ایران نے پاکستان کو بجلی فراہمی بند کر دی سینیٹ کمیٹی توانائی میں انکشاف
11ہزار سے زائد نادہند گان کیخلاف درخواستیں دیں، 54 ایف آئی آر کا اندراج ہو سکا، سیپکو
11ہزار سے زائد نادہند گان کیخلاف درخواستیں دیں، 54 ایف آئی آر کا اندراج ہو سکا، سیپکو۔ فوٹو:فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں پاور ڈویژن حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو بجلی سپلائی بند کر دی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس چیئرمین فدا محمد کی زیر صدارت ہوا، پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ میں بتایاکہ ایران میں گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی قلت پیداہوگئی جسے پورا کرنے کیلیے تہران نے دیگرممالک کو بجلی برآمد روک دی، ایران پاکستان کو 100 میگاواٹ بجلی سپلائی کرتا ہے اور یہ بجلی بلوچستان کے علاقوں گوادر،پنجگور،پسنی اور مکران سمیت اطراف میں تقسیم کی جاتی ہے۔ بجلی سپلائی نہ ہونے پر مولوی فیض محمدنے احتجاج کر تے ہوئے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا۔
اجلاس میں حکام نے مزید بتایا کہ کراچی الیکٹرک کو 650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے اوربجلی خرید و فروخت کے نئے معاہدے سے متعلق معاملات طے پا چکے، پاور ڈویژن کی جانب سے بتایاگیاکہ لاکھڑا پاور پلانٹ کے اب تک 12ارب روپے سے زائد لاسز ہوچکے،یہ پاورپلانٹ ناکارہ ہے اس کو چلانے کاکوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہورہا ہے، جس پرچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اس پلانٹ کو بحال کرانا چاہیے جس پر پاورڈویژن کے حکام کا کہنا تھا کہ ایساممکن ہے جس پر کمیٹی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن اور نیپرا کیساتھ ملکر اس پلانٹ کی بحالی پرغور کیاجائے گا۔
کمیٹی میں ایم ڈی نیسپاک نے بتایا کہ تین سے چار سو لوگ نیسپاک کے بیرون ملک جبکہ 5ہزار 323سے زائد اندرون ملک کام کررہے ہیں بیرون ممالک سے ریونیو میں 10فیصد تک کمی ہوئی، بجلی تقسیم کارکمپنی سیپکو نے کمیٹی کو بتایاکہ11ہزارسے زائد نادہندگان کیخلاف پولیس کو درخواستیں دیں لیکن 54ایف آئی آر کااندراج ہوسکا جس پر بورڈآف ڈائریکٹر کے اجلاس میں رینجرزکی مدد حاصل کرنے پرغور ہوا۔
سیپکو نے بتایا کہ اس وقت لوگوں کے ذمے واجب الاادا 83ارب روپے کے بل ہیں،جس پرکمیٹی نے کہاکہ گزشتہ کئی کئی سال سے نادہندگان چلے آر ہے ہیں ان کے بلوں کامعاملہ حل کرنے کیلیے کوئی طریقہ کا ر بنا یا جائے تاکہ یہ واجبات ختم ہوں،کمیٹی کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے چلے آرہے واجبات کو ختم کرنے کیلیے پاور ڈویژن کو لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کردی گئی۔
علاوہ ازیں سینیٹ کمیٹی استحقاق، قواعد و ضوابط نے وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم کے روٹ کے دوران شہریوں کیساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے نامناسب سلوک کا نوٹس لے لیا۔6 اگست کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیرداخلہ کو طلب کر لیاگیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس چیئرمین فدا محمد کی زیر صدارت ہوا، پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ میں بتایاکہ ایران میں گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی قلت پیداہوگئی جسے پورا کرنے کیلیے تہران نے دیگرممالک کو بجلی برآمد روک دی، ایران پاکستان کو 100 میگاواٹ بجلی سپلائی کرتا ہے اور یہ بجلی بلوچستان کے علاقوں گوادر،پنجگور،پسنی اور مکران سمیت اطراف میں تقسیم کی جاتی ہے۔ بجلی سپلائی نہ ہونے پر مولوی فیض محمدنے احتجاج کر تے ہوئے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا۔
اجلاس میں حکام نے مزید بتایا کہ کراچی الیکٹرک کو 650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے اوربجلی خرید و فروخت کے نئے معاہدے سے متعلق معاملات طے پا چکے، پاور ڈویژن کی جانب سے بتایاگیاکہ لاکھڑا پاور پلانٹ کے اب تک 12ارب روپے سے زائد لاسز ہوچکے،یہ پاورپلانٹ ناکارہ ہے اس کو چلانے کاکوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہورہا ہے، جس پرچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اس پلانٹ کو بحال کرانا چاہیے جس پر پاورڈویژن کے حکام کا کہنا تھا کہ ایساممکن ہے جس پر کمیٹی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن اور نیپرا کیساتھ ملکر اس پلانٹ کی بحالی پرغور کیاجائے گا۔
کمیٹی میں ایم ڈی نیسپاک نے بتایا کہ تین سے چار سو لوگ نیسپاک کے بیرون ملک جبکہ 5ہزار 323سے زائد اندرون ملک کام کررہے ہیں بیرون ممالک سے ریونیو میں 10فیصد تک کمی ہوئی، بجلی تقسیم کارکمپنی سیپکو نے کمیٹی کو بتایاکہ11ہزارسے زائد نادہندگان کیخلاف پولیس کو درخواستیں دیں لیکن 54ایف آئی آر کااندراج ہوسکا جس پر بورڈآف ڈائریکٹر کے اجلاس میں رینجرزکی مدد حاصل کرنے پرغور ہوا۔
سیپکو نے بتایا کہ اس وقت لوگوں کے ذمے واجب الاادا 83ارب روپے کے بل ہیں،جس پرکمیٹی نے کہاکہ گزشتہ کئی کئی سال سے نادہندگان چلے آر ہے ہیں ان کے بلوں کامعاملہ حل کرنے کیلیے کوئی طریقہ کا ر بنا یا جائے تاکہ یہ واجبات ختم ہوں،کمیٹی کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے چلے آرہے واجبات کو ختم کرنے کیلیے پاور ڈویژن کو لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کردی گئی۔
علاوہ ازیں سینیٹ کمیٹی استحقاق، قواعد و ضوابط نے وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم کے روٹ کے دوران شہریوں کیساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے نامناسب سلوک کا نوٹس لے لیا۔6 اگست کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیرداخلہ کو طلب کر لیاگیا۔