ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند

لاہور کے بہترین رہائشی علاقے ڈیفنس میں اپنے کرائے کے گھر سے باہر نکلا ، یہ الیکشن کا دوسرا دن تھا اور...

Abdulqhasan@hotmail.com

لاہور کے بہترین رہائشی علاقے ڈیفنس میں اپنے کرائے کے گھر سے باہر نکلا ، یہ الیکشن کا دوسرا دن تھا اور ان بڑے لوگوں کی آبادی سے اڑتی سی اطلاع ملی کہ شہر میں نوجوان جلوس جلوس کر رہے ہیں اور انھوں نے شہر کے کئی راستے احتجاجاً روک رکھے ہیں۔ آسمان الیکشن کے ستاروں پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کمند ڈالنے والوں کی زیارت ہم بوڑھوں پر لازم تھی۔

ڈرائیور نے پہلے تو میرا انتظار کیا لیکن جب میری طرف سے کسی بھی سمت جانے کی اطلاع نہ ملی جو اسے ہمیشہ ملا کرتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ ایک طرف چل دیا، آگے ڈیفنس کا ایک خوبصورت مشہور چوک تھا جو خوبصورت پاکستانی نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ جینز پہننے والے جوان تھے جن کے ہجوم میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی بھی تھی، یہ اس حلقے میں انتخابی دھاندلی کے خلاف نعرہ زن تھے۔ کہیں جانے کا راستہ نہ پا کر دوسری طرف نکل گئے تو تھوڑی دور جا کر وہاں بھی نوجوان اپنی برہمی کا اظہار کر رہے تھے، غرض دو تین دوسرے راستوں پر بھی جب ایسی ہی ایمان پرور کیفیت دیکھی تو واضح ہوا کہ اس الیکشن میں نوجوانوں نے بھی پر جوش حصہ لیا ہے اور وہ اپنی کسی ناکامی پر ناراض ہیں۔

یوں تو ہر الیکشن میں نوجوان بھی ووٹ ڈالتے ہیں اور ووٹ ڈال کر اپنے بزرگوں کے ساتھ واپس گھروں کو چلے جاتے ہیں لیکن اس بار بتایا جا رہا تھا کہ اس ملک کا نوجوان کسی ایک جماعت میں بڑی تعداد میں شامل ہے اور وہ الیکشن کا پانسہ پلٹ دے گا۔ میرے لیے اس میں خوشخبری یہ تھی کہ ہمارے نوجوان کے جوان سینے میں ملک کا درد اٹھا ہے اور وہ بزرگوں کی سودا بازی یا حالات کے ساتھ سمجھوتے پر قائل نہیں ہے، وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور اس کا ذہن خالی نہیں ہے، اس میں ملک کی ترقی اور استحکام کے منصوبے ہیں اور کوئی لیڈر ایسا ہے جو ان نوجوانوں کو شاباش دے رہا ہے۔ نوجوانوں کی بیداری کے لیے میں کسی ایک لیڈر کو کریڈٹ نہیں دیتا، یہ ملک کے ایسے حالات کا ردعمل ہے جو غلط لیڈروں نے پیدا کیے ہیں۔

انھوں نے ملک کو بیچا ہے اور اپنی تجوری بھری ہے۔ اس بار یوں ہوا کہ میڈیا بھی گستاخ ثابت ہوا اور ان کرپٹ لیڈروں کو بے نقاب کرتا رہا۔ مجھے ایسے میڈیا کا ایک کارکن ہونے پر فخر ہے کہ ہم نے ملک کے دشمنوں اور لٹیروں کو بے نقاب کر کے ان کو قوم کے سامنے ڈال دیا اور پھر الیکشن میں قوم نے دل کی بھڑاس نکال لی۔ میرے خیال میں یہ پہلا قومی الیکشن تھا جس میں قوم نے قومی مسئلوں کو سامنے رکھا، برادری اور تعلقات کو مسترد کر دیا۔ ایک طرف میڈیا کی جرات دوسری طرف قوم کی فراست۔ ان دونوں نے ملک کو بچا لیا، اسے ڈوبنے سے بچا لیا اور اسے ہلاکت کے کنوئیں سے باہر نکال لیا۔

