محترم اسفندیار ولی خان کے نام چوتھا خط
پہلی غلطی تو اس وقت ہوئی جب منجھے ہوئے تجربہ کار اور ایثار پیشہ بزرگوں کو نظر انداز کر کے ایک ’’بچے‘‘ کو اس گھر...
barq@email.com
محترم !
السلام علیکم، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس سے پہلے میں نے جو تین خط آپ کو لکھے تھے وہ آپ تک پہنچے نہیں ہوں گے کیوں کہ اخبار کے علاوہ میں نے وہ تینوں خطوط اپنی کتاب ''خدمت گاری سے فوج داری تک'' میں بھی چھپوائے تھے۔ اب یہ بات الگ ہے کہ آپ نے پڑھے نہ ہوں، کیونکہ آپ کو موسمی پرندوں نے گھیر رکھا تھا،اب وہ چڑیاں ''کھیت'' کو چگ کر شاید ادھر ادھر ہونے لگی ہوں، اس لیے چوتھی کوشش کر رہا ہوں۔ ابتداء اس شعر سے کر رہا ہوں کہ
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
انتخابات میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے۔ یہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس وقت جس بات پر رونا آ رہا ہے اور رونا چاہیے بھی، کیونکہ یہ حادثہ اتنا ہی بڑا حادثہ ہے اور اس پر اتنے ہی نوحے لکھنے چاہیں جتنے کہ یروشلم کی تباہی، بابل کے انہدام، بغداد کے سقوط اور اندلس سے مسلمانوں کے انخلاء پر لکھے گئے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ، کیونکہ وہ تو شہر تباہ ہوئے تھے اور شہر پھر بھی آباد کیے جا سکتے ہیں لیکن کوئی نظریہ ،کوئی تحریک اور کوئی قوم تباہ ہو جائے تو اس کی تعمیر نو اگر ناممکن نہیں تو ناممکن کی حد تک مشکل ہو جاتی ہے، دیواریں اگر گر جاتی ہیں تو دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، لکڑی کا برتن ٹوٹ جائے تو مرمت ممکن ہو سکتی ہے، دولت، جائیداد اور سرمایہ چھن جائے تو دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اگر دل ٹوٹ جائے تو دوبارہ جوڑنا ممکن نہیں ہوتا۔
زڑہ ملغلرہ دہ چہ مات شی
د جوہری پہ دکان نہ خوری بیدونہ
(دل ایک ہیرا ایک موتی ہے ٹوٹ جائے تو دنیا میں کسی جوہری کی ایسی دکان نہیں جہاں اسے دوبارہ ثابت و سالم کیا جا سکے) دل ہی کی طرح ایک گھر، ایک خاندان بھی ہوتا ہے جو صرف چار دیواری کا نام نہیں بلکہ رشتوں کے بندھن اور محبت کے رشتوں کا نام ہے، آپ کو احساس ہو نہ ہو لیکن آپ نے الیکشن نہیں ہارا، الیکشن کے کھیل میں ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، آج تم کل ہماری باری کا تسلسل ہوتا ہے لیکن آپ نے الیکشن نہیں ایک پوری قوم ہاری ہے۔ ایک پوری تحریک ہاری ہے ۔کئی نسلوں کی محنت ہاری ہے۔ ذرا دوبارہ غور فرمایئے پنجاب نہیں ہارا ہے، سندھ نہیں ہارا ہے، بلوچستان بھی نہیں ہارا ہے، اگر ہارا ہے تو پختون خوا ہارا ہے، پختون ہارا ہے، باچا خان ہارا ہے، ولی خان ہارا ہے، خدائی خدمت گار ہارے ہیں، دوبارہ یاد دلاؤں میں الیکشن کی بات نہیں کر رہا ہوں کیونکہ جو لوگ جیتے ہیں، وہ بھی پختون ہیں، پاکستانی ہیں اور اس دیس کے فرزند ہیں بلکہ اس رجحان کی بات کر رہا ہوں جس کا مظاہرہ ہوا ہے اور ایسا بھی نہیں کہ آپ کو کسی نے خبردار نہیں کیا۔
