نالے سے ملنے والی لاش کا معمہ حل پڑوسن قاتل نکلی

22سالہ فیصل کو شہناز خیبرپختونخوا سے لائی، ساتھیوں کی مدد سے قتل کیا

شہنازکی نشاندہی پر نظار خان اور انور شبیر کو گرفتار کیا گیا،بوٹ بیسن پولیس۔ فوٹو: فائل

ایک سال قبل نالے سے 22سالہ لڑکے کی ملنے والی لاش کا معمہ حل ہوگیا۔

پڑوسن کے پی کے سے 22سالہ فیصل کو کراچی لائی اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گولی مار کر قتل کرکے لاش نالے میں پھینک دی تھی، تھانہ قائد آباد پولیس قتل کا معمہ حل کرنے میں ناکام ہوگئی۔ بوٹ بیسن پولیس نے معمہ حل کرکے خاتون سمیت 3ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا۔

جمعرات کو تھانہ بوٹ بیسن پولیس نے قتل کے الزام میں گرفتار مسماۃ شہناز ، انور شبیر ، نظار خان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر آصف میر کے روبرو پیش کیا،اس موقع پر پولیس نے عدالت کو بتایا کہ دو اگست2017کو قائد آباد کے علاقے میں واقع گلشن بونیر احسان گراؤنڈ کے قریب نالے سے22سالہ لڑکے کی پلاسٹک کے تھیلے میں بوری بند لاش ملی تھی،پوسٹ مارٹم کے بعد رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مقتول کے سر پر گولی مار کرقتل کیاگیا تھا۔


لاش کو لاوارث قرار دیکر سرد خانے میں رکھوایا گیا تھا، بعدازاں ڈی این اے کے نمونے حاصل کرکے اسے دفنا دیا گیا اور پولیس کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

چند ماہ قبل مکمل شاہ نامی شخص نے تھانہ قائد آباد میں درخواست دی تھی کہ اس کا بیٹا گم ہوگیا ہے جس پر اسے مقتول کیتصویردکھائی گئی جو کہ نہایت مسخ شدہ تھی جس پر اس نے شک ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ لاش اس کے بیٹے کی ہو بعدازاں اسے ڈی این اے کیلیے خون کے نمونے مانگے چونکہ وہ گاؤں جارہا تھا جس پر اس نے کہاکہ گاؤں سے واپس آکر ڈی این اے کیلیے خون کے نمونے دوں گا اسی اثنا میں ایس ایس پی نے مقدمے کی تفتیش تھانہ بوٹ بیسن منتقل کردی تھی۔

پولیس نے مکمل شاہ کو کے پی کے سے بلواکر خون کے نمونے حاصل کیے جو کہ مقتول کے ڈی این اے سے میچ کرگئے تھے ،مکمل شاہ نے بتایا کہ اسے گاؤں میں بتایا کہ اسکی پڑوسن شہناز 15جولائی 2017 کواس کے بیٹے فیصل کو کراچی لائی تھی پولیس نے چھاپہ مار کر شہناز اور اس کی نشاندہی پر نظار خان اور انور شبیر کو گرفتار کیا، ملزمان سے آلہ قتل اور تحقیقات کرنی ہے۔

پولیس نے 14روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے 4اگست تک ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے،ملزمان کے خلاف تھانہ قائد آباد میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔
Load Next Story