے ایک ہے، یہ بجا طور پر منی پاکستان کہلائے جانے کا حقدار ہے جو ملکی محصولات کا 70 فیصد فراہم کرتا ہے۔
سمندر کنارے آباد شہرِ کراچی جو ہر صبح سورج کی پہلی کرن کے ہمراہ 2 کروڑ لوگوں کو اپنی پیٹھ پر لادے غروب آفتاب کی سمت بڑھتا ہے۔ پاکستان کا واحد میٹروپولیٹن شہر، اہم بندرگاہ، سب سے بڑا تجارتی و مالیاتی مرکزجو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، اب گرہن زدہ ہوچکا ہے۔ کئی دہائیوں سے کراچی کو مہاجروں یعنی اردو بولنے والوں کی آبادی کی حیثیت سے جانا جاتا رہا لیکن حقیقت ہمیشہ اس سے مختلف رہی۔ کراچی کی دو کروڑ سے زائد کی آبادی ہر طبقے، رنگ، نسل، مسلک اور مذہب کے لوگوں پر مشتمل ہے اور کراچی ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو روزگار مہیا کرتا ہے۔
کراچی آغوش مادر کی طرح صبح سویرے آنکھ ملتے بیدار ہوجاتا ہے اور ہر ایک کی خدمت کےلیے جت جاتا ہے۔ سب کو ناشتہ کروانا، دوپہر کا کھانا کھلانا، ہر ایک کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنا اور شام ڈھلے انہیں گھر تک پہنچانا... یوں لگتا ہے جیسے یہ دو کروڑ نفوس اس کے بچے ہو اور یہ ان کی ماں۔ اسی لیے اس کی آنکھوں میں سب برابر ہیں، یہ سب سے پیار کرتا ہے، رزق فراہم کرتاہے، کسی کے ساتھ تفریق نہیں کرتا۔ اپنے ہوں یا پرائے، ہر ایک کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا رہا۔
پھر نجانے کیسے ایک ماں کے بچے پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی کہلانے لگے اور ساتھ ہی مسلک کی وجہ سے شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی بن گئے۔ نفرت اس قدر بڑھی کہ ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے۔ گزشتہ چونتیس برسوں کے دوران یہاں رہنے والے ہزاروں افراد بے دردی سے قتل کیے گئے جن میں علمائے دین، سیاست دان، سرکاری افسران، ڈاکٹر، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان، اساتذہ کرام، ادیب، صحافی، دانشور، پولیس اہلکار، وکلاء، سماجی شخصیات جبکہ معصوم افراد میں راہ گیر، مسافر، مزدور طبقہ اور اقلیت کے لوگ شامل ہیں۔ ہر ایک قتل کی وجہ، تعصب کی ایک الگ قسم رہی جس کا بیان اس تحریر کو طویل تر اور مزید تلخ بنا دے گا۔
1985 سے شروع ہونے والی قتل و غارت گری رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ بلا تفریق رنگ و نسل ہر ایک کا خون بہایا جارہا ہے۔
سماجی و ثقافتی اقدار کے ذریعے کراچی میں امن اور برداشت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، کراچی میں ہر مذہب، فرقے، رنگ و نسل اور مسلک کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم بھی آباد ہیں جن میں ہندو، سکھ، پارسی اور عیسائی وغیرہ شامل ہیں۔
ثقافت کے لفظی معنی کچھ اگانے کے ہیں۔ یہ کسی قوم کی ماضی کی تاریخ و نظریئے کی عکاسی کرتی ہے۔ کراچی میں چاروں صوبوں کے لوگ آباد ہیں جن کی اپنی ثقافت، زبان، رہن سہن، فن مصوری، لباس، تہوار، فن تعمیر، کھیل تماشے، شادی بیاہ کی رسوم، دستکاری، معاشرت ایک دوسرے سے ممتاز و مختلف ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے تک تمام مذاہب کے لوگ کراچی میں اکٹھے رہتے تھے، اپنے مذہبی تہوار مناتے تھے، ایک دوسرے کی پیدائش و اموات، شادی بیاہ میں سکھ دکھ کے ساتھی بنتے تھے تو آج کیوں لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں؟
کراچی ایک گلدستہ ہے اور دو کروڑعوام اس کے پھول۔
ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کو ان کے تہوار منانے کی پوری آزادی دیں، نہ کہ ان پر تنقید کریں۔ مثلاً بلوچ ڈے لیاری اور سندھی اجرک ٹوپی سندھ کی ثقافت ہونے کے باوجود بہت کم لوگ مناتے ہیں کیوں کہ مہاجروں کے دل میں تعصب ڈال دیا گیا ہے کہ یہ سندھی کلچر ہے۔ اس تعصب اور انتشار کو ختم کرکے سندھ کے تمام لوگ یہ تہوار منائیں تو نہ صرف آپس کے تفرقات اور دوریاں مٹ سکتی ہیں بلکہ ہم اس سندھی، پشتو، مہاجر، بلوچی اور اقلیتی تفرقات کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔ انسانیت کا جذبہ پروان چڑھنے سے کراچی پھر روشنیوں کا شہر بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