پہلی غلطی تو اس وقت ہوئی جب منجھے ہوئے تجربہ کار اور ایثار پیشہ بزرگوں کو نظر انداز کر کے ایک ''بچے'' کو اس گھر کا سربراہ بنایا گیا ، یہکسی بھی رو سے جائز نہیں کہ بزرگوں اور فہم و فراست تجربہ اور قربانیوں کا ریکارڈ رکھنے والوں کے کاندھوں پر کسی چھوٹے کو سوار کیا جائے ۔آخر کس بنیاد پر؟ کوئی ایک بھی ایسی وجہ بتائی جا سکتی ہے کے مقابلے اس کے کریڈٹ میں جاتی ہو، ہاں ایک وجہ ہے جو کھنیچ تان کر بلکہ قطعی سینہ زوری اور بے ایمانی سے اس کے لیے تراشی گئی تھی کہ وہ ایک عظیم خدائی خدمت گار کا پوتا تھا، ایک ایسے عظیم خدائی خدمت گار کا پوتا جو باچا خان کے ساتھ قدم قدم پر ہر مصیبت اور صعوبت میں شامل اور ثابت قدم رہا تھا، اس کی عظمت میں کسی کو بھی کلام نہیں، لیکن تیسری نسل ضروری نہیں کہ پہلی نسل کا تسلسل ہو، لالہ امیر محمد خان ہوتی کی نسل کی ساری برکت اس کی اولاد نرینہ میں نہیں بلکہ بیٹی میں چلی گئی تھی، وہ بیٹی جس نے شوہر کے اسیر ہونے پر چادر اوڑھی اور گھر سے نکلی۔
الزامات کے کتنے تیر چلے، رکاٹوں کی کتنی کھائیاں عبور کرنا پڑیں، قدم قدم پر ایک آگ کا دریا اس نے پار کیا اور ڈوب کے چلتی گئی، غیروں اور بظاہر اپنوں نے ناک بھوں چڑھائے لیکن اس نے ثابت کیا کہ وہ لالہ امیر محمد خان کی بیٹی، باچا خان کی بہو اور ولی خان کی بیوی ہے اور ٹھیک اسی وقت جب وہ میدان میں مردانہ وار کھڑی خاتون آہن اور مور بی بی کا کردار نبھا رہی تھی اور یہ ٹپہ الاپ رہی تھی کہ
کہ زلمونہ پورہ نہ شوہ
فخر افغانہ جینکئی بد دے گٹینہ
ٹھیک ان ہی دنوں میں اس کا بھائی لالہ امیر محمد خان کا نرینہ جانشین افغانستان میں وہاں کی شاہی حکومت کا مہمان بنا ہوا تھا، لیکن جب حالات سازگار ہوئے تو وہ واپس آ گیا اور خاتون آہن کو آہستہ آہستہ دیوار کی طرف دھکیلا جانے لگا کیونکہ میل اورینٹڈ معاشرے میں اس کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بچی تھی، صرف وہ ہی نہیں بلکہ ایک اور مرد آہن کو بھی مٹی کا ڈھیر بنایا جانے لگا۔ اجمل خٹک جس نے ایسا کوئی تھانہ نہیں چھوڑا جہاں تشدد نہ جھیلا ہو، پھر ڈالر کا کھیل شروع ہوگیا۔ پھر روس اور امریکا کی باہمی جنگ کو دنیا جہاں سے کھینچ کر پختونوں کے گھر کی جنگ بنا دیا گیا۔ افغانستان کے بڑے بڑے جبہ و دستار والے ملائے شور بازار کے جانشین دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے اور اس کے بدلے میں پختونوں کو اس بھٹی کا ایندھن بنانے لگے، جس سے امریکا اپنا پکوان پکا رہا تھا۔
