خیبر پختونخوا فاٹا و پاٹا کیلیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کاامکان
بجٹ میں زیروریٹڈکے علاوہ دیگرشعبوں کی اشیاپربھی سیلزٹیکس چھوٹ واپس لے لی جائے گی.
غیرقانونی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ اورجعلی ریفنڈزپرکنٹرول سے20ارب کاریونیومل سکتاہے،دستاویز۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت خیبر پختونخوا اور فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ واپس لیے جانے کا امکان ہے جبکہ 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کے علاوہ دیگر شعبوں کی اشیا پر دی جانے والی سیلز ٹیکس کی چھوٹ بھی ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے تیار کردہ بجٹ کے ابتدائی خدوخال کے مطابق آئندہ بجٹ میں وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت خیبر پختونخوا اور فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ واپس لینے سے ایف بی آر کو 2ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا جبکہ تعیمراتی مٹیریل پردی جانے والی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت ختم کرنے سے ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ اسٹیل سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا جس سے ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا جبکہ شپ بریکرز سے قابل ٹیکس ریکوری کی شرح بڑھانے سے بھی ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان میں غیرقانونی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ اور ناقابل تسلیم، غیرقانونی و جعلی ریفنڈز 2سب سے بڑے مسائل ہیں، اگر ان مسائل پر قابو پالیا جائے تو ایف بی آر کو 20ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ دستاویز کے مطابق ایکسپورٹ کے لیے بڑے ان پٹ پر زیرو ریٹنگ ہونے کے باوجود ریفنڈ کلیمز میں 82 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں32 فیصد اضافہ ہوا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے تیار کردہ بجٹ کے ابتدائی خدوخال کے مطابق آئندہ بجٹ میں وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت خیبر پختونخوا اور فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ واپس لینے سے ایف بی آر کو 2ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا جبکہ تعیمراتی مٹیریل پردی جانے والی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت ختم کرنے سے ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ اسٹیل سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا جس سے ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا جبکہ شپ بریکرز سے قابل ٹیکس ریکوری کی شرح بڑھانے سے بھی ایف بی آر کو 1ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان میں غیرقانونی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ اور ناقابل تسلیم، غیرقانونی و جعلی ریفنڈز 2سب سے بڑے مسائل ہیں، اگر ان مسائل پر قابو پالیا جائے تو ایف بی آر کو 20ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ دستاویز کے مطابق ایکسپورٹ کے لیے بڑے ان پٹ پر زیرو ریٹنگ ہونے کے باوجود ریفنڈ کلیمز میں 82 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں32 فیصد اضافہ ہوا۔