غیر معیاری پانی بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

سرکاری اسپتالوں میں پانی کی فراہمی کے ٹھیکوں کی تفصیل اور پانی کے نمونے حاصل کیے جائیں، واٹر کمیشن

سیوریج ملی لائن کا پانی فلٹر کرکے فروخت کیا جارہا ہے، کمپنیوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟امیر ہانی مسلم۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سپریم کورٹ کے حکم پر قائم واٹر کمیشن نے غیر معیاری اور جعلی منرل واٹر کی فروخت سے متعلق بغیر لائسنس کے کام کرنے والی کمپنیوں کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کا حکم دیدیا،ایک ہفتے میں ٹھیکے منسوخ نہ کیے گئے تو محکمہ صحت سمیت دیگر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ڈی جی پی ایس کیو سی اے کو کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، سانگھڑ، جامشورو، بدین اور ٹھٹھہ و دیگر اضلاع کے سرکاری اسپتالوں سے بھی پانی کے نمونے حاصل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری صحت سے سرکاری اسپتالوں میں پانی کی فراہمی کے ٹھیکوں کی تفصیل طلب کرلی۔

ہائیکورٹ میں سپریم کورٹ کے حکم پر قائم واٹر کمیشن کی کارروائی جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوئی، کمیشن میں غیر معیاری اور جعلی منرل واٹر کی فروخت سے متعلق کارروائی ہوئی۔ڈی جی پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی عبد العلیم میمن پیش ہوئے، کمیشن نے استفسار کیا کہ کتنی کمپنیاں منرل واٹر فروخت کررہی ہیں؟ جعلی اور غیر معیاری منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟

ڈی جی پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی عبد العلیم میمن نے بتایا کہ بغیر لائسنس والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ جو انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں انھیں صرف 3 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو تو جیلوں میں ڈالنا چاہیے۔

کمیشن نے ریمارکس میں کہا کہ نواب شاہ اسپتال میں فراہم کیا جانے والا پانی پینے کے قابل نہیں، ڈی جی پی کیو ایس سی اے نے بتایا ہم نواب شاہ میں پانی کی 3 فیکٹریاں سیل کرچکے ہیں، ڈی جی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا فلٹر شدہ پانی کی فروخت کیلیے 250 لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں منرل کے نام پر ''بوٹل ڈرنکنگ واٹر'' فروخت کیا جارہا ہے۔


ماہر ماحولیات ڈاکٹر غلام مرتضی نے بتایا کراچی میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ پلانٹس موجود ہیں، رپورٹ کے مطابق لوگوں نے دکانوں اور گھروں میں فلٹرپانی کیلیے پلانٹس لگائے ہوئے ہیں۔

پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق نواب شاہ میں غیر معیاری فلٹر شدہ پانی فروخت کرنے والی تین کمپنیاں بند کردی گئیں، سکھر میں لائسنس کے بغیر فلٹر پانی کی فروخت پر کمیشن نے شدید برہمی کا اظہار کیا، جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے ریماکس دیے کہ لائسنس کے بغیر کوئی فلٹر شدہ پانی فروخت نہیں کرسکتا۔ غیر معیاری پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کا لائسنس بھی منسوخ کیا جائے،کمیشن نے ریمارکس دیے کہ گٹر اور سیوریج ملا لائن کا پانی فلٹر کرکے فروخت کیا جارہا ہے،آپ لوگوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں، سکھر کے فلٹر پلانٹ مالک نے استدعا کی ایک ہفتہ کی مہلت مل جائے تو معاملات ٹھیک کرلیں گے۔

کمیشن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک منٹ کی بھی مہلت نہیں ملے گی، لوگوں کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم پی ایس کیو سی اے کو مختلف اسپتالوں کا پانی ٹیسٹ کرنے کا حکم دیدیا، پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق نواب شاہ میں ''پیو جیو''، ''ایکوا حیات'' اور '' صدیق '' نامی کمپنیاں سیِل کردی گئی ہیں۔

کمیشن نے جعلی اور غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کی جانب سے پانی کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ بغیر لائسنس کی کمپنیوں کو نواب شاپ اسپتال میں پانی فراہمی کا ٹھیکہ دینا تشویشناک ہے، جسٹس امیر ہانی مسلم نے ڈی جی پی ایس کیو سی اے کو کراچی، حیدرآباد ، لاڑکانہ، سکھر اور دیگر اضلاع میں سرکاری اسپتالوں سے پانی کے نمونے حاصل کرنے کا حکم دیدیا۔

کمیشن نے حکم دیا کہ جیکب آباد، سانگھڑ، جامشورو، بدین اور ٹھٹھہ کے سرکاری اسپتالوں سے بھی پانی کے نمونے حاصل کیے جائیں،امیر ہانی مسلم نے سیکریٹری صحت سے سرکاری اسپتالوں میں پانی فراہمی کے ٹھیکوں کی تفصیل طلب کرلی۔

کمیشن نے ایک ہفتہ میں بغیرلائسنس کی کمپنیوں کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کا حکم دیدیا، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ایک ہفتہ میں ٹھیکہ منسوخ نہ کیا گیا تو محکمہ صحت، متعلقہ ایم ایس اور دیگر کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ ذمے داران کے خلاف کریمنل کارروائی کی جائے گی۔
Load Next Story