پکوان پک گیا روس ختم ہو گیا، امریکا الگ سے اپنے صفا چٹ ہونٹوں پر فرضی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا کہ چوہا میں نے مارا۔۔۔ ڈالری مجاہد الگ سے مونچھوں کو تاؤ دے رہے تھے کہ دیکھا ہم نے ''اسلام'' کے زور سے کتنا بڑا ہاتھی جتنا چوہا مار ڈالا، حالانکہ چوہا کسی نے نہیں مارا تھا بلکہ اپنے پیٹ کے کیڑوں سے خودبخود قدرتی موت مرا تھا ، اب اس کہانی میں یہ ٹؤسٹ آیا کہ امریکا نے میدان کو خالی دیکھا تو فوراً جان لیا کہ اب تو لنگر لنگوٹ کھول کر جانا پڑے گا جب جانا اس کے مفاد میں نہیں تھا، اس لیے فوراً ڈالر نے جلوہ دکھایا جو دوست تھے، انھیں دشمن کے منصب پر فائز کر دیا گیا، اس موقع پر اکثر نام نہاد دانشور یہ فلسفہ بگھارتے ہیں کہ امریکا نے اپنے ڈالروں سے جو سانپ پالا تھا، وہ اس کے گلے میں پڑ گیا، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ امریکا ہندوؤں کا شیو دیوتا ہے، مہا دیو ہے اور اس کا گلا کبھی سانپ سے آزاد نہیں ہوتا، دنیا کے ہر پسندیدہ مقام پر موجودگی کے لیے اسے ہمیشہ ایک دشمن کی ضرورت رہتی ہے، روس مر گیا اب اگر دشمن نہ رہے تو اسے یہاں رہنے کے لیے کوئی سا بہانہ تراشنا پڑے گا چنانچہ حسب معمول حسب روایت اور حسب تاریخ ہر عسکریت پرست کی طرح اس نے بھی کل کے دوستوں کو دشمن کے منصب پر فائز کر دیا۔
اسامہ کون تھا ،کب پکڑا گیا، کب مارا گیا، اس کا کسی کو علم نہیں کیونکہ معلومات کے تمام پائپ جا کر اس ٹینکی سے ملتے ہیں جو امریکا کے ''غور کا حوض'' ہے، اس جدید تر دنیا میں کچھ بھی ممکن ہے، لیکن اس سارے عمل میں ایک کمزوری یہ رہی کہ امریکا نے جو نیا دشمن طالبان کے نام پر تراشا تھا، تخلیق کیا تھا، پالا پوسا تھا، اس کا مقابلہ اور نشانہ براہ راست امریکا تھا یا پھر ۔۔۔۔ اور اس میں ایک بڑا خطرہ تھا کہ آخر کب تک ؟ امریکا کے سامنے اس جنگ کو اپنے میدان سے نکال کر پاکستانی عوام کے میدان میں لانا تھا، ادھر ایک اقتدار کی دیوانی چلی ادھر اقتدار کے برسوں سے بھوکے پختون یا اے این پی والے میدان میں اتارے گئے اور جب ٹاسک پورا ہو گیا اے این پی کی صفیں الٹ پلٹ کر دی گئیں۔ باچا خان اور ولی خان کے اصلی حامی جن کا جزو ایمان ''عدم تشدد'' تھا، دیوار سے لگا دیے گئے، پیچھے دھکیل دیے گئے ۔باچا خان اور ولی خان کے وارث کو رکھنا ضروری تھا ورنہ آپ بھی اجمل خٹک اور بیگم نسیم کی طرح کنا رے لگ چکے ہوتے، آپ کو رکھا گیا لیکن بہت دور تا کہ آپ اپنے خدائی خدمت گاروں کی چیخیں نہ سن سکیں، پتہ نہیں اب بھی آپ کی آنکھیں اور کان کھلے یا نہیں ... اگر نہیں تو باہر نکلیے اور اصل خدائی خدمت گاروں کی سنئے جو اب بھی آپ کے خاندان کے پاس ہیں۔
