امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار

انٹربینک ریٹ 123.75 تک نیچے آکر13پیسے چڑھ گئے،کاروبارکا124.05 پر اختتام

اوپن مارکیٹ قیمت برقرار،لوگ زیادہ ریٹس کے باعث بینکوں کوڈالر بیچ رہے ہیں،ملک بوستان۔ فوٹو:فائل

KARACHI:
زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ رک گیا تاہم اتارچڑھاؤ جاری ہے۔

گزشتہ روز اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیرکسی تبدیلی کے 124 روپے پر مستحکم رہی البتہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 13 پیسے کے اضافے سے 124 روپے 5 پیسے کی سطح پر آگئی۔

انٹربینک میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قدر 123 روپے80 پیسے تھی جو ایک موقع پر گھٹ کر123 روپے75 پیسے تک آگئی لیکن کاروبار کے اختتام پر ڈالرکے انٹربینک ریٹ 124 روپے 5 پیسے پر بند ہوئے، اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت 121 روپے 45 پیسے تھی جو ایک موقع پر 123 روپے 50 پیسے پربھی آئی لیکن اختتام بغیر کسی تبدیلی کے 124 روپے پر ہوا، اس طرح سے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اوپن مارکیٹ کی نسبت 5 پیسے زائد ہوگئی ہے۔


فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں فروخت کنندگان کی تعداد انتہائی محدود ہو گئی ہے کیونکہ انٹربینک مارکیٹ میں اوپن مارکیٹ کی نسبت ڈالر کی قدر زیادہ ہے جس کی وجہ سے لوگ امریکی ڈالر بیچنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ کا رخ کررہے ہیں جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر یورو اور پاؤنڈ کے علاوہ دیگر غیرملکی کرنسیاں بیچنے والے رجوع کر رہے ہیں۔

ملک بوستان نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں جمعرات کو 30 لاکھ ڈالر کے مساوی دیگرکرنسیاں فروخت کے لیے آئیں۔ فروخت کنندگان کا انٹربینک مارکیٹ سے رجوع کرنے والوں کی تعداد بڑھنے سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی گھٹ گئی ہے۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات سے پاکستانی روپے کو استحکام ملا ہے جبکہ غیرقانونی منی چینجرز کی سرگرمیاں ختم ہوگئی ہیں، ملکی زرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے ذخائر بھی پاکستانی روپے کی قدر کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
Load Next Story