سبی میلہ ہر سال فروری کے آخری ہفتے میں بلوچستان میں سجایا جاتا ہے، صوفی ازم کے فروغ کی غرض سے ہر سال چراگاہ شالیمار باغ لاہور کے باہر ایک میلہ لگایا جاتا ہے، لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم میں ہارس اینڈ کیٹل شو، چترال میں شندور فیسٹیول، کالاش کا اچل تہوار، سوات میں پولو، قراقرم کی ریلی وغیرہ جن کے بارے میں اہلیانِ کراچی کی بڑی اکثریت نہیں جانتی، انہیں بھی کراچی میں پروموٹ کیا جائے تو ان سے متعلق آگاہی کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا کیوں کہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگ ایک دوسرے کے صوبوں میں سیر و سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ بیرون ملک کے لوگ تک ان ثقافتی میلوں کے شیدائی ہیں۔ اس طرح ہم لوگ ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ مزید یہ کہ کراچی میں رہنے والے پنجابی جب جشن بہاراں منائیں تو کراچی میں بسنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس میں حصہ لینا چاہیے۔
سماجی کاموں کی بات کی جائے تو یہاں بھی مسلک کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سماجی کاموں میں اب رضائے الہی سے زیادہ دکھاوا شامل ہوگیا ہے۔ ہر سماجی ادارہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بیشتر سماجی ادارے اور این جی اوز اپنے مسلک، طبقے اور برادری کےلیے کام کررہے ہیں جہاں ان کی مخصوص برادری یا مسلک سے تعلق نہ رکھنے والے سائلین کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاتی۔ ہاں، جان پہچان یا سفارش ہو تو الگ بات ہے۔ اس سوچ کو بدلنا چاہیے جبکہ وہ ادارے جو کسی اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بلاتفریقِ رنگ و مذہب خیر کا کام کررہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے؛ اور ان کی معاونت کےلیے زکوۃ فنڈ کی جگہ کچھ اور راستہ اختیار کرتے ہوئے فنڈنگ کا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ کراچی ہماری ماں ہے اور ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ میرے بچے تعصبات سے بالاتر رہتے ہوئے اور ایک ہو کر کام کریں، ہنسی خوشی رہیں، اتحاد و اتفاق اور آپس میں محبت کا مظاہرہ کریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
سمندر کنارے آباد شہرِ کراچی جو ہر صبح سورج کی پہلی کرن کے ہمراہ 2 کروڑ لوگوں کو اپنی پیٹھ پر لادے غروب آفتاب کی سمت بڑھتا ہے۔ پاکستان کا واحد میٹروپولیٹن شہر، اہم بندرگاہ، سب سے بڑا تجارتی و مالیاتی مرکزجو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، اب گرہن زدہ ہوچکا ہے۔ کئی دہائیوں سے کراچی کو مہاجروں یعنی اردو بولنے والوں کی آبادی کی حیثیت سے جانا جاتا رہا لیکن حقیقت ہمیشہ اس سے مختلف رہی۔ کراچی کی دو کروڑ سے زائد کی آبادی ہر طبقے، رنگ، نسل، مسلک اور مذہب کے لوگوں پر مشتمل ہے اور کراچی ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو روزگار مہیا کرتا ہے۔
کراچی آغوش مادر کی طرح صبح سویرے آنکھ ملتے بیدار ہوجاتا ہے اور ہر ایک کی خدمت کےلیے جت جاتا ہے۔ سب کو ناشتہ کروانا، دوپہر کا کھانا کھلانا، ہر ایک کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنا اور شام ڈھلے انہیں گھر تک پہنچانا... یوں لگتا ہے جیسے یہ دو کروڑ نفوس اس کے بچے ہو اور یہ ان کی ماں۔ اسی لیے اس کی آنکھوں میں سب برابر ہیں، یہ سب سے پیار کرتا ہے، رزق فراہم کرتاہے، کسی کے ساتھ تفریق نہیں کرتا۔ اپنے ہوں یا پرائے، ہر ایک کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا رہا۔
پھر نجانے کیسے ایک ماں کے بچے پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی کہلانے لگے اور ساتھ ہی مسلک کی وجہ سے شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی بن گئے۔ نفرت اس قدر بڑھی کہ ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے۔ گزشتہ چونتیس برسوں کے دوران یہاں رہنے والے ہزاروں افراد بے دردی سے قتل کیے گئے جن میں علمائے دین، سیاست دان، سرکاری افسران، ڈاکٹر، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان، اساتذہ کرام، ادیب، صحافی، دانشور، پولیس اہلکار، وکلاء، سماجی شخصیات جبکہ معصوم افراد میں راہ گیر، مسافر، مزدور طبقہ اور اقلیت کے لوگ شامل ہیں۔ ہر ایک قتل کی وجہ، تعصب کی ایک الگ قسم رہی جس کا بیان اس تحریر کو طویل تر اور مزید تلخ بنا دے گا۔