السلام علیکم، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس سے پہلے میں نے جو تین خط آپ کو لکھے تھے وہ آپ تک پہنچے نہیں ہوں گے کیوں کہ اخبار کے علاوہ میں نے وہ تینوں خطوط اپنی کتاب ''خدمت گاری سے فوج داری تک'' میں بھی چھپوائے تھے۔ اب یہ بات الگ ہے کہ آپ نے پڑھے نہ ہوں، کیونکہ آپ کو موسمی پرندوں نے گھیر رکھا تھا،اب وہ چڑیاں ''کھیت'' کو چگ کر شاید ادھر ادھر ہونے لگی ہوں، اس لیے چوتھی کوشش کر رہا ہوں۔ ابتداء اس شعر سے کر رہا ہوں کہ
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
انتخابات میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے۔ یہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس وقت جس بات پر رونا آ رہا ہے اور رونا چاہیے بھی، کیونکہ یہ حادثہ اتنا ہی بڑا حادثہ ہے اور اس پر اتنے ہی نوحے لکھنے چاہیں جتنے کہ یروشلم کی تباہی، بابل کے انہدام، بغداد کے سقوط اور اندلس سے مسلمانوں کے انخلاء پر لکھے گئے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ، کیونکہ وہ تو شہر تباہ ہوئے تھے اور شہر پھر بھی آباد کیے جا سکتے ہیں لیکن کوئی نظریہ ،کوئی تحریک اور کوئی قوم تباہ ہو جائے تو اس کی تعمیر نو اگر ناممکن نہیں تو ناممکن کی حد تک مشکل ہو جاتی ہے، دیواریں اگر گر جاتی ہیں تو دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، لکڑی کا برتن ٹوٹ جائے تو مرمت ممکن ہو سکتی ہے، دولت، جائیداد اور سرمایہ چھن جائے تو دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اگر دل ٹوٹ جائے تو دوبارہ جوڑنا ممکن نہیں ہوتا۔
زڑہ ملغلرہ دہ چہ مات شی
د جوہری پہ دکان نہ خوری بیدونہ
(دل ایک ہیرا ایک موتی ہے ٹوٹ جائے تو دنیا میں کسی جوہری کی ایسی دکان نہیں جہاں اسے دوبارہ ثابت و سالم کیا جا سکے) دل ہی کی طرح ایک گھر، ایک خاندان بھی ہوتا ہے جو صرف چار دیواری کا نام نہیں بلکہ رشتوں کے بندھن اور محبت کے رشتوں کا نام ہے، آپ کو احساس ہو نہ ہو لیکن آپ نے الیکشن نہیں ہارا، الیکشن کے کھیل میں ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، آج تم کل ہماری باری کا تسلسل ہوتا ہے لیکن آپ نے الیکشن نہیں ایک پوری قوم ہاری ہے۔ ایک پوری تحریک ہاری ہے ۔کئی نسلوں کی محنت ہاری ہے۔ ذرا دوبارہ غور فرمایئے پنجاب نہیں ہارا ہے، سندھ نہیں ہارا ہے، بلوچستان بھی نہیں ہارا ہے، اگر ہارا ہے تو پختون خوا ہارا ہے، پختون ہارا ہے، باچا خان ہارا ہے، ولی خان ہارا ہے، خدائی خدمت گار ہارے ہیں، دوبارہ یاد دلاؤں میں الیکشن کی بات نہیں کر رہا ہوں کیونکہ جو لوگ جیتے ہیں، وہ بھی پختون ہیں، پاکستانی ہیں اور اس دیس کے فرزند ہیں بلکہ اس رجحان کی بات کر رہا ہوں جس کا مظاہرہ ہوا ہے اور ایسا بھی نہیں کہ آپ کو کسی نے خبردار نہیں کیا۔
