چین سے 1 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد موصول اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار

بیجنگ کی امدادپہنچنے پر سرکاری زرمبادلہ ذخائر1ارب34کروڑ ڈالر کے اضافے سے 10 ارب 35 کروڑ ڈالرتک پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک

سرکاری ذخائر2ماہ کی درآمدی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے،دباؤبرقراررہے گا،ماہرین۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے چین کی ہنگامی مدد آ پہنچی جس کے بعد سرکاری ذخائر 1ارب 34 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 10 ارب 34 کروڑ 97 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 27 جولائی کو ہفتے کے اختتام پر زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 17 ارب 7 کروڑ 97 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 1کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اضافے سے 6 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے، 27 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان کو سرکاری سطح پر1ارب 34 کروڑ ڈالر کی رقوم موصول ہوئیں۔


وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ چین سے ملنے والے 1ارب ڈالر کے قرضوں کی وجہ سے ہوا ہے، چین نے پاکستان کے گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر مستحکم کرنے کے لیے مزید 1ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ہفتے ملنے والے آفیشنل انفلوز میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 2018کے فنڈز شامل نہیں۔

ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے کیونکہ مجموعی ذخائر سے 2 ماہ کی درآمدی ضروریات بھی پوری نہیں ہوں گی، اس لیے دباؤ کم نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کو قرضوں کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں، ساتھ ہی درآمدی بل بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کرنٹ کاؤنٹ خسارہ 18ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ حالیہ چینی امداد ملنے باوجود جون 2017 کے مقابلے میںفی الوقت زرمبادلہ ذخائر 5 ارب 79 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کم ہیں۔
Load Next Story