1985 سے شروع ہونے والی قتل و غارت گری رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ بلا تفریق رنگ و نسل ہر ایک کا خون بہایا جارہا ہے۔
سماجی و ثقافتی اقدار کے ذریعے کراچی میں امن اور برداشت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، کراچی میں ہر مذہب، فرقے، رنگ و نسل اور مسلک کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم بھی آباد ہیں جن میں ہندو، سکھ، پارسی اور عیسائی وغیرہ شامل ہیں۔
ثقافت کے لفظی معنی کچھ اگانے کے ہیں۔ یہ کسی قوم کی ماضی کی تاریخ و نظریئے کی عکاسی کرتی ہے۔ کراچی میں چاروں صوبوں کے لوگ آباد ہیں جن کی اپنی ثقافت، زبان، رہن سہن، فن مصوری، لباس، تہوار، فن تعمیر، کھیل تماشے، شادی بیاہ کی رسوم، دستکاری، معاشرت ایک دوسرے سے ممتاز و مختلف ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے تک تمام مذاہب کے لوگ کراچی میں اکٹھے رہتے تھے، اپنے مذہبی تہوار مناتے تھے، ایک دوسرے کی پیدائش و اموات، شادی بیاہ میں سکھ دکھ کے ساتھی بنتے تھے تو آج کیوں لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں؟
کراچی ایک گلدستہ ہے اور دو کروڑعوام اس کے پھول۔
ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کو ان کے تہوار منانے کی پوری آزادی دیں، نہ کہ ان پر تنقید کریں۔ مثلاً بلوچ ڈے لیاری اور سندھی اجرک ٹوپی سندھ کی ثقافت ہونے کے باوجود بہت کم لوگ مناتے ہیں کیوں کہ مہاجروں کے دل میں تعصب ڈال دیا گیا ہے کہ یہ سندھی کلچر ہے۔ اس تعصب اور انتشار کو ختم کرکے سندھ کے تمام لوگ یہ تہوار منائیں تو نہ صرف آپس کے تفرقات اور دوریاں مٹ سکتی ہیں بلکہ ہم اس سندھی، پشتو، مہاجر، بلوچی اور اقلیتی تفرقات کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔ انسانیت کا جذبہ پروان چڑھنے سے کراچی پھر روشنیوں کا شہر بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
سبی میلہ ہر سال فروری کے آخری ہفتے میں بلوچستان میں سجایا جاتا ہے، صوفی ازم کے فروغ کی غرض سے ہر سال چراگاہ شالیمار باغ لاہور کے باہر ایک میلہ لگایا جاتا ہے، لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم میں ہارس اینڈ کیٹل شو، چترال میں شندور فیسٹیول، کالاش کا اچل تہوار، سوات میں پولو، قراقرم کی ریلی وغیرہ جن کے بارے میں اہلیانِ کراچی کی بڑی اکثریت نہیں جانتی، انہیں بھی کراچی میں پروموٹ کیا جائے تو ان سے متعلق آگاہی کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا کیوں کہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگ ایک دوسرے کے صوبوں میں سیر و سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ بیرون ملک کے لوگ تک ان ثقافتی میلوں کے شیدائی ہیں۔ اس طرح ہم لوگ ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ مزید یہ کہ کراچی میں رہنے والے پنجابی جب جشن بہاراں منائیں تو کراچی میں بسنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس میں حصہ لینا چاہیے۔
سماجی کاموں کی بات کی جائے تو یہاں بھی مسلک کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سماجی کاموں میں اب رضائے الہی سے زیادہ دکھاوا شامل ہوگیا ہے۔ ہر سماجی ادارہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بیشتر سماجی ادارے اور این جی اوز اپنے مسلک، طبقے اور برادری کےلیے کام کررہے ہیں جہاں ان کی مخصوص برادری یا مسلک سے تعلق نہ رکھنے والے سائلین کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاتی۔ ہاں، جان پہچان یا سفارش ہو تو الگ بات ہے۔ اس سوچ کو بدلنا چاہیے جبکہ وہ ادارے جو کسی اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بلاتفریقِ رنگ و مذہب خیر کا کام کررہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے؛ اور ان کی معاونت کےلیے زکوۃ فنڈ کی جگہ کچھ اور راستہ اختیار کرتے ہوئے فنڈنگ کا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ کراچی ہماری ماں ہے اور ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ میرے بچے تعصبات سے بالاتر رہتے ہوئے اور ایک ہو کر کام کریں، ہنسی خوشی رہیں، اتحاد و اتفاق اور آپس میں محبت کا مظاہرہ کریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