پہلی غلطی تو اس وقت ہوئی جب منجھے ہوئے تجربہ کار اور ایثار پیشہ بزرگوں کو نظر انداز کر کے ایک ''بچے'' کو اس گھر کا سربراہ بنایا گیا ، یہکسی بھی رو سے جائز نہیں کہ بزرگوں اور فہم و فراست تجربہ اور قربانیوں کا ریکارڈ رکھنے والوں کے کاندھوں پر کسی چھوٹے کو سوار کیا جائے ۔آخر کس بنیاد پر؟ کوئی ایک بھی ایسی وجہ بتائی جا سکتی ہے کے مقابلے اس کے کریڈٹ میں جاتی ہو، ہاں ایک وجہ ہے جو کھنیچ تان کر بلکہ قطعی سینہ زوری اور بے ایمانی سے اس کے لیے تراشی گئی تھی کہ وہ ایک عظیم خدائی خدمت گار کا پوتا تھا، ایک ایسے عظیم خدائی خدمت گار کا پوتا جو باچا خان کے ساتھ قدم قدم پر ہر مصیبت اور صعوبت میں شامل اور ثابت قدم رہا تھا، اس کی عظمت میں کسی کو بھی کلام نہیں، لیکن تیسری نسل ضروری نہیں کہ پہلی نسل کا تسلسل ہو، لالہ امیر محمد خان ہوتی کی نسل کی ساری برکت اس کی اولاد نرینہ میں نہیں بلکہ بیٹی میں چلی گئی تھی، وہ بیٹی جس نے شوہر کے اسیر ہونے پر چادر اوڑھی اور گھر سے نکلی۔
الزامات کے کتنے تیر چلے، رکاٹوں کی کتنی کھائیاں عبور کرنا پڑیں، قدم قدم پر ایک آگ کا دریا اس نے پار کیا اور ڈوب کے چلتی گئی، غیروں اور بظاہر اپنوں نے ناک بھوں چڑھائے لیکن اس نے ثابت کیا کہ وہ لالہ امیر محمد خان کی بیٹی، باچا خان کی بہو اور ولی خان کی بیوی ہے اور ٹھیک اسی وقت جب وہ میدان میں مردانہ وار کھڑی خاتون آہن اور مور بی بی کا کردار نبھا رہی تھی اور یہ ٹپہ الاپ رہی تھی کہ
کہ زلمونہ پورہ نہ شوہ
فخر افغانہ جینکئی بد دے گٹینہ
ٹھیک ان ہی دنوں میں اس کا بھائی لالہ امیر محمد خان کا نرینہ جانشین افغانستان میں وہاں کی شاہی حکومت کا مہمان بنا ہوا تھا، لیکن جب حالات سازگار ہوئے تو وہ واپس آ گیا اور خاتون آہن کو آہستہ آہستہ دیوار کی طرف دھکیلا جانے لگا کیونکہ میل اورینٹڈ معاشرے میں اس کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بچی تھی، صرف وہ ہی نہیں بلکہ ایک اور مرد آہن کو بھی مٹی کا ڈھیر بنایا جانے لگا۔ اجمل خٹک جس نے ایسا کوئی تھانہ نہیں چھوڑا جہاں تشدد نہ جھیلا ہو، پھر ڈالر کا کھیل شروع ہوگیا۔ پھر روس اور امریکا کی باہمی جنگ کو دنیا جہاں سے کھینچ کر پختونوں کے گھر کی جنگ بنا دیا گیا۔ افغانستان کے بڑے بڑے جبہ و دستار والے ملائے شور بازار کے جانشین دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے اور اس کے بدلے میں پختونوں کو اس بھٹی کا ایندھن بنانے لگے، جس سے امریکا اپنا پکوان پکا رہا تھا۔
