سرکاری ہائیڈرنٹس افسران اور واٹر مافیا کی کمائی کا ذریعہ بن گئے
معاہدے کے بر خلاف 10سے15ہزارگیلن کے ٹینکرزبکنے لگے،بڑے ٹینکرزسے پانی سپلائی کرنے کا مبینہ معاہدہ کیاگیا
ہائیڈرنٹ ٹھیکیداروں نے نوٹ دیکرافسران کے منہ بندکردیے ،واٹربورڈحکام خاموش،ٹھیکیدار شہریوں کا پانی بیچنے لگے۔ فوٹو: فائل
شہر کے قلت آب سے متاثرہ علاقوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے قائم سرکاری ہائیڈرنٹس افسران اور واٹر مافیا کے گٹھ جوڑ کے باعث مبینہ لوٹ مار کا ذریعہ بن گئے، معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 10ہزار سے 15ہزار گیلن کے ٹینکرز میں پانی کی فراہمی شروع کردی گئی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی میں قائم غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ساتھ ساتھ قانونی ہائیڈرنٹس بھی افسران کی لوٹ مار کا ذریعہ بن گئے ہیں، ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شعبہ ہائیڈرنٹس کے افسران کی مبینہ سرپرستی سے مقررہ اوقات سے زائد وقت تک ہائیڈرنٹس چلنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈنٹس سے بڑے ٹینکروں کے ذریعے پانی بھر کر کمرشل بنیاد پر فروخت کرنے کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے.
شہر میں کھلے عام 10 ہزار گیلن سے 15 ہزار گیلن گنجائش والے ہیوی واٹر ٹینکرز سڑکوں پر گھوم رہے ہیں جس سے نہ صرف شہر کی سڑکیں تباہ ہورہی ہیں بلکہ شہریوں کے پانی پر بھی ڈاکا ڈالا جارہا ہے، واٹر ہائیڈرنٹس چلانے والے ٹھیکیداروں سے تحریری معاہدہ کیا گیا تھا کہ وہ شہر میں زیادہ سے زیادہ 5 ہزار گیلن گنجائش والے ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کرسکیں گے تاہم اس معاہدے کے برعکس شہر کے تمام ہائیڈرنٹس پر کھلے عام 10 ہزار گیلن سے 15 ہزار گیلن گنجائش والے واٹر ٹینکرز میں پانی فروخت کیا جارہا ہے۔
ٹھیکیدار اور افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پہلے ہیوی ٹینکرز میں رات کے اوقات میں چوری چھپے پانی بھر کر فروخت کرتے تھے تاہم ہائیڈرنٹس سیل میں نئے آنے والے افسران کی سرپرستی میں ہیوی ٹینکرز سے دن بھر پانی فروخت کیا جارہا ہے، عدالت عظمیٰ نے ہائیڈرنٹس کے قیام کی اس لیے منظوری دی تھی کہ جن علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہے وہاں ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کیا جاسکے تاہم اس کے برعکس بڑے ٹینکروں میں پانی بھر کر شہریوں کا پانی کمرشل بنیاد پر فروخت کیا جارہا ہے۔
واٹر بورڈ کے سینئر افسران اور شہریوں نے تحقیقاتی اداروں سے اس سلسلے میں فوری نوٹس لینے اور کارروائی کی استدعاکی ہے ایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمود شیخ سے مذکورہ افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی میں قائم غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ساتھ ساتھ قانونی ہائیڈرنٹس بھی افسران کی لوٹ مار کا ذریعہ بن گئے ہیں، ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شعبہ ہائیڈرنٹس کے افسران کی مبینہ سرپرستی سے مقررہ اوقات سے زائد وقت تک ہائیڈرنٹس چلنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈنٹس سے بڑے ٹینکروں کے ذریعے پانی بھر کر کمرشل بنیاد پر فروخت کرنے کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے.
شہر میں کھلے عام 10 ہزار گیلن سے 15 ہزار گیلن گنجائش والے ہیوی واٹر ٹینکرز سڑکوں پر گھوم رہے ہیں جس سے نہ صرف شہر کی سڑکیں تباہ ہورہی ہیں بلکہ شہریوں کے پانی پر بھی ڈاکا ڈالا جارہا ہے، واٹر ہائیڈرنٹس چلانے والے ٹھیکیداروں سے تحریری معاہدہ کیا گیا تھا کہ وہ شہر میں زیادہ سے زیادہ 5 ہزار گیلن گنجائش والے ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کرسکیں گے تاہم اس معاہدے کے برعکس شہر کے تمام ہائیڈرنٹس پر کھلے عام 10 ہزار گیلن سے 15 ہزار گیلن گنجائش والے واٹر ٹینکرز میں پانی فروخت کیا جارہا ہے۔
ٹھیکیدار اور افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پہلے ہیوی ٹینکرز میں رات کے اوقات میں چوری چھپے پانی بھر کر فروخت کرتے تھے تاہم ہائیڈرنٹس سیل میں نئے آنے والے افسران کی سرپرستی میں ہیوی ٹینکرز سے دن بھر پانی فروخت کیا جارہا ہے، عدالت عظمیٰ نے ہائیڈرنٹس کے قیام کی اس لیے منظوری دی تھی کہ جن علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہے وہاں ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کیا جاسکے تاہم اس کے برعکس بڑے ٹینکروں میں پانی بھر کر شہریوں کا پانی کمرشل بنیاد پر فروخت کیا جارہا ہے۔
واٹر بورڈ کے سینئر افسران اور شہریوں نے تحقیقاتی اداروں سے اس سلسلے میں فوری نوٹس لینے اور کارروائی کی استدعاکی ہے ایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمود شیخ سے مذکورہ افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