اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے ٹرائل کا ریکارڈ طلب لاقانونیت نظر آرہی ہے سپریم کورٹ
2مئی کوسزاسنائی گئی،17مئی کودوبارہ پیشی ہوگی،وکیل استغاثہ،ایف سی آرکے تحت سزاپر اٹارنی جنرل معاونت کیلیے طلب
عدالت آکر سزا کامعلوم ہواہے، قیدی ڈاکٹرنیاز،آرٹیکل10اے کے تحت شفاف ٹرائل کویقینی بنایاجائے،چیف جسٹس افتخار چوہدری۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں کو فرنٹیئرکرائمز ریگولیشن (ایف سی آر)کے تحت سنائی گئی سزا پراٹارنی جنرل کاموقف طلب کیا ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے ٹرائل کیلیے مناسب طریقہ نہیں اپنایا گیا اور بادی النظر میں انھیں شفاف ٹرائل کاموقع نہیں دیا گیا۔اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں کے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی۔ فاٹا انتظامیہ نے7 قیدی محمد شفیق، گل روز، ڈاکٹر نیازاحمد، عبدالباسط،عبدالماجد، مظہر الحق اور شفیق الرحمن عدالت میں پیش کیے۔عدالت کوبتایاگیاکہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لوئراورکزئی ایجنسی نے عبدالماجداور عبدالباسط کو دھماکا خیز موادکے الزام میں تعزیرات پاکستان اور ایف سی آرکے تحت5 سال قید با مشقت اور جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ ڈاکٹرنیاز احمد،گل روز،مظہر الحق،محمد شفیق اور شفیق الرحمن کو2,2مرتبہ 14,14سال قید بامشقت اورایک ایک لاکھ روپیہ جرمانے کی سزا سنائی ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں3 سال قیدکی سزا بھگتنا ہوگی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ3 قیدیوںکو ہری پور اور4کو سینٹرل جیل پشاورمیںرکھا گیا ہے، انھیں 2 مئی کو سزا سنائی گئی۔ عدالت کے استفسار پراستغاثہ کے وکیل نے بتایاکہ انھیں پہلی مرتبہ4اپریل کواسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور آخری مرتبہ2 مئی کو پیشی ہوئی تاہم مزید سماعت17 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔ اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک طرف عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو2 مئی کو سزا سنائی گئی اور اب کہا جا رہاہے کہ17 مئی کو پھر پیشی ہوگی، کیا فیصلے سے پہلے سزا سنائی گئی ہے؟۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے عدالت کو بتایا کہ انھیں کسی عدالت یا پولیٹیکل ایجنٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اوربنوں، کوہاٹ اور پشاور جیل میں رکھاگیا، آج عدالت کے اندر معلوم ہوا کہ انھیں سزا ہوئی ہے۔وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایاکہ سب کا ٹرائل ایک ساتھ جیل کے اندر ہوا۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہاں تو قانون کے بجائے لاقانونیت نظر آرہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایک ساتھ ٹرائل کی تو قانون میںاجازت نہیں ہے۔ ریکارڈ میں موجود تضادکی بنیاد پر عدالت نے ٹرائل کاتمام ریکارڈ طلب کر لیا اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ عدالت کی معاونت کرییں۔مزید سماعت 20 مئی کو ہوگی۔
سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں کو فرنٹیئرکرائمز ریگولیشن (ایف سی آر)کے تحت سنائی گئی سزا پراٹارنی جنرل کاموقف طلب کیا ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے ٹرائل کیلیے مناسب طریقہ نہیں اپنایا گیا اور بادی النظر میں انھیں شفاف ٹرائل کاموقع نہیں دیا گیا۔اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں کے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی۔ فاٹا انتظامیہ نے7 قیدی محمد شفیق، گل روز، ڈاکٹر نیازاحمد، عبدالباسط،عبدالماجد، مظہر الحق اور شفیق الرحمن عدالت میں پیش کیے۔عدالت کوبتایاگیاکہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لوئراورکزئی ایجنسی نے عبدالماجداور عبدالباسط کو دھماکا خیز موادکے الزام میں تعزیرات پاکستان اور ایف سی آرکے تحت5 سال قید با مشقت اور جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ ڈاکٹرنیاز احمد،گل روز،مظہر الحق،محمد شفیق اور شفیق الرحمن کو2,2مرتبہ 14,14سال قید بامشقت اورایک ایک لاکھ روپیہ جرمانے کی سزا سنائی ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں3 سال قیدکی سزا بھگتنا ہوگی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ3 قیدیوںکو ہری پور اور4کو سینٹرل جیل پشاورمیںرکھا گیا ہے، انھیں 2 مئی کو سزا سنائی گئی۔ عدالت کے استفسار پراستغاثہ کے وکیل نے بتایاکہ انھیں پہلی مرتبہ4اپریل کواسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور آخری مرتبہ2 مئی کو پیشی ہوئی تاہم مزید سماعت17 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔ اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک طرف عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو2 مئی کو سزا سنائی گئی اور اب کہا جا رہاہے کہ17 مئی کو پھر پیشی ہوگی، کیا فیصلے سے پہلے سزا سنائی گئی ہے؟۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے عدالت کو بتایا کہ انھیں کسی عدالت یا پولیٹیکل ایجنٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اوربنوں، کوہاٹ اور پشاور جیل میں رکھاگیا، آج عدالت کے اندر معلوم ہوا کہ انھیں سزا ہوئی ہے۔وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایاکہ سب کا ٹرائل ایک ساتھ جیل کے اندر ہوا۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہاں تو قانون کے بجائے لاقانونیت نظر آرہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایک ساتھ ٹرائل کی تو قانون میںاجازت نہیں ہے۔ ریکارڈ میں موجود تضادکی بنیاد پر عدالت نے ٹرائل کاتمام ریکارڈ طلب کر لیا اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ عدالت کی معاونت کرییں۔مزید سماعت 20 مئی کو ہوگی۔