امریکی ڈالر کے 108 روپے تک نیچے آنے کی پیش گوئی

اقتدارکی تبدیلی سے اعتمادبحال،نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے بعد ریٹ مزیدنیچے آئے گا

منگل کوبینکوں کے درمیان ٹریڈنگ میں روپے کی قدر0.70 فیصد ریکور،اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید 50 پیسے کی کمی سے122.50روپے کا ہوگیا فوٹو: سوشل میڈیا

پاکستانی روہے نے منگل کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کو اپنے دباؤ میں رکھا انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 86 پیسے کی کمی سے 124 روپے18 پیسے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدرمزید 50 پیسے کی کمی سے 122 روہے50 پیسے پر بند ہوئی اس طرح سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت انٹربینک مارکیٹ کے مقابلے میں 1 روپے 68 پیسے کم ہوگئی ہے۔


کرنسی مارکیٹ کے باخبرذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا تسلسل جاری رہے گا کیونکہ ڈالرودیگراہم غیرملکی کرنسیوں کی تجارت میں متحرک سرمایہ کاروں کے پاس امریکی ڈالر کے وسیع ذخائر موجود ہیں جنہیں وہ قدرمیں ممکنہ طور پر مزید کمی کے خطرات کے پیش نظر آف لوڈ کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں بی کٹیگری ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے صدر حنیف گوہر نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے پیشگوئی کی کہ نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے بعد ڈالر کی قدر بتدریج گھٹتے گھٹتے 108 روپے پر آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے حلف اٹھانے سے قبل ہی مقامی اور عالمی سطح پر اعتماد بڑھنے کے بعد پاکستان بھر میں لوگ امریکی ڈالر فروخت کرنے نکل پڑے ہیں لیکن اوپن مارکیٹ میں مطلوبہ سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈالرکے فروخت کنندگان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، اس دوران فروخت کنندگان کوجوبھی قیمت مل رہی ہے وہ ڈالر فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متوقع وزیرخزانہ اسد عمر نے معیشت کی بحالی کے لیے پہلے سے ہی تیاری مکمل کرلی ہے، عوام کو یہ اعتماد ہے کہ جوں ہی نئی حکومت حلف اٹھائے گی ڈالر مزید گھٹ کر108 روپے کی سطح پر آجائے گا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قدر انٹربینک سے کم ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2 ہفتے قبل تک جن مارکیٹ پلیئرزنے مہنگے داموں ڈالر کی خریداری کی تھی وہ اپنے آپ کو بھاری نقصانات سے بچانے کے لیے ڈالرفروخت کرنے سے گریز کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید اور فروخت کے درمیان نمایاں فرق دیکھا جارہا ہے۔
Load Next Story