ڈیم ہماری ہدایت پر بن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان
دستیاب پانی زیراستعمال نہیں لائے،بھارت کاموقف ہے ہمیں پانی کی ضرورت نہیں،کون ہیں جنھوں نے ڈیم نہ بننے دیے، ریمارکس
این اے 60 میں ضمنی الیکشن کرانے کاحکم،آپ کی عظمت کوسلام،شیخ رشید،صدیق الفاروق کی نظرثانی درخواست خارج۔ فوٹو:فائل
سپریم کورٹ نے پانی کے استعمال کے طریقہ کارکیلیے تجاویز طلب کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت تجاویز بنا کر لا اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات کی شکل میں حکومت کو بھیج دے گی تاہم اس بارے میں قانون بنانا حکومت کا کام ہے۔
کٹاس راج مندر میں پانی کا تالاب خشک ہونے کے بارے میں ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانی کی قلت کے بارے میں معاملہ سیمنٹ فیکٹریوں سے الگ کر دیا جبکہ کمشنر واٹرکمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سینئروکلامخدوم علی خان اور سلمان بٹ کو عدالتی معاون مقررکر دیا اورانھیں پانی کے استعمال کا طریقہ کار وضع کرنے کیلیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس نے کہا ہم نے ڈیم بنانے ہیں،ڈیم ہماری ہدایت پر بن رہے ہیں لیکن بنانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ فنڈزکا غلط استعمال نہیں ہونے دیںگے،ایک ایک پیسہ کی نگرانی کریںگے اور فنڈز استعمال کا ضابطہ کار جاری کریں گے۔عدالت نے ڈی جی سیمنٹ اور بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو پانی ذخیرہ کرنے کیلیے تالاب بنانے کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پرکارروائی نہ کرنے پر پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے جواب طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دستیاب پانی کو زیر استعمال نہ لانے کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے کراچی کی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات مستردکرکے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد درخواست سماعت کیلیے مقررکرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے پی پی ایل کی بیرون ملک سرمایہ کاری میں بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمہ میں وزارت پٹرولیم اور پی پی ایل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا ۔سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 60 میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کوکالعدم قرار دے دیااور حکم دیا کہ مذکورہ نشست پر ضمنی انتخاب وقت پر ہونے چاہئیں۔
دوران سماعت شیخ رشید اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا ،شیخ رشید نے کہاکہ انتخابات کے کامیاب انعقاد پر آپ کی عظمت سلام پیش کرتا ہوں ۔چیف جسٹس نے کہا آپ سلام پیش کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں میں شیخ رشید سے ملا ہوا ہوں، شیخ رشید نے برجستہ جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ نہیں قوم کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے بلوچستان میں نجی کمپنی کے موبائل فون ٹاور پر فائرنگ سے شہید ہونے والے پنجاب کے6 مزدوروں کے ورثا کو معاوضے سے متعلق کیس کی سماعت گست کے آخری ہفتہ تک ملتوی کردی۔
کٹاس راج مندر میں پانی کا تالاب خشک ہونے کے بارے میں ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانی کی قلت کے بارے میں معاملہ سیمنٹ فیکٹریوں سے الگ کر دیا جبکہ کمشنر واٹرکمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سینئروکلامخدوم علی خان اور سلمان بٹ کو عدالتی معاون مقررکر دیا اورانھیں پانی کے استعمال کا طریقہ کار وضع کرنے کیلیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس نے کہا ہم نے ڈیم بنانے ہیں،ڈیم ہماری ہدایت پر بن رہے ہیں لیکن بنانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ فنڈزکا غلط استعمال نہیں ہونے دیںگے،ایک ایک پیسہ کی نگرانی کریںگے اور فنڈز استعمال کا ضابطہ کار جاری کریں گے۔عدالت نے ڈی جی سیمنٹ اور بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو پانی ذخیرہ کرنے کیلیے تالاب بنانے کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پرکارروائی نہ کرنے پر پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے جواب طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دستیاب پانی کو زیر استعمال نہ لانے کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے کراچی کی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات مستردکرکے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد درخواست سماعت کیلیے مقررکرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے پی پی ایل کی بیرون ملک سرمایہ کاری میں بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمہ میں وزارت پٹرولیم اور پی پی ایل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا ۔سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 60 میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کوکالعدم قرار دے دیااور حکم دیا کہ مذکورہ نشست پر ضمنی انتخاب وقت پر ہونے چاہئیں۔
دوران سماعت شیخ رشید اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا ،شیخ رشید نے کہاکہ انتخابات کے کامیاب انعقاد پر آپ کی عظمت سلام پیش کرتا ہوں ۔چیف جسٹس نے کہا آپ سلام پیش کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں میں شیخ رشید سے ملا ہوا ہوں، شیخ رشید نے برجستہ جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ نہیں قوم کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے بلوچستان میں نجی کمپنی کے موبائل فون ٹاور پر فائرنگ سے شہید ہونے والے پنجاب کے6 مزدوروں کے ورثا کو معاوضے سے متعلق کیس کی سماعت گست کے آخری ہفتہ تک ملتوی کردی۔