گزشتہ الیکشن سے پہلے جو فضا تیار تھی، وہ خالص قومی فضا تھی اور عوام نے اکثریت کے ساتھ اچھے لوگوں کو منتخب کیا خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو مسترد کر دیا، دریا برد کر دیا، برباد کر دیا جو اپنی مادر وطن سے غداری کر رہے تھے، اسے لوٹ رہے تھے اور لوٹ کا مال بیرونی ملکوں کو بھیج رہے تھے، یہ بے درد لوگ جن کے دل قومی غیرت سے بالکل خالی تھے اور چار دانگ عالم میں یہ مشہور ہونے کے باوجود کہ پاکستانی حکمران ملک کو لوٹ رہے ہیں، انھیں کسی بدنامی کی پروا نہیں تھی لیکن میرے جیسے سینئر پاکستانی صرف دیکھ رہے تھے، اپنے دلوں کو جلا رہے تھے، ان کے دم گھٹ رہے تھے لیکن کر کچھ نہیں سکتے تھے، ایسے میں ان کے بیٹے بیٹیاں باہر نکلیں اور بزرگوں کی میل کچیل دھونے اور ملک کو اس سے بچانے میں لگ گئیں۔


ان باشعور پاکستانی نوجوانوں نے سب سے پہلے اپنے جہاد کا میدان منتخب کیا، ان کے سامنے الیکشن تھا، وہ پولنگ اسٹیشنوں پر قطاروں میں لگ گئے۔ میرا نواسہ نیو یارک میں اپنے کالج کے ہوسٹل میں رو رہا تھا کہ اس کا زندگی میں پہلی بار ووٹ بنا لیکن وہ اس کی پرچی کو چوم کر اسے اپنے ملک کی خدمت میں پیش نہیں کر سکتا لیکن اس کے ہم عمر اور اس کے کالج ایچی سن کے کئی ہم جماعتوں نے اس کے گھر فون کر کے کہا کہ انس حمید غم نہ کرو اگلے الیکشن میں ہم سب مل کر ووٹ دیں گے۔ ملک میں جو تبدیلی آ رہی ہے اس کی رفتار مزید تیز کر دیں گے، یہ سن کر تعجب ہوا کہ انس کے ہم جماعتوں نے اس سے کہا کہ ملک کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو کہ ہم ہی پاکستان ہیں۔

ہمارا یہ قومی الیکشن جس نے قوم کو نیا عزم دیا ہے، نئی راہیں کھولی ہیں اور نئی تمنائیں جوان کی ہیں، اس نے اپنے اندر سے نوجوانوں کی ایک نسل بھی دریافت کی ہے جو پہلی بار صف بہ صف ملک کے دفاع کے لیے کھڑی ہو گئی ہے اور کسی قیمت پر کسی مصیبت میں بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے۔ دراصل یہی وہ جوان ہیں جن کے پیار میں اقبال نے کہا تھا کہ

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اقبال اور جناح کی روحیں خوش ہوں گی کہ ان کے ملک میں ستاروں پر کمند ڈالنے والے نوجوان پیدا ہو گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب چلتا رہے گا، ملک کے بانیوں کی روح کو خوش کرتا رہے گا۔ اب تک ملک کے نوجوانوں کو حالات کے جور و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، ان کا سب سے بڑا مقصد سرکاری نوکری کو قرار دیا گیا ہے، اب انھوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ سرکاری نوکریاں بھی ان کی ہیں اور یہ ملک بھی صرف ان کا ہے، کسی واجپائی اور بال ٹھاکرے کا نہیں ہے اور نہ کوئی اسے توڑ سکتا ہے۔ یورپی ملکوں کی خیرات پر پلنے والے پاکستانی دانشور کسی محب وطن پاکستانی کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ ہر پاکستانی اپنی حب وطنی کی حدود جانتا ہے اور ان کی حفاظت بھی کر سکتا ہے، اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ اور مسلسل بات ہو گی کیونکہ ہمیں ملک کے مقابلے میں نہ کسی کا خوف ہے اور نہ کسی کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ ہمیں خرید سکے۔

اس وقت میں پاکستانی نوجوانوں کی بیداری کا جشن منا رہا ہوں اور ان راستوں پر کھڑا ہوں جو ان پاکستانی نوجوانوں نے اپنے مطالبات کے لیے بند کر رکھے ہیں کیونکہ الیکشن کا معرکا سر کر لینے کے بعد اب انھیں کون روک سکتا ہے۔ پاکستان میں اب ایک نئی دنیا آباد ہوئی ہے اور ہمارا یہ کام ہے کہ نوجوانوں کو اس نئی دنیا کی حفاظت پر کمر بستر کر دیں۔
Load Next Story