پکوان پک گیا روس ختم ہو گیا، امریکا الگ سے اپنے صفا چٹ ہونٹوں پر فرضی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا کہ چوہا میں نے مارا۔۔۔ ڈالری مجاہد الگ سے مونچھوں کو تاؤ دے رہے تھے کہ دیکھا ہم نے ''اسلام'' کے زور سے کتنا بڑا ہاتھی جتنا چوہا مار ڈالا، حالانکہ چوہا کسی نے نہیں مارا تھا بلکہ اپنے پیٹ کے کیڑوں سے خودبخود قدرتی موت مرا تھا ، اب اس کہانی میں یہ ٹؤسٹ آیا کہ امریکا نے میدان کو خالی دیکھا تو فوراً جان لیا کہ اب تو لنگر لنگوٹ کھول کر جانا پڑے گا جب جانا اس کے مفاد میں نہیں تھا، اس لیے فوراً ڈالر نے جلوہ دکھایا جو دوست تھے، انھیں دشمن کے منصب پر فائز کر دیا گیا، اس موقع پر اکثر نام نہاد دانشور یہ فلسفہ بگھارتے ہیں کہ امریکا نے اپنے ڈالروں سے جو سانپ پالا تھا، وہ اس کے گلے میں پڑ گیا، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ امریکا ہندوؤں کا شیو دیوتا ہے، مہا دیو ہے اور اس کا گلا کبھی سانپ سے آزاد نہیں ہوتا، دنیا کے ہر پسندیدہ مقام پر موجودگی کے لیے اسے ہمیشہ ایک دشمن کی ضرورت رہتی ہے، روس مر گیا اب اگر دشمن نہ رہے تو اسے یہاں رہنے کے لیے کوئی سا بہانہ تراشنا پڑے گا چنانچہ حسب معمول حسب روایت اور حسب تاریخ ہر عسکریت پرست کی طرح اس نے بھی کل کے دوستوں کو دشمن کے منصب پر فائز کر دیا۔
اسامہ کون تھا ،کب پکڑا گیا، کب مارا گیا، اس کا کسی کو علم نہیں کیونکہ معلومات کے تمام پائپ جا کر اس ٹینکی سے ملتے ہیں جو امریکا کے ''غور کا حوض'' ہے، اس جدید تر دنیا میں کچھ بھی ممکن ہے، لیکن اس سارے عمل میں ایک کمزوری یہ رہی کہ امریکا نے جو نیا دشمن طالبان کے نام پر تراشا تھا، تخلیق کیا تھا، پالا پوسا تھا، اس کا مقابلہ اور نشانہ براہ راست امریکا تھا یا پھر ۔۔۔۔ اور اس میں ایک بڑا خطرہ تھا کہ آخر کب تک ؟ امریکا کے سامنے اس جنگ کو اپنے میدان سے نکال کر پاکستانی عوام کے میدان میں لانا تھا، ادھر ایک اقتدار کی دیوانی چلی ادھر اقتدار کے برسوں سے بھوکے پختون یا اے این پی والے میدان میں اتارے گئے اور جب ٹاسک پورا ہو گیا اے این پی کی صفیں الٹ پلٹ کر دی گئیں۔ باچا خان اور ولی خان کے اصلی حامی جن کا جزو ایمان ''عدم تشدد'' تھا، دیوار سے لگا دیے گئے، پیچھے دھکیل دیے گئے ۔باچا خان اور ولی خان کے وارث کو رکھنا ضروری تھا ورنہ آپ بھی اجمل خٹک اور بیگم نسیم کی طرح کنا رے لگ چکے ہوتے، آپ کو رکھا گیا لیکن بہت دور تا کہ آپ اپنے خدائی خدمت گاروں کی چیخیں نہ سن سکیں، پتہ نہیں اب بھی آپ کی آنکھیں اور کان کھلے یا نہیں ... اگر نہیں تو باہر نکلیے اور اصل خدائی خدمت گاروں کی سنئے جو اب بھی آپ کے خاندان کے پاس ہیں۔